’ جی ڈی اے‘ نے بھی حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہونے کا عندیہ دے دیا، عمران خان کے لیے ایک اور مشکل کھڑی ہوگئی

2019 ,مئی 24



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان سے اتحادیوں اور پارٹی رہنماﺅں کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔نجی ٹی وی 24 نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے اتحادی الائنس جی ڈی اے کے ارکان کی بڑی تعداد نے وزیر اعظم سے ملنے سے صاف انکار کردیا۔ پیر صدرالدین راشدی، ارباب غلام رحیم، نصرت سحر عباسی اور نند کمار گوکلانی پر مشتمل وفد نے وزیر اعظم سے ملاقات کی تاہم کئی ارکان اس ملاقات میں شریک نہیں ہوئے۔ٹی وی چینل نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم سے پی ٹی آئی ارکان کی بڑی تعداد نے بھی ملاقات میں شرکت نہیں کی۔ حکومتی جماعت کے ارکان نے احتجاجاً وزیر اعظم سے ملاقات کرنے سے انکار کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم سے ملاقات میں جی ڈی اے نے حکومتی اتحاد سے الگ ہونے کی دھمکی بھی دی جبکہ پی ٹی آئی ارکان اور رہنما نے جی ڈی اے کے موقف کی حمایت کی۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں، اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں مدعو کیا گیا تو ضرور جاؤنگانئے پاکستان نے لوگوں کی چیخیں نکا ل دی ہیں، بلوچستان کے ساتھ ماضی جیساسلوک رکھا جارہا ہے، چھ نکات پر عمل درآمد نہیں ہوا، م کمال خان کو میں نے اپنا مشیر مقرر نہیں کیا وہ اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں،بلوچستان میں نئی پی ایس ڈی پی کی باتیں ہوررہی ہیں جو حال نئے پاکستان کا ہوا وہی حال نئی پی ایس ڈی پی کا ہوگا یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کے والد مرحوم میر عبدالمجید بزنجوکے انتقال پر بزنجو ہاؤس حب میں تعزیت کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، سردار اختر مینگل نے کہا کہ اگراپوزیشن نے اے پی سی میں بلایا تو ضرور جاؤنگاانہوں نے کہا کہ نئے پاکستان نے لوگوں کی چیخیں نکال دی ہیں حکومت نے ہمارے 6 نکات میں سے کسی ایک پربھی عملدرآمدنہیں کرایاانہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ایک سال کا ٹائم دیاتھا نوماہ گزرگئے کچھ نہیں ہوابلوچستان کے ساتھ ماضی جیسا روئیہ رکھا جارہا ہے ایک سوال کے جواب میں سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان والوں کو عیدقربان سے پہلے قربانی کا انتظار ہے بلوچستان حکومت کے اب دن گنے جاچکے ہیں بی این پی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں بلوچستان میں اپنا بھرپورکردارادا کریں گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو میرے کولیگ ہیں بجٹ منظور ی کے لئے ووٹ نہ دینے کے مشورے پر غور کروں گاجام کمال خان کو میں نے اپنا مشیر مقرر نہیں کیا وہ اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ہو یا سابقہ حکومتیں بلوچستان کے مسائل ان کی ترجیحات میں نہیں رہے ہیں بلکہ ان کی ترجیحات بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار رہی ہے اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان میں لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کے تجربات پہلے بھی کئے گئے جو ناکام ہوئے لیویز کو جدید خطوط پر استوار کرکے ان سے بہتر خدمات لی جاسکتی ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نئی پی ایس ڈی پی کی باتیں ہوررہی ہیں جو حال نئے پاکستان کا ہوا وہی حال نئی پی ایس ڈی پی کا ہوگا اُنہوں نے کہا کہ ڈالر کی اڑان نئے پاکستان کا تحفہ ہے،اس سے قبل انہوں نے میر عبدالقدوس بزنجو سے اُن کے مرحوم والد میر عبدالمجید بزنجو کی تعزیت و فاتحہ خوانی کی اور مرحوم کیلئے دعا مغفرت کی، یاد رہے کہ خبر یہ تھی کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں، اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں مدعو کیا گیا تو ضرور جاؤنگانئے پاکستان نے لوگوں کی چیخیں نکا ل دی ہیں، بلوچستان کے ساتھ ماضی جیسا سلوک رکھا جارہا ہے، چھ نکات پر عمل درآمد نہیں ہوا، م کمال خان کو میں نے اپنا مشیر مقرر نہیں کیا وہ اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں،بلوچستان میں نئی پی ایس ڈی پی کی باتیں ہوررہی ہیں جو حال نئے پاکستان کا ہوا وہی حال نئی پی ایس ڈی پی کا ہوگا، نئے پاکستان نے لوگوں کی چیخیں نکال دی ہیں حکومت نے ہمارے 6 نکات میں سے کسی ایک پربھی عملدرآمدنہیں کرایا، اب مزید ساتھ چلنا کیسے ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں