عمران خان کے موت کو برداشت کرنے والے بیان کے بعد بلاول بھٹو کا دبنگ بیان سامنے آ گیا

2019 ,جولائی 7



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) اے پی سی میں کیے گئے فیصلے کے مطابق سبھی سیاسی پارٹیوں نے ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ مریم نواز بھی ایک کے بعد ایک جلسہ کر رہی جب کہ بلاول بھٹو بھی مختلف حلقوں میں جلسے کر رہا ہے اوران جلسوں میں حکومت پر کڑی تنقید کی جارہی ہے ۔گزشتہ روز بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جو دکھ خیبر پختونخوا اور فاٹا کے عوام نے برداشت کیا یہ دکھ صرف میں سمجھ سکتا ہوں کیونکہ میں بھی اس آگ کے سمندر سے گزرا ہوں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے پیاروں کو ہم سے کیوں چھینا گیا اور ان کے قاتل کون ہیں؟ ہم کس کے ہاتھوں پر اپنے پیاروں کا لہو تلاش کریں؟ یہ سوال میرا حق ہے بے نظیر بھٹو کیس میں انصاف کب ملے گا؟انہوں نے ایک بار پھر الزام عائد کیا کہ دہشت گردوں کا سہولت کار آج وفاقی کابینہ میں بیٹھا ہے۔ان کا کہنا تھا کیا جرم دہشت گردی کے خلاف پارلیمان کو اکٹھا کرنا ہے؟ کیا ہمارا جرم یہ ہے کہ زرداری پہلی بار ایف سی آر میں ترمیم لے کر آئے؟ ہمارا جرم یہ 18 ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو حقوق دیئے؟چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ عمران خان نے حکومت حاصل کرنے کے لیے کیا کیا وعدے کیے اور عوام کو سبز باغ دکھائے، کیا 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں لوگوں کو مل گئی ہیں؟انہوں نے کہا عمران کہتے تھے کہ اوورسیز پاکستانی ڈالرز کی بارش کر دیں گے، عمران کے تمام نعرے کھوکھلے اور جھوٹ نکلے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کا عذاب ہے، صبح میں ڈالر، گیس و بجلی، سبزیوں کی قیمت کچھ اور شام میں کچھ اور ہوتی ہیں، یہ کیسا نیا پاکستان ہے جس میں غریب کی زندگی مشکل، تاجر کا کاروبار تباہ اور کسان بدحال ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان نے ملک کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے، دھاندلی زدہ، پی ٹی آئی ایم ایف کے بجٹ میں امیروں کے لیے ریلیف اور غریبوں کے لیے تکلیف ہے.

متعلقہ خبریں