سیاست میں انٹری ۔۔۔ سابق چیف جسٹس کے ایک اعلان نے بڑے بڑوں کی دوڑیں لگوا دیں

2019 ,فروری 24



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ان کا سیاست میں آنے کا کوئی اراداہ نہیں‘18ویں آئینی ترمیم بندکمروں میں کی گئی ‘اس پر پارلیمان میں کبھی بحث نہیں ہوئی. جسٹس(ر) ثاقب نثار نے کراچی میں کونسل آف فارن ریلیشنز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس سے پہلے بھی چیف جسٹس کی حیثیت سے متعدد مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ میرے کسی قسم کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں اور ساتھ ہی خواہش کا اظہار کیا کہ میری خواہش ہے کہ عوام کو مفت قانونی مدد فراہم کروں. انہوں نے کہا کہ وائٹ کالر جرائم کو پکڑنے کے لیے قانون کو اپ ڈیٹ کرنا پڑے گا، جرم سے ہمیں لڑنا ہوگا لوگوں کے حقوق کی پاسداری اور ملکی ترقی، یہ سب وطن سے محبت سے ہی ہوگی‘جو کچھ بھی ملا وہ اس ملک کی محبت کی وجہ سے ملا ہے ہم بہت دیر تک پاکستان کی محبت سے ناآشنا رہے. دریں اثناءصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم بند کمروں میں تیار کی گئی، اس پر پارلیمنٹ میں کبھی بحث نہیں کی گئی جبکہ اب 18ویں ترمیم میں آئین کے لحاظ سے بحث و مباحثہ چل رہا ہے. سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں سب سے سپریم ادارہ قانون ہے، قانون کو اپ گریڈ کرنے والے ادارے سے غفلت ہوئی، دنیا بھر میں قوانین کو ترقی دے کر ہی ترقی حاصل کی گئی. انہوں نے کہا کہ ایماندار قیادت سے اللہ نے قوموں کو ترقی دی ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مطابق ظلم کا معاشرہ نہیں چل سکتا جبکہ اللہ کے نبی حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری خطبے میں برابری کا سلوک اختیار کرنے کا کہا ہمارے دین سے زیادہ برابری کا قانون کسی اور مذہب میں نہیں، ہمیں عدل کرنے والے قاضی چاہیے ملک کی ترقی کے لیے عدل اہم ستون ہے. انہوں نے کہا کہ ملک کے لیے محبت کم ہوتی جارہی ہے پاکستان مفت یا کسی کی خیرات میں نہیں ملا ایک ریاست اور ایک ملک کے طور پر اللہ نے اس معاشرے کو نعمت بخشی ہے. سابق چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کی مقابلے میں بھارت کے ادارے مضبوط ہیں اور ساتھ ہی سوال کیا کہ کیا ملک میں قانون بنانے پر توجہ دی گئی؟انہوں نے کہا کہ کرپشن سے بچنے کے لیے احتساب کا عمل واضع ہونا چاہیے، عدل کے ساتھ کفالت کرنے والے معاشرے ہی ترقی کرتے ہیں. جبکہ دوسری جانب سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے سیاستدانوں کو خبردار کیا ہے کہ پاک بھارت کشیدہ حالات میں سوچ سمجھ کر بیان دیں، اگر پاک بھارت کشیدگی بڑھی تو پھرمجھے نہیں پتا کیا ہوگا؟ ملین مارچ کی باتیں، گلی گلی میں لڑائی شور، اب کرپشن میں نہیں آرٹیکل 6کے تحت گرفتاریوں کی تیاری ہورہی ہے، عزیز بلوچ کی جے آئی ٹی کی رپورٹ اتنی خطرناک ہے اس کو پبلک کرنے سے متعلق بھی عدالت فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرا م میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے امکانات ہیں، دفترخارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ لوگوں میں خوف وہراس نہ پھیلایا جائے لیکن اس کے باوجود جنگ کے شدید خطرات ہیں۔ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور واضح کہہ چکے کہ اگر پہلی گولی بھارت چلائے گا پھر جنگ ختم ہم کریں گے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر پاک بھارت کشیدگی بڑھی تو پھرمجھے نہیں پتا کیا ہوگا؟ مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں ملین مارچ کروں گا، خورشید شاہ ، آغا سراج درانی ،پھر گلی گلی میں لڑائی شور ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب کرپشن کے تحت گرفتاریوں کی تیاری نہیں ہورہی بلکہ آرٹیکل 6کے تحت گرفتاریوں کی تیاری ہورہی ہے۔اسی لیے سندھ ہائیکورٹ میں عزیز بلوچ کی جے آئی ٹی کی رپورٹ پیش کردی گئی ہے کہ اس رپورٹ کو پبلک کیا جائے یا نہ کیا جائے؟ ذرا سوچیں یہ جے آئی ٹی رپورٹ کتنی خطرناک ہوسکتی ہے، کہ اس پر عدالت فیصلہ کرے گی کہ اس کوپبلک کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اگر رپورٹ پبلک کردی گئی تو پھر ملک کی بڑی سیاسی شخصیات کرپشن میں نہیں بلکہ آرٹیکل 6کے تحت قتل وغارت ، غداری کے ذمرے میں گرفتار کی جائیں گی۔اسی طرح کلبھوشن کا جو معاملہ ہوا ہے اس پر بھی سوچا جا رہا ہے کہ گرفتاریاں کرپشن پر کی جائیں یا آرٹیکل 6کے تحت کی جائیں۔اس لیے سوچ سمجھ کر بیان بازی کی جائے۔ کیونکہ جب ملک کے اندر اور سرحدوں پر جنگ جاری ہو، تو پھر اس طرح کی چھوٹی چھوٹی چلاکیاں برداشت نہیں کی جاتیں ، پھر کہتے ہیں ان کو ادھر ہی دبڑ دوس کردو۔اب جیسا میڈیا پرپاک بھارت ٹاک شوز ہورہے ہیں اور گالیاں دی جاتی ہیں۔ میں نے 13سال پہلے2007ء میں ایسا ہی پہلا پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹاک شو پروگرام شروع کیا تھا۔

متعلقہ خبریں