مسجد ڈھا دے، مندر ڈھا دے، ڈھا دے جو کچھ ڈھیندا۔۔پر کسی کا دل نہ ڈھاویں، رب دلاں وچ رہندا ۔۔۔۔ اس شعر کا اصل مطلب کیا ہے؟ پڑھیے ایمان گرما دینے والی رپورٹ

2018 ,جنوری 20



لاہور(مہرماہ رپورٹ): بابا بُلھے شاہ کے اس مشہور و معروف شعر کو اکثر مس کوٹ کرتے سُنا اور دیکھا ہے۔ کچھ دوستوں سے اس بارے پوچھا بھی کہ آپ نے یہ جو شعر بابا بُلھے کا پنجابی زبان میں “کوٹ ” کیا ہے۔ مثلاً کسی کا دل نہ ڈھاویں سے کیا مراد ہے؟ مسجد مندر ڈھا دیویں کا کیا مطلب ہے؟ لیکن کوئی “تسلی بخش” جواب ندارد! اسی طرح کے کئی پوائنٹس آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی بڑی تیزی سے شیئر ہو رہے ہیں۔ اللہ ربُّ العزت کے بارے میں جو بات “قرآن وحدیث” کے مطالعے سے پتا چلتی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی “عرش” پر استوار ہے اور اُس کا اختیار، علم، حُکم اور طاقت ہر چیز پر حاوی ہے۔ “وہ آسمانوں اور زمین کا تنہا مالک ہے۔ ” “ذرّہ ذرّہ اس کے قبضہِ قدرت و اختیار میں ہے” “وہ ہر چیز سے با خبر ہے۔ ” “اُسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ ” “وہ ازل سے ہے اور تاابد رہے گا۔ ” “وہ خالقِ کائنات ہے۔ ” اور “وہ بادشاہوں کا شہنشاہ ہے۔ “اُس کا ہر “جگہ” موجود ہونے کا یہ مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ کسی کے دل میں بذات خود رہتا ہے، ورنہ یہ سوال ہو گا کہ اللہ تعالٰی ایک اکیلا ہے تو وہ ایک وقت میں کس طرح ہزاروں لاکھوں دلوں میں ایک ہی وقت میں موجود ہو سکتا ہے بلکہ “حاضر و ناظر” ہونے کا مطلب بھی یہی ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے، اس سے کوئی چیز اوجھل نہیں اور وہ “عرش” سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اللہ” ہمارے ساتھ” ہے تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے، وہ ہماری مدد کرے گا

اور ہماری مدد اِس وقت یا کسی بھی وقت اُس کی قدرت و اختیار میں ہے۔اسی طرح ” رب دلاں وچ وسدا ” کا مطلب بھی شاید “بابا بھلے شاہ” کے نزدیک یہ ہو کہ “وہ رب دلوں کے حال سے باخبر ہے۔ ” یا یہ مطلب ہے کہ “اللہ ربُّ العزت ہر لمحہ دِلوں کے حال سے باخبر ہے۔ ” اس لیے اگر کسی کا دل دُکھاؤ گے تو وہ ربِّ کریم کی ناراضگی کا سبب بنے گا۔اس کا ایک مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ بہت سارے دلوں میں اللہ کا ذکر اور اللہ کی یاد رہتی ہے، اللہ کے بندے ہر وقت اللہ کی حمد وثنا وغیرہ کرتے رہتے ہیں، تو ایسے دلوں کو آپ توڑیں گے، یعنی ان کی دل آزاری کریں گے تو یہ بات اللہ کی ناراضگی کا سبب بن جائے گی۔فیس بُک پر ہمارے کچھ سادہ لوح دوست تبلیغ اور ثوابِ کے حصول کی خاطر اکثر غیر مستند مواد، دھڑادھڑ شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔ کئی دفعہ ایسی حدیثیں بخاری اور مسلم شریف کے حوالے سے بھی شئیر ہوتے دیکھی ہیں اور تحقیق کی تو پتا چلا کہ اس طرح کی احادیث کا بخاری ومسلم شریف کی کتب میں سرے سے وجود ہی نہیں۔ اس بارے میں تو آپ علیہ السلام کا یہ فرمان ہر عام وخاص کو اپنے پلے سے باندھ لینا چاہیے، فرمایا:

“جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے”۔ (صحیح بخاری) العیاذُ باللہ! استغفر اللہ!کتنے سادہ دل ہیں ہم؟ کتنے ناوقف ہیں ہم اپنے دین سے؟ کبھی ہم “اللہ نبی ” کے مبارک ناموں کو جانورں کے جسم پر ڈھونڈتے ہیں، تو کبھی “بادلوں” سے لکھا ہوا فوٹو بنا کر غیر مسلموں پر یہ برتری ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیکھو اللہ کی شان ہے، سبحان اللہ، ماشاءاللہ!کبھی درختوں کی شاخوں سے “اللہ، محمد” لکھا ھوا ڈھونڈ لیتے ھیں، اسی طرح درختوں کے تنے کاٹنے سے بھی اچانک یہی مقدس نام نکل آتے ہیں، روٹیوں کے اُوپر، کسی فروٹ یا سبزی وغیرہ کی بناوٹوں میں ان ناموں کو ڈھونڈ لیا جاتا ہے اور سوشل میڈیا(فیس بک، ٹویٹر اور واٹس ایپ ) وغیرہ پر تو اسی طرز کی شیئرنگ سے جو ثواب کمایا جا رہا ہے اور جو اسلام کو پھیلانے کا سلسلہ بڑے زور و شور سے جاری ہے اس کے تو کیا ہی کہنے! اللہ اللہ!اللہ جانے مستقبلِ قریب میں شیئر کرنے والے اور نہ لائیک کرنے والوں کو کن کن فتؤوں کا سامنا کرنا پڑے۔ کئی سال پہلے اسی طرح کا ایک اور شوشہ بھی چھوڑا گیا تھا کہ دیکھو کس طرح “یہودی” عالم اسلام کے خلاف سرگرم ہیں۔

ایک صاحب کہنے لگے یہ جو “کوکا کولا ” کا سٹیکر ہے، بوتل پر چسپاں کیا ہوا، کو الٹا کر کے پڑھو یا کسی شیشے کے سامنے رکھ کر پڑھو تو اس کامطلب بنتا ہے، لا اللہ، لا محمد (معاذ اللہ، معاذ اللہ ) اسی لیے ہم اس کا بائیکاٹ کرتے ہیں کہ یہ ہمارے مذہب اور مقدس ہستیوں کی توہین ہے، لہٰذا ہمیں نہ اسے خریدنا ہے اور نہ پینا ہے۔ سبحان اللہ! کیا لاجک ہے؟ کیا دلائل ہیں ہمارے پاس؟ ہمارے اس شعور پر آفرین!حالانکہ، ہمیں یہی نہیں پتا کہ جس نے نہیں ماننا وہ تو ڈنکے کی چوٹ پر بھی کہتا ہے، جاؤ میں نہیں مانتا، اس کو کیا ضروت پڑی ہے کہ وہ چوری چھپے اس طرح کی حرکتیں کرتا پھرے؟ وہ تو سر عام مذاق اُڑاتے پھرتے ہیں۔ وہ ہم مسلمانوں سے کیوں ڈریں گے؟ ہماری طاقت ہی کتنی ہے؟ ہم نے اپنی ساری طاقت اور زور ان خرافات کی نذر کر دیا، جس علم کے باعث اُمت کا دبدبہ تھا، ڈنکا بجتا تھا وہ تو کب کا ہم چھوڑ چکے۔ اب ہر چیز میں تو، ہم ان کی بنی ہوئی ٹیکنالوجی کے قدم قدم پر محتاج ہیں۔آج ہمیں اپنی اداؤں پہ غور کرنا چاہیے، اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ آخر ہم نے کون سا تیر مار رکھا ہے؟

ہم نے اپنی جھوٹی انا کی تسکین، فضول اور لایعنی مباحثوں سے اس مذہِب کا جو حال کیا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ایک بات تو اب تک واضح ہو چکی ہے، کہ ہم اس حد تک کمزور اور پست ہو چکے ہیں کہ خاکے بنانے والوں کا اب تک بال بھی بیکا نہ کر سکے اور نہ ہی ان شعائر اسلام کا مذاق اُڑانے والوں کا کچھ بگاڑ سکے، سوائے چند ایک جُھوٹی جلی ہوئی تصویریں اس ٹائیپ کے لوگوں کی ایڈیٹ کر کے لگا دیتے ہیں کہ دیکھو اس نے یہ توہین کی تو اس کا جسم جل کر کوئلہ ہو گیا یا سر گدھے یا کتے کا ہو گیا، اور ساتھ میں لکھا ہوتا ہے کہ اللہ کے دشمن کو کیسے عذاب نے گھیر لیا اور دنیا کے لیے نشان عبرت بن گیا۔دل کے بہلانے کوغالب یہ خیال اچھا ہے۔ہم نے اسلام کے نام پر، توہینِ رسالت، توہینِ قرآن، وغیرہ کے الزامات عائد کر کے کتنے” بے گناہوں” کو اس ظلم کی بھینٹ چڑھایا۔ اپنی ذاتی رنجشوں اور چپقلشوں کا بدلہ توہین رسالت اور توہین مذہب کی آڑ میں نکلوایا اور نکلوا رہے ہیں۔ ہم نے ان “مقدس ناموں” کے نقش پا بنا کر اپنے گھروں میں لٹکا رکھے ہیں، اپنی پگڑیوں پہ نقشِ پا لگا رکھے ہیں

اور تو اور”نقش پا ” کے اوپر “اللہ اور نبی کے بابرکت نام” تک لکھوا رکھے ہیں۔ العیاذُ باللہ!اس “قرآن” کو جو”وے آف لائِیف” ہے، جو علوم کا خزانہ ہے، جسے اپنا کر “صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم” ایک بہت قلیل وقت میں دنیا کے سامنے “سُپر پاور ” کے طور اُبھرے اور “حق و انصاف” کا بول وبالا کیا، باطل کو دبنے پر مجبور کیا اور اپنے کردار سے اسلام کی سچائی کو ثابت کر دکھایا اور آج ہم نے اسے “تبرّک” کے طور پر گھروں اور طاقوں میں رکھا ہوا ہے یا گلے میں تعویذ بنا کر لٹکا رکھا ہے۔ہمیں یہود ونصاریٰ کی سازشوں نے کیا کہنا ہے؟ “ہم خود ہی بہت ہیں۔ ” کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ ” ہماری نیّتیں ہی شاید ٹھیک نہیں ہیں۔ ” الاَّ ماشاء اللہ!ہم اس اصلی اسلام کو اپنے آپ پر ہی نافذ کرنے سے خوف زدہ ہیں، بس اب یہ سب سازش سازش! بائیکاٹ بائیکاٹ کو بند کر کے ہمیں اپنے آپ سے مخلص ہونا ہو گا، اپنے سچے دین سے مخلص ہونا ہوگا، اپنی نیتوں میں اخلاص پیدا کرنا ہو گا۔ اپنی زندگیوں کے اوپر اس اسلام کے پیغام کو لاگو کرنا ہو گا، ہمیں اس فریب سے نکلنا ہو گا، ہمیں تعلیم حاصل کرنی ہو گی۔ ہمیں اس دین کو قرآن و سُنت کی روشنی میں سمجھنا ہو گا۔ ہمیں اپنے آپ کو اور اپنے اولاد کو صحیح اسلام کی روح سے روشناس کرانا ہو گا۔ ہمیں ان “خرافات” سے نکلنا ہو گا جن کا ہمارے اس دین سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔

متعلقہ خبریں