غریب عوام کی سنی گئی : وزیراعظم عمران خان نے اچانک ایسا اعلان کردیا کہ ہر کوئی دعائیں دینے لگا

2019 ,فروری 24



کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر اعظم عمران خان 8 مارچ کو تھر کا دورہ کریں گے ، وزیراعظم کی جانب سے تھر کے لیے خصوصی پیکج کا بھی اعلان گردیا گیا ہے ، اور اس دورے کے دوران وزیراعظم صحرائے تھر کے علاقے چھا چھرومیں جلسے سے خطاب بھی متوقع ہے۔ ۔پاکستان تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق وزیر اعظم 8 مارچ کوتھر کا دورہ کریں گے ، اس موقع پر وہ تھر کول منصوبے کا بھی معائنہ کریں گے ، وزیراعظم عمران خان کے اس دورے کے دوران صحرائے تھر کے علاقے چھاچھرومیں جلسے سے خطاب بھی متوقع ہے، جبکہ وزیراعظم عمران خان خصوصی طورپرتھرپیکج کا اعلان بھی کریں۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ انڈیا کو سوچنا چاہیے کہ پاکستان کو اس حملے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ، کوئی احمق بھی اس طرح کا واقعہ کرے گا اپنے آپ کو سبوتاژ کرنے کے لیے۔اگر آپ نے ماضی کے اندر پھنسے رہنا ہے اور جب بھی کشمیر میں کوئی سانحہ ہو تو پاکستان کو ہی ذمہ دار ٹھہرانا ہے۔۔۔ اس طرح تو ہم وپنگ بوائے بنے رہیں گے۔ انھوں نے یقین دلایا کہ اگر انڈیا اس واقعے میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کرتا ہے تو پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔ ’میں انڈیا کی حکومت کو پیشکش کر رہا ہوں۔ آپ تحقیقات کروانا چاہتے ہیں کہ کوئی پاکستانی اس میں ملوث تھا تو ہم تیار ہیں۔کوئی قابلِ کارروائی خفیہ اطلاعات ہیں کہ پاکستانی ملوث ہیں وہ ہمیں دیں میں آپ کو ضمانت دیتا ہوں۔ ہم ایکشن لیں گے اور اس لیے نہیں لیں گے ہم پر دباؤ ہے بلکہ اس لیے کہ ایسا کرنے والے ہم سے دشمنی کر رہے ہیں ، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر انڈیا پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو اسے ویسا ہی جواب ملے گا ، اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ پاکستان پر حملہ کریں گے تو پاکستان جوابی حملہ کرنے کا سوچے گا نہیں، جوابی حملہ کرے گا۔ پاکستان کے پاس جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا ، ان کا کہنا تھا کہ یہ انڈیا میں الیکشن کا سال ہے اور اس موقع پر ایسی باتیں کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم انھوں نے امید ظاہر کی کہ انڈین حکومت اس معاملے پر دانشمندانہ رویہ اپنائے گی اور حالات کو نہیں بگاڑے گی ، عمران خان نے کہا کہ ’سب جانتے ہیں کہ جنگ شروع کرنا آسان ہے لیکن جنگ ختم کرنا انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا ، عمران خان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان جب بھی انڈیا سے مذاکرات کی بات کرتا ہے تو انڈیا دہشت گردی کی بات کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ انڈیا کو پیشکش کر رہے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے معاملے پر بھی بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

متعلقہ خبریں