وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا صبر جواب دے گیا ، بھارت کو ایسا پیغام دے دیا کہ ٹرمپ بھی چکرا گئے

2019 ,فروری 24



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرخارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت یہ خیال اپنے دل سے نکال دے کہ پاکستان دباؤ میں آئیگا پاکستان امن پسند ملک ہے ، کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہا ہے اور بھارت کو واضح پیغام ہے کسی جارحیت کے نتیجے میں ہم پیچھے ہٹ جائیں گے . وزیرخارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان دباؤ میں آئیگا ، بھارت یہ خیال اپنے دل سے نکال دے ، پاکستان امن پسند ملک ہے ، کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہا ہے ، بھارت کو واضح پیغام ہے کہ کسی جارحیت کے نتیجے میں ہم پیچھے ہٹ جائیں گے ، ایسا سوچنا بھی مت ، پاکستانی قوم ایک مٹھی کی شکل اختیار کرچکی ہے ، انہوں نے آج یہاں تمام سابق سیکرٹریز خارجہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشیدگی کوختم کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن بھارتمقبوضہ کشمیر میں 10 فوجیوں کو بھیجا جا رہا ہے ، خوراک کا اضافی ذخیرہ بھیجا جا رہا ہے ، مطالبہ کرتا ہوں کہ معصوم کشمیریوں کا قتل عام بند کیا جائے ، کشمیری خوف میں مبتلا ہیں ، دکانیں بند بازار بند ہیں ، لوگوں کی جائیدادوں پر حملے کیے جا رہے ہیں ، سرچ آپریشن کیے جارہے ہیں ، درجنوں گرفتاریاں کی جارہی ہیں ، حریت لیڈرشپ کو کشمیر سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کیا جارہا ہے ، اب محبوبہ مفتی بھی کہتی ہیں کہ آپ سوچ کو قید نہیں کرسکتے ، انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی نسل ایک نئی نسل ہے۔ ان کے جذبات کو دبایا نہیں جاسکتا ، ہندوستان میں سوچ رکھنے والوں کو حکومت کو پیغام دینا چاہیے کہ پورے خطے کے امن کو داؤ پر نہ لگائیں ، انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک قیدی شاکر وہاں قید کاٹ رہا ہے لیکن وہاں قیدیوں نے اس پر حملے کردیے ، انہوں نے کہا کہ بی جے بی خطے میں جنونی رویہ ترک کرے ، پاکستان امن پسند ملک ہے ، لیکن بھارت کو واضح پیغام ہے کہ اگر آپ کا خیال ہے کہ ہم دباؤ میں آجائیں گے تویہ بات دل سے نکال دیں کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے ، پاکستانی قوم ایک مٹھی کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور بچہ بچہ متحد ہیں ، اس سے قبل وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی زیرصدارت اجلاس میں سابق سیکرٹریزخارجہ اور سفارتکاروں نے شرکت کی ، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سابق سیکرٹریزخارجہ اور سفارتکارو ں کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ان سب سے مشاورت کرکے جامع لائحہ عمل مرتب کریں گے۔

متعلقہ خبریں