اسرائیلی فوجیوں کو تھپڑ مارنے والی فلسیطنی لڑکی جیل سے رہا

2018 ,جولائی 30



غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک)ایک اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے والی 17 سالہ فلسطینی لڑکی احد تمیمی کو8 ماہ قید کی سزا پوری ہونے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی جیل کے ترجمان نے بتایا کہ ماں اور بیٹی کو غزہ پٹی کے پاس چیک پوائنٹ پر چھوڑ دیا گیا ہے جہاں وہ رہتے ہیں۔نبی صالع نامی علاقے میں احد تمیمی نے ایک اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارا تھا۔احد تمیمی پر 12 الزامات لگے تھے جن میں سے 4 میں وہ قصور وار قرار پائی گئیں۔ ان میں اشتعال انگیزی کا الزام بھی شامل تھا۔انھیں8ماہ قید اور5000 شیکلز ($1,440) جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔خیال رہے کہ یہ واقعہ 15دسمبر سنہ 2017کو پیش آیا تھا اور اس وقت احد تمیمی کی عمر 16 برس تھی اور اس واقعے کی ویڈیو ان کی والدہ نے بنائی تھی۔ انھیں اپنے گھر کے باہر ایک اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارتے دیکھا جا سکتا ہے، اس کے بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ان کی والدہ کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر اشتعال پھیلانے کی دفعات عائد کی گئیں۔ سزا میں وہ وقت شامل تھا جو انھوں نے مقدمے کے فیصلے سے قبل زیرحراست گزارا تھا۔رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کے لیے احد تمیمی اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاج کی ایک علامت بن گئیں جبکہ دوسری جانب بہت سے اسرائیلی انھیں ایک پرتشدد انسان سمجھتے ہیں جو کہ شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔اس مقدمے کی سماعت کا آغاز بند کمرے میں 13 فروری کو مقبوضہ غرب اردن میں اوفر فوجی عدالت میں ہوا تھا۔ ان کی وکیل نے اس مقدمے کے لیے اوپن ٹرائل کی درخواست کی تھی تاہم جج کی جانب سے کم سن کے مفاد میں سماعت ان کیمرہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

متعلقہ خبریں