عمران خان، جسے میں جانتا ہوں!

2018 ,اگست 7



اسلام آباد (حامدمیر) 2018ء کے عام انتخابات میں کامیابی کے کئی دن بعد ہونے والی حالیہ ملاقات کے آغاز میں عمران خان نے مجھ سے سوال پوچھا، ’’کیا آپ کو یاد ہے کہ میں نے اپنی سیاسی جماعت کیسے بنائی تھی اور کیا آپ کو میری جدوجہد کے دن یاد ہیں؟‘‘ یہ رسمی انٹرویو نہیں تھا۔ یہ کافی کے کپ پر ان کے بنی گالا کے دفتر میں ہونے والی ملاقات تھی، ان کی تقریب حلف برداری سے چند روز قبل یہاں بڑی تبدیلی نمایاں نظر آ رہی تھی۔ مجھ سے ان کے دفتر کے باہر اپنا موبائل فون جمع کرانے کیلئے کہا گیا۔ جب سے وہ اسلام آباد میں ای سیون کے پوش علاقے سے پہاڑی پر قائم بنی گالا میں منتقل ہوئے ہیں اس وقت سے چند برسوں کے دوران ایسا میرے ساتھ کبھی نہیں ہوا۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ میں پاکستان کےنئے وزیراعظم سے ملنے جا رہا ہوں۔ ملاقات سے قبل مجھے خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک، ان کے پرانے ساتھی ڈاکٹر عارف علوی اور منیزہ حسن نظر آئے جو عمران خان کے دفتر کے ساتھ ہی قائم نفاست سے سجائی گئی انتظار گاہ میں بیٹھے تھے۔ ہفتے کے آخری دنوں میں یہ نئے وزیراعظم کا کیمپ آفس ہوگا کیونکہ عمران خان ہفتے کے آخری دن وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں قیام نہیں کریں گے۔ عمران خان مجھ سے مسکراتے ہوئے اور ٹینشن سے عاری چہرے کے ساتھ ملے۔

ہماری بات چیت کے دوران وہ مسکراتے ہوئے ان بڑے چیلنجز کا ذکر کر رہے تھے جو ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس مرتبہ وہ نواز شریف یا آصف زرداری کے بارے میں بات نہیں کر رہے تھے۔ وہ توانائی کے بحران، پانی کی قلت او رقرضوں کے مسئلے پر بات کر رہے تھے۔ جب میں نے کہا کہ مسائل بڑے ہیں اورپارلیمنٹ میں اپوزیشن بھی بڑی ہے تو انہوں نے کہا ’’کئی لوگ کہتے تھے کہ عمران خان وزیراعظم نہیں بن سکتا اور اب یہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان ہمارے مسائل حل نہیں کر سکتا لیکن آپ انتظار کریں اور دیکھیے گا کہ میں ان مسائل کو شکست دوں گا۔‘‘ عمران خان کو یہ بات چیت اچھی طرح سے معلوم تھی کہ انہیں قومی اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں تھوڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وزیراعظم کا انتخاب کھلا ہوگا لیکن اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوگا۔ وہ پراعتماد تھے کہ وہ آسانی سے اسپیکر کا الیکشن جیت جائیں گے۔ ’’میں اس اپوزیشن سے نہیں ڈرتا، یہ فطری اتحادی ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ کہتے ہوئے مجھے حیران کر دیا کہ وہ بلوچ لیڈر اختر مینگل سے ملاقات کیلئے تیار ہیں اور ان کے 6؍ مطالبات کی حمایت کریں گے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ کا پہلا مطالبہ گمشدہ افراد کے حوالے سے ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمام گمشدہ افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ ان کے پاس قومی اسمبلی میں صرف تین نشستیں ہیں لیکن عمران خان ان کے مطالبات کی حمایت صرف تین نشستوں کیلئے نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے 2012ء میں اختر مینگل کے 6؍ نکات کی حمایت کی تھی اور میں 2018ء میں بطور وزیراعظم ان کے 6؍ مطالبات پر بات کرنے کی کوشش کروں گا کیونکہ مجھے ان کے مطالبات میں کچھ غلط نہیں لگ رہا۔‘‘ اختر مینگل ایسے افراد میں سے ایک ہیں جو کھل کر 2018ء کے انتخابات سے قبل اور بعد میں ہونے والی دھاندلی کی بات کر رہے ہیں۔ وہ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پرانے نقاد ہیں۔ عمران خان ان کے تین ووٹوں کے بغیر بھی وزیراعظم بن سکتے ہیں لیکن ان کی بی این پی کے ساتھ ان کے رابطے اُن لوگوں کیلئے پیغام ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ اُن طاقتور قوتوں کی کٹھ پتلی ہیں جو اختر مینگل جیسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں نہیں دیکھنا چاہتیں۔ عمران خان گمشدہ لوگوں کا مسئلہ فوج اور متعلقہ ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر حل کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ یہ عمران خان ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی کی بات کراچی سے جیو نیوزپر میرے ٹی وی شو کیپٹل ٹاک پر 2003ء میں بتائی تھی۔ اس وقت کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات پروگرام میں موجود تھے۔ ڈاکٹر عافیہ آج امریکی جیل میں اپنی زندگی گزار رہی ہیں اور عمران خان ان کے معاملے میں خاموش رہنے کے متحمل نہیں ہو سکیں گے۔ گمشدہ افراد کا معاملہ براہِ راست دہشت گردی کیخلاف جنگ سے جڑا تھا۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے جنگجوئوں سے مبینہ تعلق کے شبے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اٹھایا اور عمران خان ان افراد میں سے ایک تھے جو ببانگ دہل یہ کہتے تھے کہ ’’یہ ہماری نہیں بلکہ امریکا کی جنگ ہے، ہمیں اپنے لوگوں کے خلاف یہ جنگ نہیں لڑنا چاہئے، اور ہمیں تمام گمشدہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرنا چاہئے۔‘‘ کئی ناقدوں نے انہیں طالبان خان کہا۔ 2005ء میں میرے ہی ایک شو کے دوران، پرویز مشرف حکومت کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے انہیں ان کے سامنے ’’دو ٹکے کا کپتان‘‘ قرار دیا تھا لیکن آج یہی شیخ صاحب ان دیگر لوگوں کے ساتھ عمران خان کے اتحادی ہیں جنہوں نے ان کا مذاق اڑایا تھا اور جو کئی جاگیرداروں اور صنعت کاروں کی موجودگی میں وزیراعظم پاکستان بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ عمران خان نے سخت جدوجہد کی اور کبھی مختصر راستے (شارٹ کٹ) کا انتخاب نہیں کیا۔ محمد خان جونیجو حکومت کی برطرفی کے بعد جنرل ضیا الحق نے 1988ء میں انہیں وزارت کی پیشکش کی تھی۔ عمران نے معذرت کا اظہار کیا۔ 1993ء میں ایک مرتبہ پھر انہیں معین قریشی کی نگراں حکومت میں وزارت کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے 1996ء میں اپنی سیاسی جماعت قائم کی اور میں ہی وہ شخص تھا جس نے اُس وقت ان کے سیاست میں آنے کے خیال کی توثیق نہیں کی تھی۔ مجھے ان کے کینسر اسپتال کی فکر تھی جس کا افتتاح 1994ء میں ہوا تھا اور اسے عمران خان کی بھرپور توجہ کی ضرورت تھی۔ نواز شریف نے انہیں 1997ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی 20؍ نشستوں پر اتحادی بننے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے 1997ء میں اپنا پہلا الیکشن لڑا اور ہر جگہ سے بری طرح ہار گئے۔ 2002ء کے انتخابات سے چند روز قبل، جنرل پرویز مشرف نے انہیں مسلم لیگ ق کے ساتھ اتحاد پر مجبور کرنے کی کوشش کی لیکن عمران نے انکار کیا۔ اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل احسان نے عمران کو مسلم لیگ ق کی حکومت میں شمولیت اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے اور آخر میں 2002ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی کو انتخابات میں صرف ایک نشست پر کامیابی ملی۔ آنے والے سات برسوں میں عمران خان ان افراد میں سے ایک تھے جنہوں نے پوری قوت اوربہادری کے ساتھ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بیٹھ کر پرویز مشرف کی پالیسیوں کی مخالفت کی۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف جلاوطن تھے اور عمران خان ان افراد میں شامل رہے جو میرے ٹی وی شو میں پرویز مشرف پر بار بار تنقید کرتے رہے۔ کیپٹل ٹاک میں عمران خان کے پرویز مشرف کیخلاف منہ پھٹ بیانات کی وجہ سے جیو ٹی وی کو کئی مرتبہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ مشرف نے ہمیں سبق سکھانے کیلئے کراچی میں ایم کیو ایم کو استعمال کیا اور کیبل پر جیو کو بند کرایا۔ ٹاک شوز میں ایم کیو ایم کے وزرا نے کئی مرتبہ عمران خان کی توہین کی لیکن انہوں نے ہار نہ مانی۔ 2007ء میں جب پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی تو انہوں نے بینظیر بھٹو اور نواز شریف سے اتحاد کیا۔ وکلا تحریک میں عمران خان نے بڑا کردار ادا کیا اور میڈیا پر عائد کردہ پابندیوں کی مخالفت کی۔ جب پرویز مشرف نے میرے ٹی وی پر آنے پر پابندی عائد کی تو انہوں نے کئی مرتبہ میرے روڈ شو میں شرکت کی۔ انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈالا گیا لیکن انہوں نے مشرف کیساتھ ڈیل نہیں کی۔ 2007ء میں بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد انہوں نے پرویز مشرف حکومت کے تحت الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے پرویز مشرف کے ساتھ ڈیل کر لی اور نواز شریف نے پرویز مشرف حکومت کے تحت الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا جبکہ عمران خان سڑکوں پر چیخ و پکار کر رہے تھے کہ فوجی آمر کے تحت ہونے والے الیکشن کا بائیکاٹ کرو۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے جنوری میں سردیوں کی ایک رات عمران خان سے ان کے پارٹی آفس میں ملاقات کی تھی اور انہیں بتایا کہ الیکشن کا بائیکاٹ نہ کریں کیونکہ مسلم لیگ ن بالآخر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرے گی۔ عمران خان کو میری بات پر یقین نہ آیا۔ انہوں نے اس وعدے کا ذکر کیا جو نواز شریف نے سب کے سامنے ان کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا، ’’مجھے زرداری پر بھروسہ نہیں، وہ مجھے دھوکا دے سکتے ہیں لیکن نواز شریف نے نہ صرف میرے ساتھ بلکہ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے ساتھ بھی وعدہ کیا ہے، وہ ہمیں دھوکا نہیں دیں گے۔‘‘ بدقسمتی سے میری بات درست ثابت ہوئی۔ پہلے پیپلز پارٹی اور اس کے بعد مسلم لیگ ن نے مشرف کے تحت الیکشن لڑنےکا فیصلہ کیا۔ عمران خان نے محسوس کیا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے انہیں دھوکا دیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بنائی اور دونوں جماعتیں عمران خان کا ہدف بن گئیں۔ یہ وہ وقت تھا جب پیپلزپارٹی کے ووٹر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی طرف مائل ہونا شروع ہوئے۔ یہ وہ دن تھے جب امریکا کے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے بڑھ رہے تھے۔ عمران خان ہی وہ قومی لیڈر تھے جس نے ڈرون حملوں کیخلاف لانگ مارچ کیا۔ ان کی سابقہ اہلیہ جمائمانے ڈرون حملوں پر دستاویزی فلم بنانے میں ان کی مدد کی اور وہ خود بھی میرے ٹی وی شو میں آئیں اور ڈرون حملوں پر تنقید کی۔ عمران خان نے سندھ اور پنجاب کے حکمراں اشرافیہ پر تنقید کی اور خطے میں امریکی پالیسیوں پر بھی سخت موقف اختیار کیا۔ امریکا کی مخالفت کی وجہ سے وہ ناراض نوجوانوں کے ہیرو بن گئے اور یہی نوجوان ان کی سب سے بڑی قوت بنے۔ 2013ء کے انتخابات میں وہ تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھرے ۔ انہوں نے پنجاب سے پیپلز پارٹی اور خیبر پختو نخوا سے اے این پی کا صفایا کر دیا۔ وہ پاکستان میں تبدیلی کے علمبردار بنے لیکن آہستہ آہستہ ان کی جماعت کئی معروف لوٹوں کا گڑھ بن گئی۔ عمران خان نے ’’الیکٹیبلز‘‘ قرار دیتے ہوئے ان افراد کا دفاع کیا لیکن 2018ء میں پاکستان کے عوام نے ان میں سے کئی ’’الیکٹیبلز‘‘ کو مسترد کر دیا۔ عمران خان کی زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی لیکن دیگر تمام بڑی جماعتیں دھاندلی کا شور مچا رہی ہیں۔ ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اتحاد قائم کیا ہے لیکن پیپلز پارٹی کے سینئر رہنمائوں آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو کئی تحفظا ت ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ماضی میں ان کی مسلم لیگ ن کے ساتھ مفاہمتی پالیسی کی وجہ سے عمران خان کو فائدہ ہوا ہے اور اگر انہوں نے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ ن والوں کے ساتھ ہاتھ ملایا تو اس مرتبہ سندھ میں بھی ان کی حمایت مزید کم ہو جائے گی۔ پنجاب اسمبلی کیلئے پیپلز پارٹی کھل کر مسلم لیگ ن کی حمایت سے ہچکچا رہی ہے۔ 25؍ جولائی کے انتخابات کی رات سب سے پہلے دھاندلی کا شور مچانے والی جماعتوں ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق اور اسٹیبلشمنٹ مخالف بلوچ جماعت بی این پی کی حمایت کے حصول میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو ناکامی ملی۔ مطالبات پورے کیے بغیر ان تمام چھوٹی جماعتوں کی حمایت برقرار رکھنا مشکل ہوگا اور آنے والے دنوں میں عمران خان کیلئے یہ بڑے چیلنجز میں سے ایک ثابت ہو سکتا ہے۔ خارجہ پالیسی کے مسائل کو حل کرنے سے قبل انہیں حکومت میں اچھی ساکھ کے حامل لوگوں کو شامل کرکے اپنی ساکھ قائم کرنا ہوگی۔ خیر خواہوں کے کئی خدشات کے باوجود وہ ریاستی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کی بھرپور کوشش کریں گے۔ آغاز میں ہو سکتا ہے کہ ہمیں ہفتہ وار قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس ہوتے نظر نہ آئیں۔ عمران خان تمام اسٹیک ہولڈرزکے ساتھ مل کر آگے بڑھیں گے لیکن شاید وہ کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔ عمران خان نے مجھ سے الیکشن کے بعد اپنے خطاب کے بارے میں پوچھا۔ میں نے کہا کہ آپ کی انکساری مثبت اشارہ تھی۔ ہم نے اس پر بھی بات کی کہ بھار تی اسٹار عامر خان ان کی تقریب حلف برداری میں کیوں نہیں آ رہے؟ میں نے اندازہ لگایا کہ عامر شاید مصروف نہ ہوں بلکہ کسی دبائو میں ہوں۔ عمران خان نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور صرف مسکرائے۔ ہم نے وزیراعظم مودی کی جانب سے انہیں کیے گئے فون پر بھی بات کی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ مودی نے کشمیر پر کوئی بات نہیں کی لیکن میں کشمیر کاز پر قائم ہوں۔ عمران خان کو چاہئے کہ وہ یہ ثابت کرنے کیلئے مثالیں قائم کریں کہ قانون کی بالادستی سب کیلئے برابر ہے۔ نیب نے انہیں 7؍ ا گست کو ہیلی کاپٹر کیس میں طلب کیا ہے۔ وہ ان سے کے پی حکومت کے ہیلی کاپٹر کے مبینہ غلط استعمال کے متعلق سوالات پوچھیں گے۔ ممکن ہے کہ وہ 7؍ اگست کو نیب میں پیش نہ ہوں لیکن جس عمران خان کو میں جانتا ہوں اسے بطور وزیراعظم حلف لینے کے بعد نیب کی ٹیم کے سامنے پیش ہونا چاہئے۔ وزیراعظم کا نیب کے روبرو پیش ہونا پوری دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ یہ نئے پاکستان کی شروعات ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ تمام تر تنقید اور نقادوں کا احترام کریں۔ ماضی میں، میں نے بھی کئی مرتبہ ان پر تنقید کی ہے لیکن انہوں نے کبھی شکایت نہیں کی۔ انہیں چاہئے کہ وہ میڈیا کیلئے برداشت پر مبنی پالیسیاں تشکیل دیں اور مخفی دبائو کی بجائے اچھی طرز حکمرانی کے ذریعے اپنی حکومت کیلئے حمایت حاصل کریں۔ عمران خان کو احساس ہونا چاہئے کہ وہ اپنے منشور کی وجہ سے اکثریتی رہنما نہیں بنے۔ وہ اپنے سیاسی مخالفین کی فاش غلطیوں کی وجہ سے اکثریتی لیڈر بنے ہیں۔ اب ان کے مخالفین ان کی غلطیوں کے منتظر ہیں۔ وہ غلطیوں کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ ایک مرتبہ اپوزیشن متحد ہوگئی اور انہوں نے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا تو عمران خان عوامی حمایت کے بغیر اپنی حکومت کا دفاع نہیں کر پائیں گے۔ انہیں عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے عوامی حمایت کی اشد ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں