جب زندگی شروع ہو گی

2018 ,جنوری 20



صالح سے میری دوستی اس وقت ہوئی تھی جب میں نے موت کے بعد یا زیادہ درست الفاظ میں فانی دنیا کے دھوکے سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ لوگ موت سے بہت ڈرتے ہیں، مگر میرے لیے موت ایک انتہائی خوشگوار تجربہ تھی۔ ملک الموت عزرائیل کا نام دنیا میں دہشت کی ایک علامت ہے، مگر میرے سامنے وہ ایک انتہائی خوبصورت شکل میں آئے تھے۔ انہوں نے بہت محبت اور شفقت سے میری شخصیت یعنی میری روح کو میرے جسم سے جدا کیا۔ میرا جسمانی وجود سابقہ دنیا میں رہ گیا اور میری اصل شخصیت کو انھوں نے اِس نئی دنیا میں جس کا نام عالم برزخ تھا، منتقل کردیا۔ برزخ کا مطلب پردہ ہوتا ہے۔ ملک الموت کے ظاہر ہوتے ہی میرے اور پچھلی دنیا کے درمیان ایک پردہ حائل ہوگیا۔ جس کی بنا پر ا±س دنیا سے میرا رابطہ ختم ہوگیا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میری جدائی کے غم میں میرے اہل خانہ پر کیا گزر رہی تھی، لیکن مجھے یقین تھا کہ میری تربیت کی بنا پر وہ خدا کی رضا پر صابر و شاکر ہوں گے۔
میں اپنی اصل شخصیت سمیت اب ایک نئی دنیا میں تھا۔ یہ برزخ کی دنیا تھی۔ اِس نئی دنیا میں ملک الموت عزرائیل نے مجھے جس شخص کے حوالے کیا، وہ یہی صالح تھا۔ اس کے ساتھ بہت سے خوش شکل، خوش لباس اور خوش گفتار فرشتے موجود تھے۔ اِن سب کے ہاتھوں میں گلدستے، زبان پر مبارکبادیاں اور سلامتی کی دعائیں تھیں۔ مبارک سلامت کے اس ماحول میں وہ سب مل کر مجھے یقین دلارہے تھے کہ آزمائش کے دن ختم اور جنت کی عظیم کامیابی کے دن شروع ہوگئے۔ اس وقت صالح نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ برزخی زندگی کے آغاز پر میرے لیے پہلا انعام پروردگارِ ارض و سماوات کے حضور پیشی ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہ اعزاز ہر شخص کو نہیں ملتا۔ میرے لیے یہ خوشخبری جنت کی خوشخبری سے بھی زیادہ قیمتی تھی۔
ان سب کی معیت میں میرا سفر شروع ہوا۔ یہ نئی دنیا تھی۔ جہاں فاصلے، مقامات، زمان اور مکان کے معنی اس طرح بدل گئے تھے کہ وہ الفاظ کے کسی جامے میں بیان نہیں ہوسکتے۔ میں مستی و سرشاری کے عالم میں یہ سفر طے کررہا تھا کہ ایک جگہ ہم روک دیے گئے۔ اعلان ہوا کہ زمین کے فرشتوں کی حد آگئی ہے۔ سب یہاں رک جائیں۔ صرف صالح کو میرے ساتھ آگے بڑھنے کی اجازت ملی۔ عالمِ سماوات کا سفر شروع ہوا۔ جلد ہی ہم ایک اور جگہ پہنچ کر رک گئے۔ یہاں جبریلِ امین خاص طور پر میرے استقبال کے لیے آئے تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ کہنے لگے:
”عبد اللہ! تم مجھ سے پہلی دفعہ مل رہے ہو، مگر میں تم سے پہلے بھی کئی دفعہ مل چکا ہوں۔“
پھر ہولے سے میرا کندھا تھپتھپاتے ہوئے بولے:
”آقا کے حکم پر کئی دفعہ میں نے تمھاری مدد کی تھی۔ مگر ظاہر ہے تم اس وقت یہ نہیں جانتے تھے۔“
آقا کے لفظ سے میرے چہرے پر ایک روشنی پھوٹی، جسے جبریل کے نورانی وجود نے الفاظ میں ڈھلنے سے قبل ہی پڑھ لیا اور کہا:
”آو¿ چلو! میں تمھیں تمھارے ان داتا سے ملاتا ہوں۔ نبیوں کے علاوہ یہ اعزاز بہت کم انسانوں کو حاصل ہوتا ہے کہ وہ اس طرح بارگارہِاحدیت میں پیش کیے جائیں۔ تم واقعی بہت خوش نصیب ہو۔“
ہم آگے بڑھے تو میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا جس کا پوچھ لینا ہی مناسب خیال کرتے ہوئے میں نے جبریل علیہ السلام سے عرض کیا:
”کیا ہم سدرة المنتہیٰ کی طرف جارہے ہیں؟“
”نہیں۔۔۔ “، جبریل امین نے جواب دیا۔ پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا:
”تمھارے ذہن میں غالباً معراج والی بات ہے۔ وہ انبیا کا راستہ ہے۔ انبیا کی حضوری کے مقامات بہت اعلیٰ ہوتے ہیں۔ پھر انہیں مشاہدات بھی کرائے جاتے ہیں۔ تمھارا راستہ بالکل الگ ہے۔ تمھیں صرف بارگاہِ الوہیت میں سجدے کا اعزاز بخشنے کے لیے بلایا گیا ہے۔ اور غالباً تمھاری وجہ سے صالح کو بھی یہاں تک آنے کی اجازت ملی ہے۔“
اس لمحے میں نے صالح کو دیکھا جس کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ جبریل امین نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا:
”خدا کی ہستی لامحدود ہے۔ اس کے مقامات بھی لامحدود ہیں۔ تمھاری دنیا میں ان مقامات کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ جو کچھ تم دنیا میں جانتے تھے وہ بہت محدود اور کم تھا۔ آج مرنے کے بعد تمھاری آنکھیں کھلی ہیں۔ اب تم وہ دنیا دیکھنا شروع ہوگئے ہو جس کے کمالات کی کوئی حد نہیں۔“
میں جو کچھ دیکھ رہا تھا وہ واقعی جبریل امین کی سچائی کا ثبوت تھا۔ میں نے دل میں سوچا کہ اللہ کا شکر ہے کہ میں کفر و نافرمانی کے حال میں نہیں مرا۔ وگرنہ آنکھیں تو اس وقت بھی کھلتیں، مگر جو کچھ دیکھنے کو ملتا وہ بہت زیادہ برا اور بھیانک ہوتا۔
جبریل امین کی معیت میں ہم مختلف مراحل طے کرتے ہوئے حاملین عرش کے قریب پہنچے۔ یہاں نور، رنگ اور روشنی کا ایک ایسا حسین اور لطیف امتزاج چھایا ہوا تھا جو بیان کی گرفت سے باہر تھا۔ حاملین عرش کے سر جھکے ہوئے تھے۔ چہرے پر خشیت کا اثر اور طمانیت کا نور پھیلا ہوا تھا۔ جبریل امین نے بتایا:
”پروردگار کی بارگاہ کا ہر حکم انہی فرشتوں کی وساطت سے نیچے جاتا اور نیچے والوں کا ہر فعل انہی کے ذریعے سے عالم کے پروردگار کے حضور پیش کیا جاتا ہے۔“
میں قربِ الٰہی کے اس مقام کو رشک بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے بھی نظر اٹھاکر مجھے دیکھا اور لمحہ بھر کے لیے ان کے چہروں پر مسکراہٹ آئی۔ میرا حوصلہ بڑھا۔ میں نے قدم عرش کی سمت بڑھائے۔ میرے روئیں روئیں سے ا±س ہستی کی حمد و ثنا بلند ہونے لگی جس سے ملنے کی خواہش میں ساری زندگی گزاردی تھی۔
پھر چلتے چلتے مجھ پر نجانے کیوں لزرہ طاری ہونے لگا۔ خدا سے ملنے کی شدین ترین خواہش پر اس کی عظمت کا احساس غالب آگیا۔ اس لمحے مجھ پر اتنا شدید رعب طاری ہوا کہ میں گھبرا کر واپس پیچھے ہٹنے لگا۔ گرچہ عرش ابھی بہت دور تھا، مگر صاحبِعرش کی عظمت کے احساس سے میری ہمت ٹوٹ گئی۔ مجھے لگا کہ اس لمحے میرا وجود کرچی کرچی ہوکر فضا میں بکھر جائے گا۔ شاید یہی ہوتا، مگر ایسے میں میرے کانوں میں جبریل امین کی آواز آئی:
”یہیں سجدے میں گرجاو¿۔ اس مقام سے آگے صرف انبیاے کرام جاتے ہیں۔“
میں اور صالح دونوں سجدے میں چلے گئے۔ جسے بن دیکھے سجدہ کیا تھا، آج پہلی دفعہ اسے دیکھ کر سجدہ کیا تھا۔ دیکھا تو خیر کیا تھا۔ بس آثار دیکھ لیے تھے۔
یہ سجدہ کتنا طویل اور کتنا لذید تھا، مجھے نہیں یاد۔ جس نے سورج کو روشنی کی ردا اور چاند کو نور کی قبا پہنائی، پھولوں کو مہک اور تتلیوں کو رنگ کا لباس پہنایا، تاروں کو چمک کا لہجہ اور کلیوں کو چٹک کی آواز عطا کی، آسمان کو رفعت کا تاج اور سمندروں کو وسعت کا تخت بخشا، زمین کو زرخیزی کی نعمت اور دریاوں کو بہاو کا حسن عطا کیا اور جس نے انسان کو بیان کا وصف اور نزولِ قرآن کا شرف بخشا، اس کے قدموں میں گزارا ہوا ایک ایک لمحہ ہفت اقلیم کی بادشاہی سے بڑھ کر تھا۔ مگر اس لمحے کو تمام ہونا ہی تھا۔ حاملین عرش کی دلکش صدا بلند ہوئی:
”ھو اللہ لا الہ الا ھو۔“
یہ اعلان تھا کہ صاحب عرش کلام کررہا ہے۔ آواز آئی:
”میں اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔“
ہر سر سے لذیذ تر اس صدا میں وہ سحر تھا کہ میرا وجود سراپا گوش ہوگیا۔ میرا پورا جسم اور اس کی ہر ہر قوت کانوں اور سماعت میں سمٹ آئی۔ میں مزید کچھ سننے کا منتظر تھا۔ مگر گفتگو میں ایک وقفہ آگیا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ شاید اب مجھے کچھ کہنا چاہیے۔ جو پہلی بات میری زبان پر آئی وہ یہ تھی:
”مالک! زندگی میں یہی ایک حقیقت تو جانی ہے۔“
میری یہ بات میرے اپنے کان بمشکل سن سکے تھے۔ مگر حاضر و غائب کے جاننے والے اور دلوں کے بھید پالینے والے تک وہ پہنچ گئی تھی۔ جواب ملا:
”مگر یہ بات جاننے والا ہر شخص یہاں تک نہیں آتا۔۔۔ جانتے ہو عبد اللہ! تم یہاں تک کیسے آگئے؟“
اس دفعہ میرے شہنشاہ کے لہجے کے جاہ و جلال میں اپنائیت کا رنگ جھلک رہا تھا۔
”اس لیے کہ تمھاری زندگی کا مقصد لوگوں کو میرے بارے میں بتانا تھا۔ میری ملاقات سے خبردار کرنا تھا۔ تم نے میری یاد کو۔۔۔ میرے کام کو اپنی زندگی بنالیا۔ یہ اس کا بدلہ ہے۔“
آسمان و زمین کے مالک کی گفتگو اور آواز سنتے رہنا میری زندگی کی شدید ترین خواہش بن چکی تھی، مگر ایک دفعہ پھر مالک الملک اپنی بات کہنے کے بعد ٹھہرگئے۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرا رب مجھے بولنے کا موقع دے رہا ہے۔ میں نے عرض کیا:
”کیا میں آپ کے پاس یہاں رک سکتا ہوں؟“
”مجھ سے کوئی دور نہیں ہوتا۔ نہ میں کسی سے دور ہوتا ہوں۔ میرا ہر بندہ اور میری ہر بندی جو میری یاد میں جیے ، وہ میرے پاس رہتا ہے۔۔۔ اور کچھ۔۔۔ “
آخری بات سے مجھے اندازہ ہوا کہ ملاقات کا وقت ختم ہورہا ہے۔ میں نے عرض کیا:
”میرے لیے کیا حکم ہے؟“
”حکم کا وقت گزرگیا ہے۔ اب تو تمھیں حکمران بنانے کا وقت آرہا ہے۔ فی الحال تم واپس جاو۔ زندگی ابھی شروع نہیں ہوئی۔“
میں نے چلتے چلتے عرض کی:
”آپ قیامت کے دن مجھے بھولیں گے تو نہیں۔ میں نے اس دن کی وحشت اور آپ کی ناراضی کا بہت ذکر سن رکھا ہے۔“
فضا میں ایک حسین تبسم بکھر گیا۔ کھنکتے ہوئے لہجے میں صدا آئی:
”بھولنے کا عارضہ تم انسانوں کو ہوتا ہے۔ بادشاہوں کا بادشاہ۔۔۔ تمھارا مالک، تمھارا رب کچھ نہیں بھولتا۔ رہا میرا غصہ، تو وہ میری رحمت پر کبھی غالب نہیں آتا۔ تم نے تو زندگی بھر مجھے امید اور خوف کے ساتھ یاد رکھا ہے۔ میں بھی تمھیں درگزر اور رحمت کے ساتھ یاد رکھوں گا۔ لیکن۔۔۔ “، ایک لمحے کے شاہانہ توقف کے بعد ارشاد ہوا:
”تمھاری تسلی کے لیے میں صالح کو تمھارے ساتھ کررہا ہوں۔ یہ ہر ضرورت کے موقع پر تمھارا خیال رکھے گا۔“
یہ تھی میری اور صالح کی پہلی ملاقات کی روداد اور اس کے میرے ساتھ رہنے کی اصل وجہ۔ عالمِ برزخ میں میری زندگی جسم کے بغیر تھی۔ اس میں میرے احساسات، جذبات، تجربات اور مشاہدات کی کیفیت ویسی ہی تھی جیسی خواب میں ہوتی ہے۔ یعنی غیر مادی مگر شعور سے بھرپور زندگی جس میں مجھے ان نعمتوں کا مکمل احساس رہتا جو جنت میں مجھے ملنے والی تھیں۔ صالح میری خواہش پر وقفے وقفے سے مجھ سے ملنے آتا رہا۔ ہر دفعہ وہ مجھے نت نئی چیزوں کے بارے میں بتاتا رہتا اور میرے ہر سوال کا جواب دیتا۔ آہستہ آہستہ ہماری دوستی بڑھتی گئی۔ پھر آخری ملاقات میں اِس نے مجھے بتایا تھا کہ ’زندگی‘ شروع ہونے جارہی ہے۔ اور اب میں اس کے ساتھ میدانِ حشر کو تیزی کے ساتھ عبور کرتا ہوا عرش کی طرف بڑھ رہا تھا۔

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ خبریں