حاجیوں کی اللہ نے سن لی ۔۔۔ ایک خبر نے پوری امت مسلمہ کو خوش کردیا

2019 ,فروری 24



اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) حج 2019 کے تحت سرکاری اسکیم کے لیے درخواستوں کی وصولی کا آغاز کل (بروز 25 فروری) سے شروع ہوگا جج درخواستیں جمع کرانے کا مراحلہ 6 مارچ 2019 تک جاری رہے گا رواں سال ذو الحج کے مہینے میں پاکستان سے سرکاری اسکیم کے تحت 1 لاکھ 7 ہزار 5 سو 26 عازمین حج اپنے فریضے کی ادائیگی کریں گے ،  حج کے لیے درخواستیں جمع کرانے والوں کی قرعہ اندازی 8 مارچ کو ہوگی ، سعودی عرب سے حال ہی میں ملنے والے حج کوٹے کا فیصلہ بعد میں ہوگا ، حج درخواستیں مخصوص بینکوں کی نامزد برانچوں میں وصول کی جارہی ہیں ، حکومت کی جانب سے پاکستان کے جنوبی علاقہ جات بشمول کراچی ، کوئٹہ اور سکھر کا پیکج 4لاکھ 26 ہزار 5 سو 26 روپے مقرر کیا گیا ہے ، حج کے لیے اسلام آباد سمیت شمالی علاقہ جات بشمول پنجاب اور خیبرپختنونخوا کا پیکج 4لاکھ 36 ہزار5 سو 26 روپے رکھا گیا ہے ، فریضہ حج کے ساتھ ساتھ قربانی کرنے کے خواہش مند افراد کو رقم حج پیکج کے علاوہ جمع کروانا ہوں گے ، حج اخراجات میں قربانی کی رقم شامل نہیں وہ الگ دینے پڑے گے ، واضح رہے کہ حج سبسڈی ختم کرنے پر تنقید کا سامنا کرنے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے حج اسکیم برائے سال 2019 متعارف کرائی تھی جس کے تحت سعودی حکام نے پاکستان کو 5 ہزار حجاج کا اضافی کوٹہ تفویض کیا گیا ، گزشتہ سال ذو الحج کے مہینے میں پاکستان سے 1 لاکھ 79 ہزار 2 سو 10 عازمین حج اپنے فریضے کی ادائیگی پر گئے تھے۔ حج 2018 میں شمالی علاقہ جات بشمول پنجاب اور خیبرپختنونخوا کا پیکج 2 لاکھ 80 ہزار روپے رکھا گیا تھا جبکہ کراچی، کوئٹہ اور سکھر کا پیکج 2 لاکھ 70 ہزار مقرر تھا ، خیال رہے کہ یک تو حج مہنگا ہو گیا اوپر سے عالم وارفتگی میں نونہالان انقلاب کے دلائل۔ ہمارے وزیر اعظم تمہیں کیوں سبسڈی دیتے؟ کیا سبسڈی پر حج ہو سکتا ہے؟ جب استطاعت نہیں ہو تو حج کی خواہش ہی کیوں رکھتے ہو؟ کیا ہم بھی سابق حکومت کی طرح سبسڈی دیں؟کیا ہم بھی قومی خزانہ لٹا دیں؟ حج کے لیے تنکا تنکا جمع کرنے والوں کی جانے بلا سبسڈی کیا ہوتی ہے؟انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وزیر خزانہ اسد عمر جس اینگرو میں کبھی اعلی عہدے پر کام کیا کرتے تھے اسی اینگرو کو 16 ارب کی ’سبسڈی‘ دی جا چکی ہے۔عام آدمی کا سوال یہ ہے کہ نئے پاکستان میں حج اتنا مہنگا کیوں ہو گیا اور مدینے کی ریاست میں مدینے کی مسافت اتنی طویل کیسے ہو گئی؟سوال سبسڈی کا نہیں سوال خلوص نیت کا ہے۔ کیا حکومت نے حج اخراجات کم کرنے کے لیے کوئی کوشش کی ہے ؟ گذشتہ حج کے موقع پر یہاں سے ایک وفد سعودی عرب گیا اور رہائش کے اخراجات 3800 ریال سے کم ہو کر 1700 ریال ہو گئے۔ کیا موجودہ حکومت نے بھی ایسی کوئی کوشش کی؟ حج اور عمرہ کے شعبے سے وابستہ لوگوں کا دعوی ہے افراط زر اور مہنگائی کے تناسب سے آج حج کے اخراجات 3 لاکھ40 ہزار ہونے چاہییں

متعلقہ خبریں