خواجہ سراﺅں کو مردوں کے ڈبے میں بیٹھانا چاہیے یا عورتوں کے ؟؟ پاکستان ریلوے کی جانب سے پوچھا جانے والا سوال اور پاکستانیوں کا جواب۔۔۔۔

2018 ,جنوری 15



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک): سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک خواجہ سرا خواتین کے ساتھ ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے لیکن ریلوے حکام کی جانب سے انکا ر کر دیا جاتاہے اور ایک لمبی ’سرد جنگ ‘دیکھنے میں آتی ہے اور اس معاملے کو بڑھتا ہو ا دیکھ کر پاکستان ریلوے کی جانب سے اس مسئلے کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے لوگوں سے رائے طلب کی گئی ۔
 پاکستان ریلوے کی جانب سے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کیا گیا کہ ایک ویڈیو میں کہا جا رہاہے کہ خواجہ سراﺅں کو مردوں کے ڈبوں میں حراساں کیا جاتاہے اس لیے انہیں خواتین کے کوچز میں جگہ دی جائے ،رائے دیجیے اور موقف کی وضاحت کمنٹس کی کیجیے ‘۔پاکستان ریلوے کی جانب سے یہ پیغام جاری کرنے کی دیر تھی کہ سوشل میڈیا صارفین ایسے ایسے رد عمل دیئے کہ شائد ریلوے بھی سوش میں پڑ گیا ہوگا کہ انہوں نے یہ سوال پوچھا ہی کیوں ۔
فیس بک پر جاری پیغام میں کثیر التعداد لوگوں کا کہناتھا کہ زیادہ تر خواجہ سراءخود ساختہ ہوتے ہیں اور بہت ہی کم قدرتی ہوتے ہیں ۔ ایک عامر خان نامی صار ف نے کھلم کھلا مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں خواتین کے کمپارٹمنٹ میں جگہ دی جائے تو یہ ان سے بد تمیزی کریں گے ۔عمارہ غزل نامی صارف کا کہناتھا کہ سب کا احترام لازم ہے لیکن یہ 80 فیصد زیادہ تر پنگے خود لیتے ہیں ۔


اس تمام رد عمل کو دیکھتے ہوئے نجم ولی خان میدان میں آئے اور ان کا کہناتھا کہ پاکستان ریلویز بطور ادارہ ہر شہری کا احترام کرتاہے ،ہر وہ خواجہ سراجسے ہراساں کیا جائے وہ ریلوے پولیس کو اطلاع کرے ،انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا اور ہر ہراساں کرنے والے کے خلاف کارروائی کی جائے گی تاہم اس ضمن میں ادارے کو فیملیز اور خواتین کے رد عمل اور جذبات کو بھی ملحوظ خاطر رکھناہے ،اس ضمن میں خصوصی ایس او پیز تشکیل دیئے جا سکتے ہیں اور یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ایک میڈیا گروپ کے اٹھائے ہوئے ایشو پر پبلک پول صرف مینجمنٹ کی رائے عامہ سے آگاہی کیلئے ہے ۔

 


سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ’سارا گل ‘ نامی خواجہ سرا ریلوے سٹیشن کے بکنگ سینٹر پر گرین لائن ٹرین کی ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے کاﺅنٹر سے رجو ع کرتاہے اور خواتین کے ڈبے میں ٹکٹوں کی خواہش کا اظہار کرتاہے لیکن اسے انتظامیہ کی جانب سے انکار کر دیا جاتاہے ۔جس کے بعد خواجہ سرا نے ٹکٹ نہ دینے پر ریلوے سٹیشن پر ہی فیس بک لائیو شروع کر دیا اور احتجاج ریکارڈ کروایا ۔خواجہ سرا کا دعویٰ تھا کہ اسے صرف خواجہ سرا ہونے کی وجہ سے خواتین میں ٹکٹ نہیں دی جارہی اور مردوں میں دی جارہی ہے ،مردوں کے کوچ میں ہمیں حراساں کیا جاتاہے ۔خواجہ سرا ٹکٹ نہ ملنے پر شدید برہم ہو گیااور عملے سے کہنے لگا کہ ’ میں آپ کو اپنے کپڑے اتار کر دکھا دیتاہوں ‘جس پر قریب کھڑے لوگوں نے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی ۔خواجہ سرا کا کہناتھا کہ میں ایک پڑھا لکھا خواجہ سرا اور پاکستان کاشہری ہوں اس لیے مجھے آپ دھوکہ نہیں دے سکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں