نیوزی لینڈ حملے میں ملوث دہشت گرد کو سزائے موت ۔۔۔ ایک خبر نے پوری دنیا میں ہلچل مچادی

2019 ,مارچ 18



ولنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) کرائسٹ چرچ حملے میں ملوث بریٹن ٹیرنٹ کو عمر قید سنائے جانے کا مکان ہے۔ ملزم نے جمعہ کے روز کرائسٹ چرچ کی ایک مسجد میں گھس کو 50مسلمانوں کو شہد کر دیا تھا اور اسے گرفتار کیا جا چکا ہے۔ 28سالہ بریٹن ٹیرنٹ نے کوئی وکیل لینے سے انکار کر دیا ہے اور اسکا کہنا ہے کہ وہ اپنا مقدمہ خود لڑے گا۔ وکلاءکی جانب سے بتایا گیا ہے برینٹن ٹیرنٹ کو سزائے موت نہیں ہو سکتی کیونکہ 1961میں نیوزی لینڈ میں سزائے موت ختم کر دی گئی تھی اور اس کے بعد زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہو سکتی ہے لیکن اس میں بھی 10سال بعد مجرم کو پے رول پر رہائی مل جاتی ہے۔ 1961سے ابھی تک زیادہ سے زیادہ سزا 30سال قید کی سنائی گئی ہے۔ قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ کیوی وزیر اعظم کی جانب سے اس واقعہ کو دہشت گردی قرار دیے جانے کے باوجود بھی شاید اس مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات شامل نہ کی جا سکیں۔ قانونی ماہرین نے بتایا ہے کہ برینٹن ٹیرنٹ کو عمر قید کی سزا ملنے کا امکان ہے جس میں اسے پے رول نہ دیے جانے کی شرط موجود ہو سکتی ہے۔ ملزم نے 50لوگوں کو قتل کیا اور50سے زائد کو زخمی بھی کیا اور اس نے اس حملے سے پہلے 75صفحات پر مشتمل ایک خط سماجی رابطی کی ایک ویب سائٹ پر لگایا تھا جس میں اس نے لکھا تھا کہ وہ مسلمانوں کو قتل کرے گا جس پر اسے 27سال تک قید کی سزا ہو گی لیکن قید سے رہا ہونے کے بعد اسے امن کا نوبل انعام دیا جائے گا۔ دہشت گرد نے خط میں خود کو نیلسن منڈیلا سے تشبیہ دی کہ انہوں نے بھی نسل پرستی کے خاتمے کی لڑائی میں 27سال جیل کاٹی۔ سفید فام دہشت گرد نے خود کو سفید فاموں کی نسل کا نمائندہ گردانتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ دنیا میں سفید فام لوگوں کے اقتدار کے لیے لڑنے والا سپاہی ہے۔ دوسری طرف اس کے رشتہ داروں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور برینٹن ٹیرنٹ کی ایک کزن نے اس کے لیے موت کی سزا کی اپیل کی ہے، اسکا کہنا تھا کہ ملزم نے انکے خاندان کا نام خراب کیا۔

متعلقہ خبریں