نوازشریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت ، ہائیکورٹ نےتہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا

2019 ,جون 20



اسلام آباد (مانیٹرنگ رپورٹ) سابق وزیراعظم نوازشریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ سنادیا اور درخواست مسترد کردی ، عدالت نے اسیر رہنما کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کی۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں طبی بنیادوں پر ضمانت نہیں مل سکتی اور نیب کی درخواست مسترد کرتے ہوئے رہا  نہ کرنے کی استدعا منظور کرلی۔

عدالت عالیہ نے اپنے مختصر فیصلے میں لکھا کہ سپریم کورٹ نے چھ ہفتے علاج کے لیے دیئے تھے لیکن نوازشریف نے سپریم کورٹ کی طرف سے دیئے گئے وقت کا فائدہ نہیں اٹھایا،  دوران سماعت عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہاتھا  کہ جیل میں علاج کے بارے میں ایسے بتاتے ہیں، جیسے سب کو وہاں بھیجا جائے، ہمیں ایک انسانی زندگی کو بھی دیکھنا ہے۔ نوازشریف کی درخواست ضمانت کی سماعت جسٹس عمر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔ دوران سماعت نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ میں ہم دو نکات پر گئے، عدالت عظمیٰ نے مزید ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی جبکہ نیب نے ضمانت دیئے جانےکی مخالفت کی اور پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ جیل میں علاج ا چھا ہو رہا ہے جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے  کہ  تو پھر کیا جیل میں علاج اچھا ہو رہا ہے ، باہر ٹھیک نہیں ؟ جیل میں علاج کے بارے میں ایسے بتاتے ہیں جیسے سب کو وہیں بھیج دیں، فاضل جسٹس کی یہ بات سنتے ہی نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث  ہنس دیئے۔عدالت نے استفسار کیا کہ  کیا پاکستان میں ایسا کوئی ہسپتال نہیں جہاں نوازشریف کا علاج ہوسکے ، مجرم کی میڈیکل رپورٹ میں حالت خراب ہوتو ضمانت ہوسکتی ہے، سپریم کورٹ نے ایک سٹینڈرڈ قائم کیا ہے ، کچھ ہفتوں کے لیے طبی بنیادوں پر ضمانت دی جاسکتی ہے ۔   نوازشریف کے وکیل اور نیب پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا جو  چند ہی لمحوں بعد سنادیا اور درخواست مسترد کردی۔

    متعلقہ خبریں