اپوزیشن لیڈر کا حکومت سے بجٹ واپس لینے کا مطالبہ

2019 ,جون 19



اسلام آباد (مانیٹرنگ رپورٹ) اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہبازشریف نے حکومت سے بجٹ واپس لینے کا مطالبہ کردیا، قائد حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ بجٹ میں ترمیم نہ کی توحکومت چلنے نہیں دیں گے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے مطالبہ کیا کہ مزدورکی کم از کم اجرت 20 ہزارروپے کی جائے اورسرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں50 فیصداضافہ کیا جائے،انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک لاکھ تنخواہ لینے والوں کوٹیکس سے چھوٹ دی تھی،ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ سے ٹیکس ختم کیاجائے،قائد حزب اختلاف نے کہا کہ گھی اورخوردنی تیل پرعائدٹیکس فی الفور واپس لیا جائے، ٹیکنیکل یونیورسٹیوں کا جال پورے ملک میں بچھایا جائے، شہبازشریف نے کہا کہ بجٹ میں ترمیم نہ کی توحکومت چلنے نہیں دیں گے۔

    شہبازشریف نے کہا کہ آج ریونیوجمع نہیں ہورہا،خان صاحب خودفیصلہ کرلیں،حکومت آئی ایم ایف کے مشورے سے پرہیزکرے، انہوں نے کہا کہ کروڑوں لوگوں کے گھروں کاچولہابجھ چکاہے،چھوٹے کسان کوہم نے بلاسودقرض دیئے،حکومت نے کسانوں کی سبسڈی بندکردی،قائد حزب اختلاف نے کہا کہ حکومت نے سٹاک ایکس چینج میں 20 ارب جھونک دیئے،وزیراعظم نے اپنے جہازکیلئے 43 کروڑرکھے ہیں۔

    اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ لوگوں کونشانہ بناکراحتساب کاعمل ختم کیاجائے،ہم نے دم توڑتے منصوبوں میں جان ڈالی، غریب کی سائیکل پنکچرہوگئی، اس کابھی خیال کریں،غریب کی سائیکل کو 3500 پنکچرلگ گئے،انہو ںنے کہا کہ مریض کی ادویات،پی کے ایل آئی بندکردیئے گئے،بی آر ٹی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منصوبوں میں جو تاخیرہوئی ہے اس پرنیب ایکشن کیوں نہیں لیتا،حالات زیادہ خراب ہوگئے توحکومت بھاگنے کی کوشش کریگی،حکومت کوبھاگنے نہیں دیں گے،اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ 31 مئی 2018 کوڈالرکی قیمت 115.78 تھی،آج ڈالر 157 روپے پرپہنچ گیا،کاروباری افرادسرپکڑکربیٹھ گئے ہیں،آج پی ٹی آئی حکومت پرکئی سوارب قرض بڑھ گیا،انہوں نے کہا کہ نیب اورحکومت کاچولی دامن کاساتھ ہے،قرضے لےکرایک بھی منصوبہ شامل نہیں کیاگیا،ہم ان کوبھاگنے نہیں دیں گے،ایک ایک پائی کاحساب لیں گے۔

    متعلقہ خبریں