لاہور پلانٹریم

2018 ,فروری 3



لاہور پلانٹریم کراچی کے بعد دوسری سیارہ گاہ ہے ان سیارہ گاہوں کی تعمیر کا بنیادی مقصد فلکیات کے علم کو سائنس کی آسان ترین اور عام فہم زبان میں لوگوں تک پہنچانا ہے۔ پلانٹریم، سائنس کے ان کمالات میں سے ہے جو فلکیات جیسے تکنیکی علم کو ایک گنبد نما عمارت میں بچے سے بوڑھے تک ہرایک کے لیے اتنا آسان بنا دیتا ہے کہ آپ صدیوں کا سفر اور برسوں کا فاصلہ پل بھر میں طے کر لیتے ہیں۔ یہاں آپ نظام شمسی کی سیر بھی کرسکتے ہیں آسماں پر ہونے والی تبدیلیوں اور سرگرمیوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں اور یوں آپ معلومات کا وہ ذخیرہ حاصل کر لیتے ہیں جس کا حصول عام حالات میں آپ کے لیے شاید ممکن نہ ہو۔


سیارہ گاہ کے اندر ایک سپیس ماسٹر نصب ہے ایک کروڑ روپے مالیت کے اس سپیس ماسٹر کے ساتھ دوسرے سمعی و بصری آلات بھی اپنے کرشمے دکھاتے ہیں۔لیکن اصل کام سپیس ماسٹر ہی دکھاتا ہے اور مختلف برقیاتی طریقوں اور زاویوں سے رخ بدل کر گنبد کی اندرونی سطح پر چاند، ستاروں اور سورج کی گردش سے لے کر نظام شمسی کی باقی سرگرمیوں کو اس طرح تخلیق کرتا ہے کہ انسانی آنکھ کو یہ سب کچھ بہت قریب اور حقیقی معلوم ہوتا ہے۔
225نشتوں کی گنجائش کے اس پلانٹریم میں داخلے کا ٹکٹ بڑوں کے لیے چالیس روپے اور بچوں کے لیے بیس روپے ہے۔ پلانٹریم میں ایک گھنٹے دورانیے پر مشتمل پروگرام دکھائے جاتے ہیں جس کے ساتھ انگریزی یا اردو کمنٹری بھی کی جاتی ہے جبکہ پہلے کی نسبت آج کل ان پروگراموں کو مزید نئی تبدیلیوں او رجدت کے ساتھ جدید اور بھر پور انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔


دو کروڑ روپے لاگت سے قائم ہونے والے اس منصوبے کے لیے مشینری، مشرقی جرمنی کی فرم ”کارل زائس“ نے فراہم کی جو دنیا بھر میں سیارہ گاہوں کی تعمیر کے لیے خصوصی مہارت رکھتی ہے۔ سیارہ گاہ کے لیے روزانہ آٹھ ہزار واٹ بجلی درکار ہوتی ہے اس کے ساتھ ساتھ سپیس ماسٹر جیسی حساس اور نازک مشین کے لیے ائیرکنڈیشنگ کا خصوصی نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔
پلانٹریم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں دکھائے جانے والے تمام پروگرام کمپیوٹر کنٹرول کرتا ہے اور اس کا سارا نظام خود کار ہے اس طرح کے تین پلانٹریم مستقبل قریب ہی اسلام آباد، پشاور، اور کوئٹہ میں بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ طالب علم سے لے کر تمام آدمی تک ہر کوئی یہ جان سکے کہ ہماری کہکشاں اور نظام شمسی کی حقیقت اور خلاوں کے راز کیا ہیںاور پھر سب سے بڑی بات یہ کہ سب کچھ اس طرح ہوگا جس طرح کائنات میں ہوتا ہے ہر تفصیل اتنی مکمل اور واضح صورت میں ہوگی کہ آپ کو نقل پر اصل کا گماں ہوگا۔


سائنس کی جدید ترین ایجاد نے جہاں علم کے نئے سفر کا آغاز کیا وہاں صحت مند تفریح کے لیے بھر پور مواقع بھی فراہم کیے اور لاہور کے شہریوں کے لیے پی آئی اے کا یہ تحفہ انہیں ساری زندگی ”پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز“ کی علم دوستی کی یاد دلاتا رہے گا پلانٹریم میں ایک جدید اور شاندار قسم کی لائبریری بھی قائم کی گئی ہے اس کے علاوہ سبزہ زار میں بوٹنگ 720طیارہ بھی رکھا گیا ہے یہ بوٹنگ 720پی آئی اے کے اس بیڑے کا حصہ ہے جس نے 1962ءمیں کراچی سے لندن تک نان سٹاپ پروازیں کیں اور انہی جہازوں کو حاصل کرنے کے بعد پی آئی اے کو ایشیاءمیں جیٹ اڑانے والی پہلی فضا ئی کمپنی کا اعزاز حاصل ہوا تھا اس جہاز میں بہت سے سربراہان مملکت بھی سفر کر چکے ہیں اور یہ مشرقی پاکستان، چین، یورپ اور امریکہ کے براہ راست سفر بھی کرچکا ہے لیکن پٹرول کے بڑھتے ہوئے خرچ اور زیادہ آواز کے باعث اب ایسے جہازوں کا استعمال ختم کر دیاگیا ہے اس جہاز نے کراچی سے لاہور تک اپنی آخری پرواز کی بعد میں لاہور ائیر پورٹ پر اس کے انجن علیحدہ کرکے نومبر 1986ءمیں اسے سیارہ گاہ لایا گیا اور یہ سفر اس جہاز نے ایک رات شاہرا ہ قائد اعظم پر تقریباً آٹھ گھنٹے کا سفر پیدل کیا۔ کراچی کی سیارہ گاہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک جہاز رکھا گیا ہے۔اس جہاز میں بچوں کو تفریح معلوماتی اور سائنسی نوعیت کی فلمیں وغیرہ دکھائی جاتی ہیں یہ فلمیں پی آئے کا سمعی اور بصری شعبہ تیار کرتا ہے اس جہاز کی باقاعدہ پرواز، اڑان، ٹیک آف اور لینڈنگ کے تمام مراحل کے بارے میں اصل کی طرح اعلان کیا جاتا ہے جس کے ساتھ رنگین ٹیلی ویژن سیٹ پر بچوں کو معلوماتی فلمیں اور فضائی مناظر دکھائے جاتے ہیں۔


پاکستان کے سابق وزیر اعظم جناب محمد خان جونیجو نے 30جولائی 1987ءکو اس شاندار سیارہ گاہ کا افتتاح فرمایا۔ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے لاہور میں سیارہ گاہ کے قائم کرنے پر پی آئی اے کی تعریف کی اور کہا کہ علوم جدیدہ کا آغاز قرون اولی کے مسلمان سائنس دانوں اور ماہرین ریاضی کا مرہون منت ہے یہ ہمارے اسلاف کی میراث ہے ہمیں پھر سے ہمت باندھ کر اس میدان میں آگے بڑھنے اور اس کھوئی ہوئی میراث کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگر ہم اپنے تمام وسائل کو سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے وقف کر دیں توہم آج بھی اس میدان میں اپنی گذشتہ عظمت کو حاصل کر سکتے ہیں اور سیارہ گاہ اس سلسلے کی ایک بنیادی اور اہم کڑی بن سکتی ہے۔“

متعلقہ خبریں