نوکریوں کے سیلاب پرشکرانے کے نفل پڑھوں گا۔۔۔‘‘ (ن) لیگی دور ِ حکومت میں کتنا قرضہ لیا گیا؟ اسحاق ڈار نے حقیقت بیان کر دی

2019 ,اپریل 9



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اور سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 10دن میں نوکریوں کے سیلاب پرشکرانے کے نفل پڑھوں گا،وزراء کے قرضوں کے بیانات غلط ہیں، ہمارے دور میں قرضہ 9 ہزار ارب تک گیا،گروتھ ریٹ 5.8 فیصد تھا،روپیہ کبھی بھی مصنوعی طریقے سے نہیں بڑھتا، ان کو پچھلے دوہفتوں میں نے ان کوجھنجھوڑکر جگایا۔انہوں نے آج نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت کسی آئی سی یومیں نہیں تھی بلکہ یہ خود معیشت کو آئی سی یو میں لیکر گئے،ان کی کنٹینروالی سیاست ہے، ان کا ویژن تو ہے نہیں، انہوں نے معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے کوئی کوشش نہیں کی، انہو ں نے کہا کہ میں نے دوہفتوں میں پاکستانی بہن بھائیوں کے کہنے پر کوشش کی ہے۔اسد عمر کہتے کہ میں میوزک سے متاثر ہوکر پھر میں معیشت کی طرف آتا تھا،میں نے اسد عمر کو جھنجوڑا ہے۔انہوں نے 9مہینے کے وقت کو بری طرح استعمال کیا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ جب ہم نے حکومت چھوڑی پاکستانی معیشت بالکل برے حالات میں نہیں تھی، یہ میں نہیں کہتا بلکہ عالمی اداروں کالائبریریوں ریکارڈ دیکھ سکتے ہیں،معاشی ایجنسیز کا ریکارڈ دیکھا جاسکتا تھا۔پاکستان کی معیشت کے جون 17ء تک تمام عشاریے مثبت ہیں،گروتھ ریٹ بلند ترین5.8فیصد تھا،40سالوں میں مہنگائی کم ترین تھی،دوگنا ریونیو اکٹھا ہوا تھا،دنیاکے ادارے کہہ رہے تھے کہ پاکستان چند سالوں میں جی 20ممالک میں شامل ہوجائے گا۔لیکن آج یہ ہم نے خود کیا ہے ،ایک مشیر کہتا پاکستان کنگال ہوجائے گا، اسد عمر کہتے کہ پاکستان دیوالیہ ہوگا یا پھر آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے۔میں نے ان کو پچھلے دوہفتوں میں جھنجھوڑا ہے توان کو جاگ آئی ہے۔انہوں نے بہت زیادہ معیشت کو نقصان پہنچایا ہے،مہنگائی دوگنا ہوچکی ہے، افراط زر3.7فیصد سے 9فیصد پر لے گئے ہیں۔شرح نمو اسٹیٹ بینک ساڑھے تین فیصد اور اسد عمر 2.9کی بات کررہے ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ نوازشریف کی نااہلی کے وقت جون 2017ء میں پاکستان کا کل قرضہ 4ہزار200ارب بڑھا تھا،جبکہ شاہد خاقان عباسی کی حکومت میں یہ قرضہ جون میں 9ہزار ارب تک بڑھ گیا تھا۔اسی طرح پیپلزپارٹی کا پانچ سالوں میں صرف ساڑھے 8ہزار ارب قرضہ تھا۔ ہمارے دور میں بجلی،گیس کے پراجیکٹ لگائے، موٹرویز کا جال بچھایا، ہائی ویز کا جال بچھایا،انفراسٹرکچر کی، گوادر کو دوسرے ملک سے ملایا، سی پیک آیا۔ یہ ساری ملک کی سرمایہ کاری ہے۔اگر یہ سرمایہ کاری نہ ہوتی توملک 5.8فیصد گروتھ ریٹ پر نہ جاتا۔ہم نے گردشی قرضے پہلے والے کلیئر کیے پھر وہ 8سوبلین تک ہوئے، ابھی موجودہ حکومت میں گردشی قرضے 14سوبلین تک پہنچ گئے ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ملک ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پاکستان کی برآمدات اور جو پاکستانی پیسا بھیجتے ہیں دونوں کو ملا کردرآمدات کومنفی کرلیں توکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نکل آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ملک میں عدم سیاسی استحکام لائیں گے، ایک نئی حکومت کو لائیں گے توپھر ایسے ہوتا ہے۔اگر موجودہ حکومت قرضوں پر سود دے رہی ہے ہم بھی تو دے رہے تھے۔اگر اب حکومت نالائقی کا مظاہرہ کررہی ہے تو یہ ن لیگ کی ذمہ داری نہیں ہے۔قرض لینا کوئی بری بات نہیں ہے، ہم نے بھی مشرف دورکے ، پیپلزپارٹی کے دور کے قرضے بھی واپس کیے ہیں۔روپیہ کبھی بھی مصنوعی طریقے سے نہیں بڑھایا جاتا، جبکہ روپے کی قدر میں کمی کرکے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے یا گروتھ ریٹ کو بڑھانے کا کوئی حل نہیں۔ اگر روپے کی قدر مستحکم رہتی توعوام خوشحال رہتے ، معیشت عوام کو پریشان کرنے کیلئے نہیں ہوتی۔ان کے وزیر کہہ رہے تھے کہ 10دن میں نوکریوں کا سیلاب آنے والا ہے میں تو شکرانے کے نفل پڑھوں گا۔

متعلقہ خبریں