پتھروں سے بنائے گئے دنیا کے قدیم ترین مندر ۔

2018 ,جنوری 27



کراچی(مہرماہ رپورٹ): فوٹو گرافر شاذ و نادر ہی کسی نئے موضع پر فوٹو گرافی کرتے ہیں۔ ان کا کام عموماً کسی ایسے کام سے متاثر یا اس کا عکس ہوتا ہے جو اس سے پہلے بھی کیا جا چکا ہوتا ہے۔بعض دفعہ محرک کو بیان کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن کچھ منصوبے ایسے ہوتے ہیں جو پہلے سے موجود کام کو ہی اپنے نئے کام کا نقطۂ آغاز بناتے ہیں۔ ’میگنم ری ٹولڈ‘ ایسا ہی ایک سلسلہ جس میں فوٹو گرافر اس سے پہلے ’میگنیم فوٹوز‘ کے تحت ہی کیے گئے کام سے خیال اخذ کرتے ہیں۔انہی میں سے ایک میگنم فوٹو گرافر سٹورٹ فرینکلن کی جانب سے کیا گیا کام ’ٹیمپلز آف سٹون‘ یعنی پتھروں کے مندر ہے۔ انھوں نے ان تصاویر کے لیے تنظیم کے بانی فوٹوگرفرز میں سے ایک برائٹن جارج راجر کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مصر اور مراکش کا سفر کیا۔برائٹن جارج راجر نے شمالی افریقہ سے ہوتے ہوئے 60 سال پہلے یہاں کا سفر کیا تھا۔فرینکلین کا کہنا تھا کہ ’میں جارج کے شمالی افریقہ کے مناظر کے حوالے سے کیے گئے کام سے کافی متاثر تھا کیونکہ لوگ ان کے تجسس، ان تھک کام اور افریقہ میں قدرت اور معاشرے کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے ان کی تلاش کا کافی ذکر کرتے تھے۔‘میگنم فوٹوز کے چار بانی رابرٹ کاپا، ہینری کارکائر بریسن، جارج راجر اور ڈیوڈ چم سیمور نے آپس میں دنیا کے مختلف خطے بانٹ لیے تاکہ سب کے پاس اپنا ایک علاقہ ہو۔ راجر کے حصے میں افریقہ آیا۔ انھوں نے اس علاقے کے کئی دورے کیے جن میں 1957 میں سحارا کا دورہ شامل تھا جس کے دوران ان کی اہلیہ جنکس بھی ان کے ساتھ تھیں۔ انھوں نے تین ماہ میں 4000 میل کا سفر کیا۔یہاں بنائی گئی خوبصورت تصاویر میں مناظر کی دلکشی، تاریخی مقامات اور یقیناً ان سے ملنے والے لوگوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔لامحالہ دنیا آگے بڑھ چکی ہے تاہم مناظر اب بھی ویسے ہی ہیں جیسے کہ برسوں پہلے راجر نے دیکھے تھے۔فرینکلن کا کہنا تھا ’جارج راجر کو صحراؤں ، افریقہ، اس کے ان دیکھے مناظر اور لوگوں سے محبت تھی جنہیں جدت نے چُھوا تک نہیں تھا۔‘آخری بات تو شاید اب نہیں رہی لیکن باقی تمام چیزیں ویسی ہی تھیں جنہیں انھوں نہ سنہ 1950 کی دہائی میں چھوڑا تھا۔‘یہاں کے آغاز فوٹوگرافرز اور فنکاروں کے لیے حیران کن ہیں۔ راستے صاف ہیں لیکن سڑکیں نہیں بنیں۔‘میں ہمیشہ سے قدرتی مناظر میں دلچسپی رکھتا تھا خاص طور پر قدرت اور معاشرے کے درمیان رابطے پر۔‘تغیّر زدہ مجسمے، چٹانوں کے پُشتے، قدرتی اور انسانی ساختہ کھیت یہ سب صحرا میں دکھائی دیتے ہیں ان میں موجود چٹانیں آثارِ قدیمہ کی کسی خوابی دنیا کا منظر پیش کرتے ہیں۔انہی سب چیزوں نے میرے آگے کے راستے کا تعین کیا اور میں نے جراج راجر کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یہ منصوبہ بنایا۔‘راجر نے اس وقت کام کیا جب فوٹو گرافر مہینوں کے لیے غائب ہو جایا کرتے تھے اور واپسی پر ان کے پاس فلموں کے تھیلے ہوا کرتے تھے انہیں ایڈٹ اور کرافٹ کیا جاتا تھا تاکہ انہیں راسلوں اور اخبارات میں شائع کیا جا سکے۔

اور آج بہت سے لوگ یقیناً یہ فوری اپ لوڈ اور سوشل میڈیا پر شیئر کرلیتے ہیں۔فرینکلن کا کہنا تھا ’میں اس دور میں بڑا ہوا جب میں اپنی بنائی ہوئی تصاویر دیکھنے کے لیے ہفتوں اور کبھی کبھار مہینوں تک انتظار کرتا تھپا۔ خاص طور پر جب میں نیشنل جیوگرافک کے لیے کام کرتا تھا۔‘پھر ان کی اشاعت کے لیے ایک طویل انتظار کرنا پڑتا، اس دوران انہیں بہتر بنانا، جانچ پڑتال کرنا حتٰی کے کبھی کبھار دوبارہ جا کر تصاویر بنانا شامل ہوتا۔ جلد چھپنے والی تصاویر نہ صرف چیلنجز لاتے بلکہ مزید مواقع بھی۔‘فوری اپ لوڈ کی دنیا مںی تصاویر کی گہرائی اور موضوع یقیناً ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ‘تصاویر دراصل چیزوں کے نقش کا ریکارڈ ہوتی ہیں ان میں سے کچھ چیزیں فوری ختم ہونے والی ہوتی ہیں اور کچھ پتھروں کی بنی چیزیں اور مجسمے دیر تک رہنے والے ہوتے ہیں۔ تو ایسی چیزیوں کا ریکارڈ رکھنے کا کیا مقصد ہے جن کے قائم رہنے کی مدت شاید ان کی تصاویر کی مدت سے زیادہ ہی ہو؟فوٹوگرافی یا تصاویر ہمیں دنیا میں ہونے والے ان چیزوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں جو شاید لفظوں میں بیان نہیں ہوسکتا۔دستاویزی فوٹوگرافی اگر حساسیت کے ساتھ کی جائے تو یہ ہمیں انسانوں اور مسائل کے ساتھ سماجی، سیاسی اور ماحولیاتی ربطہ پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس میں کسی مضافاتی قصبے کی زندگی پر مبنی کہانی سے لے کر کسی تنازع کے قصے اور استحصال کی اقسام سے لے کر مخلوقات کے ناپید ہونے تک کے موضوعات شامل ہیں۔‘سٹورٹ فرینکلین کی تصاویر ’پتھروں کے مندر ‘ 17 جنوری سے 16 فروری 2018 تک لیسا سٹوڈیوز میفیئر میں جاری نمائش میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں