محسن داوڑ برقعہ پہن کرافغانستان فرار ہونے کی کوشش میں گرفتارہوا

2019 ,مئی 30



لاہور (مانیٹرنگ رپورٹ) محسن داوڑ برقعہ پہن کرافغانستان فرار ہونے کی کوشش میں گرفتار ہوگیا، وہ پوری عورت کے گیٹ اپ میں تھا تاہم مردوں والے جوتے تبدیل کرنا بھول گیا، جو اس کی گرفتاری کا سبب بنا۔ بویا میں فوجی چیک پوسٹ پرحملہ کرنے کے بعد فرار ہو جانے والے محسن داوڑ کو گرفتار کرنے کے بعد انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے محسن داوڑ کو آئندہ پیشی تک کے لیے 8روزہ ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا ہے۔

محسن داوڑ نے 26مئی کو علی وزیراور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا، جس میں 1فوجی شہید جبکہ 5زخمی ہو گئے تھے۔ پاک فوج کی جوابی کارروائی پر 3حملہ آور ہلاک جبکہ 10زخمی ہو گئے تھے۔ سکیورٹی اداروں نے حملہ کرنے پر علی وزیر اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا جبکہ محسن داوڑ فرار ہو گئے تھے جس کے بعد انہوں نے غیر ملکی میڈیا پر پاکستان اور افواجِ پاکستان کے خلاف انٹرویو بھی دیا، لیکن آج صبح سکیورٹی فورسز نے انہیں شمالی وزیراستان سے گرفتار کر لیا، جس کے بعد انہیں کمشنر آفس بنوں منتقل کر دیا گیا اور اب انہیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے پاک فوج پر بزدلانہ حملے کے بعد محسن داوڑ کا روپوش ہونے کے بعد پہلا بیان سامنے آیا تھا کہ پاک فوج وزیرستان سے نکل جائے۔ محسن داوڑ نے نامعلوم مقام پر غیر ملکی میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاک فوج وزیرستان سے چلی جائے۔

خیال رہے کہ پاک فوج نے کئی سالوں کی ان تھک محنت، دہشتگردوں کے خلاف آپریشن اور ان آپریشنز میں جوانوں کی قربانیاں دے کر وزیرستان میں امن بحال کیا لیکن حال ہی میں محسن داوڑ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر وزیرستان میں پاک فوج کی چوکی پر نہ صرف حملہ کیا بلکہ وزیرستان میں امن وامان کی صورتحال بھی خراب کرنے کی کوشش کی جس کی سختی سے مذمت بھی کی گئی۔ محسن داوڑ کے حالیہ انٹرویو میں کیے گئے مطالبے پر سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ محسن داوڑ کے اس بیان سے لگتا ہے کہ وہ وزیرستان میں بحالی امن سے خوش نہیں ہیں اور دوبارہ پاک فوج کو وزیرستان سے بھیجنا چاہتے ہیں اگر پاک فوج وزیرستان سے چلی گئی تو عین ممکن ہے کہ وزیرستان دوبارہ سے دہشتگردوں کی پناہ گاہ بن جائے جو کہ پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے۔

متعلقہ خبریں