خالق کائنات نے اپنے حبیب پاک ﷺ کی خوبیوں کا تذکرہ کس طرح کیا ؟ پڑھیئے ایک ایمان افروز تحریر

2018 ,جنوری 12



لاہور(مہرماہ رپورٹ): اس کائنات میں نبی کریمؐ کی بعثت اور لبادۂ بشری میں اس دنیا میں تشریف لانا بلاشبہ انسانیت پر رب کریم کا سب سے بڑا احسان ہے اور اس عظیم احسان کا ذکر رب العالمین نے اپنی کتاب مبین میں یوں فرمایا: مفہوم: ’’ بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے

تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مومنین پر کامل مہربان، پھر بھی اگر وہ منہ پھیریں تو کہہ دے کافی ہے مجھ کو اللہ، کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا اسی پر میں نے بھروسا کیا اور وہی مالک ہے عرش عظیم کا۔‘‘ ( سورۃ التوبہ آیات )خالق کائنات نے نہ صرف اپنے حبیب پاکؐ کی خوبیوں کا تذکرہ محبت سے کیا بل کہ نبیؐ کے ساتھ برتاؤ کے لیے موزوں ترین معاشرتی اصول و انداز بھی بتائے۔ وہ لوگ جو نبی کریمؐ سے برابر کے ساتھی والا رویہ اپناتے ہوئے انہیں حجروں کے باہر سے پکارتے تھے یا ان کی محفل میں اونچی آواز سے گفت گو کرتے ان کے ان افعال کی سختی سے مذمت کی گئی اور باز نہ آنے پر اعمال کے اکارت جانے کی وعید سنائی۔مفہوم: ’’ اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس نبی کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال اکارت ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔‘‘ ( الحجرات) مفہوم: ’’ بے شک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا۔( الحجرات)۔

مدحتِ رسولؐ اور تعظیم سرورِ دیں کے پیمانے امت کو دیے جاچکے۔ اب ان میں کمی بیشی کرنا ناانصافی ہے۔ اللہ کے مقدس فرمان، اقوال رسولؐ اور صحابہؓ کا نعتیہ کلام و اقوال، نعت نگاری میں ہمارے لیے منارۂ نور ہیں اس جادہ پر چلنا ادب و محبت کی معراج اور اس سے ہٹ جانا رسوا کن تباہی ہے۔اوصاف و انعاماتِ نبویؐ بہ حوالۂ احادیث:’’میں بغیر فخر کے یہ بات کہتا ہوں کہ ابراہیم خلیل اللہ ہیں اور موسیٰ صفی اللہ ہیں اور میں حبیب اللہ ہوں۔ قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا۔‘‘(جامع الترمذی)۔’’مجھے پانچ خصوصیات دی گئی ہیں۔ میں ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ساتھ مدد کیا گیا ہوں۔ میرے لیے تمام روئے زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنادی گئی ہے۔ میرے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا ہے جب کہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھا۔ مجھے مقامِ شفاعت عطا کیا گیا ہے اور (مجھ سے پہلے) نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور میں تمام انسانوں کی طرف نبی بناکر بھیجا گیا ہوں۔‘‘’’اللہ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کیا کرو، صحابہؓ نے عرض کی ’’اے اللہ کے رسولؐ ! وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا وسیلہ جنت کا اعلیٰ درجہ ہے صرف ایک ہی آدمی اسے حاصل کرسکے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا۔‘‘(جامع الترمذی)۔

’’سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھلواؤں گا اور دربان جنت کہے گا کہ مجھے یہی حکم ہے کہ آپؐ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔‘‘(صحیح مسلم، مسند احمد)۔ حسنِ صورت و سیرت نبوی،ؐ اقوالِ صحابہؓ کے آئینے میں۔ابوہریرہؓ سے روایت ہے: ’’ میں نے نبیؐ سے بڑھ کر خوب صورت کسی کو نہیں دیکھا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپؐ کے چہرۂ مبارک میں آفتاب جاری ہے۔‘‘ ( الشمائل النبویۃ اللترمذی)۔ حضرت علیؓ : ’’ آپؐ کی تعریف کرنے والے کہہ دیا کرتے تھے کہ حسن و جمال کا ایسا نمونہ نہ ہم نے پہلے کبھی دیکھا اور نہ بعد میں کبھی دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ (مسند احمد)۔کعب بن مالکؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت خوش ہوتے تو آپؐ کا چہرۂ مبارک دمکنے لگتا۔ ایسے معلوم ہوتا جیسے آپ کا چہرۂ مبارک چاند کا ٹکڑا ہے۔‘‘(صحیح بخاری)۔’’رسول اللہ ﷺ فحش گو، لعنت کرنے والے اور گالی دینے والے نہ تھے، ناراضی کے وقت فرماتے: اسے کیا ہے؟ اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔‘‘ (صحیح بخاری)۔ رسول کریمؐ کی شان میں اہل بیت رسولؐ اور اصحابؓ نے منظوم مدح گوئی بھی کی ہے جس میں حسن و مناقب نبویؐ کو پورے انصاف کے ساتھ نبھایا اور نعت کو حمد کے درجے سے جدا بھی رکھا۔

اہل بیت رسولؐ اور نعت نگاری: سیدہ فاطمۃ الزہرہؓ :’’جس نے احمد مجتبیٰ ﷺ کی تربت کو سونگھ لیا اس پر کوئی حرج نہیں اگر وہ ساری عمر کوئی اور خوش بو نہ سونگھے۔‘‘’’بڑی قدر و منزلت والا پہاڑ بھی آپؐ کی جدائی پر اشک بار ہے اور پردوں اور رکنوں والا بیت اللہ بھی۔‘( المواہب الدنیۃ للقسطلانی)۔ حمزہؓ بن عبدالمطلب :’’ میں ستائش کرتا ہوں اس کی جو ہم میں برگزیدہ ہیں، جن کی اطاعت کی جاتی ہے لہٰذا تم ان کے سامنے نامناسب لفظ بھی منہ سے نہ نکالنا۔ ( المواہب الدنیۃ) حضرت عائشہ صدیقہؓ :’’ اندھیری رات میں ان کی پیشانی نظر آتی ہے تو اس طرح چمکتی ہے جیسے روشن چراغ، احمد مجتبیٰؐ جیسا کون تھا اور کون ہوگا، حق کا نظام قائم کرنے والا اور ملحدوں کو سراپا عبرت بنانے والا۔‘‘( الستیعاب لابن عبدالبر)۔ صحابہ کرامؓ اور نعت نگاری۔حضرت حسان بن ثابتؓ :’’ اور اللہ نے کہا کہ ہم نے ایک بندے کو بھیجا ہے جو حق بات کہتا ہے اگر آزمائش نفع بخش ہو ( تو اس کی صداقت آزمالو، میرا باپ اور باپ کا باپ اور میری عزت محمدؐ کی عزت کے لیے تمہارے مقابلے میں ڈھال ہے۔‘‘ (تاریخ دمشق الکبیر) حضرت عمرِ فاروقؓ :’’اللہ نے اہل مکہ کو محروم کردیا نبیؐ سے جب ان لوگوں نے سرکشی کے خیالِ فاسد یعنی قتل پر کمر باندھی، پس رسول اللہ ﷺ کو اللہ نے غلبے والی نصرت بخشی اور ان کے دشمن مقتول ہوئے اور شکست کھا کے بھاگے۔‘‘ (بلوغ ادب الالوسی)۔

حضرت عثمان غنیؓ :’’اے میری آنکھ تو آنسو بہا اور نہ تھک، اپنے سردار پر آنسو بہانا تو لازم آچکا ہے۔‘‘کعب بن مالکؓ :’’ جن کا معاملہ بہت سلجھا ہوا ہے تدبر، علم اور بردباری والے اوچھی باتوں اور ہلکے پن سے بہت دور۔‘‘ ( تفسیر ابن کثیر)۔ عبداللہ بن رواحہؓ :’’ میری روح قربان ہو اس ذات پر جس کے اخلاق اس بات پر شاہد ہیں کہ وہ بنی نوع انسان میں سب سے بہتر فرد ہیں۔‘‘ ( سیرہ ابن ہشام ) خالق کائنات کے حبیبؐ کے عمدہ اخلاق پر تو رب کا قرآن، ان کو پڑھنے اور جاننے والا ہر انسان، دوست و دشمن گواہ ہے کہ بشریت کے اعلیٰ ترین اوصاف، دیانت داری، سچائی، انسانی ہم دردی، تقویٰ و پرہیزگاری، ایفائے عہد، سماجی بہبود ، حیوانوں تک پر شفیق کو اگر ہم کسی مجسم صورت میں دیکھنا چاہیں تو وہ ذات صرف اور صرف ذات پیامبرؐ ہے اور کوئی نہیں۔ وہ ہستی تو باطنی و ظاہری حسن و جمال کا انوکھا اور الوہی جہان ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حضور اکرمؐ کے ظاہری جمال کا تذکرہ و مدحت بھی رحمتِ خداوندی کے حصول کا ذریعہ ہے مگر جمال ظاہری کے بیان کے ساتھ ساتھ نبی آخر الزماںؐ کے اعلیٰ اخلاق، کردار،اسوۂ حسنہ اور محاسن نبوت کا تذکرہ بھی اسی ذوق و شوق سے کیا جانا چاہیے کہ اسلام محض لفاظی اور مادیت پرستی کا دین نہیں بل کہ اس صاحبِ کردار و پیکر تسلیم و رضائے ربّانی کا دین ہے جو ہر محاذ عمل و جہد کا فاتح بے مثال ہے۔نبیؐ کے صحابہؓ کہتے ہیں کہ وہ فحش گو، لعنت کرنے والے اور گالی دینے والے نہ تھے مگر آج امتی کا یہ عالم ہے کہ وہ فحش گوئی کو مذاق اور گالی دینے، لعن طعن کرنے کو مردانگی سے تعبیر کرتا ہے۔ صبر و برداشت اور حسن معاشرت کا درس دینے والے کی امت جب ذرا ذرا سی باتوں پر بھڑک کر سر راہ گلی کوچوں، سڑکوں پر باہم دست بہ گریباں ہوکر شرافت کو شرمندہ کرتے ہوئے مغلظات کی بوچھاڑ کرتی ہے تو رسول اکرمؐ کے سچے عاشق و امتی ہونے کے دعوے کی قلعی کھل جاتی ہے۔ہم حسن معاشرت کے زریں اصولوں پر عمل سے عاری اپنے جیسے انسانوں کو اذیت دینے میں سبقت لے جانے والے سود خوری، گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی، دھوکا دہی، حرام خوری کی لعنتوں میں گرفتار اور اس پر مستزاد دعویٰ حبِ رسول اور عشق حقیقی، حرام ذرایع سے مال و دولت کمانا اور پھر ذکرِ خدا اور ذکرِ رسولؐ کی محافل سجانا، کیا اپنے مخلص نبیؐ سے جو ہمیں بہ وقتِ نزع نہ بھولے اور نہ اس دن بھولیں گے جب ماں اپنے بچوں کو پلٹ کر نہ دیکھے گی۔ان کے وصال ظاہری کے بعد ایسا طرز عمل روا ہے کہ ہم اس عالمی ہجو گوئی رسولؐ کے زمانے میں صرف ظاہری جمالِ مصطفیؐ پر اشعار کہتے رہ جائیں، مدینے آنے جانے کی تڑپ پر لفاظی کرتے رہ جائیں۔ حسان بن ثابتؓ کے جان نشین دونوں پہلو اجاگر کرتے ہیں۔ جمال رسولؐ بھی، اخلاق و کردار رسولؐ بھی۔

متعلقہ خبریں