انڈیا اسرائیل: شست پر

2019 ,مارچ 15



اسرائیلی فوج کے کیپٹن شیرون نے 1967ءمیں شادی کی۔ شادی کے بعد ہنی مون کیلئے دس دنوں کی چھٹی لے کر بھارت چلا گیا۔ وہاں وہ ہمالیہ کی وادیوں میں گھومتا رہا۔ ایک دن ٹیکسی میں سیر کرتے ہوئے تل ابیب ریڈیو آن کیا۔ خبروں سے پتہ چلا، اسرائیل اورعربوں کی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ اس نے وہیں سے ٹیکسی واپس مڑوائی اور بمبئی پہنچا۔ اسرائیل جانے والی پہلی فلائیٹ کیلئے ٹکٹ خریدے۔ یہیں سے اپنے والدین کو مطلع کرتے ہوئے کہا کہ اسکی وردی اور دیگر لوازمات لے کر تل ابیب ائیر پورٹ پر اس کا انتظار کریں۔ شیرون تل ابیب پہنچا ‘وردی پہنی۔ وہاں سے اپنی یونٹ کو فون کیا اور چار گھنٹوں بعدوہ صحرائے سینا میں فرنٹ لائن پر یونٹ کے ساتھ مصری فوج پر حملے میں شامل تھا۔ اسرائیل مسلم ممالک میں گھرا ہوا ہے، اسے اپنے دفاع کیلئے بہت کچھ غیر معمولی اقدامات کرنا پڑتے ہیں ۔ ہراسرائیلی یہودی کیلئے فوجی تربیت لازمی ہے، اس کا ہر فوجی کیپٹن شیرون کی طرح اپنے ملک اور قوم کیلئے جاں دینے کے جذبے سے معمور ہے۔ ایسے جذبے کو شکست دینا ناممکن ہے....مگر ناممکن کو ممکن بنانا ناممکن نہیں۔ایسے جذبوں کو شکست وہی دے سکتا جو ان سے زیادہ پُرعزم، شجاعت اورمہارت میں بڑھ کر ہو اور یہ پاکستان کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ پاکستان نے اسرائیلی فوج پر برتری اپنے عمل سے ثابت کی ہے۔اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کا اساطیری تصور عربوں نے 73ءکی جنگ میں بکھیر دیا تھا‘جب اسرائیلی قبضے سے نہر سویزبارلیولائن تہس نہس کرکے چھڑالی گئی۔یہ ریت کے پہاڑ اُٹھا کر بنائی گئی تھی،یہ اسرائیل کی دانست میں ناقابل تسخیر تھی،مگر ایک مصری کپتان نے اپنے والد کو ریت کے ٹیلوں سے پانی کے پائپ سے راستہ بناتے دیکھا تھا۔ بڑے پمپوں کے ذریعے،ٹینکوں کا راستہ ہموار و استوار ہوگیا، اسکے بعد اسرائیل نے 10 مین رول کا فلسفہ و سٹریٹجی اختیار کی‘ اسکی تفصیل پھر کبھی سہی۔
پاکستان نے تو اسرائیل کا طاقتورہونے کا زعم چکنا چور کردیا۔ سب سے زیادہ اسرائیلی طیارے گرانے کا ریکارڈ پاکستانی فائٹرسیف الاعظم کے پاس ہے جنہوں نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کے 4 طیارے مار گرائے۔ہوا یہ تھا کہ عرب ممالک نے پاکستان سے اپیل کی کہ اسرائیل نے اچانک حملہ کردیا ہے،انکے پاس ماہر پائلٹ نہیں ہیں۔اس پر پاکستان نے فوری طور پرپائلٹ بھیجے تھے۔اسرائیلی طیاروں نے اردن پر حملہ کیا تو سیف الاعظم نے دو اسرائیلی جہاز تباہ کر دئیے۔ کچھ دنوں کے بعد انہیں عراق بھیج دیا گیا وہاں بھی انہوں نے دو اسرائیلی طیارے تباہ کئے۔ پاکستانی پائلٹوں نے درجنوں جاسوسی پروازیں کر کے بھی توپ خانے کی مدد کی جبکہ پسپائی میں بھی عرب فوج کو ہوائی مدد دے کر محفوظ بنایا۔ 1973ءکی عرب اسرائیل جنگ میں بھی پی اے ایف کے کچھ پائلٹوں نے اسرائیل کیخلاف اپنی خدمات پیش کیںان کوحکومت نے اجازت دیدی۔ان میںعبدالستار علوی بھی تھے۔انہوں نے جولان کی پہاڑیوں پر دو اسرائیلی حملہ آور میراج طیاروں کا روسی مگ 21 طیارے کے ذریعے تعاقب کیااورایک کو مارگرایا۔
سیف الاعظم بنگالی تھے۔ مشرقی پاکستان ٹوٹا تو وہ بھی پاکستان سے کوچ کر گئے وہاں وہ گروپ کیپٹن کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ستار علوی ائیر کموڈور ریٹائر ہوئے، ان سے فون پر بات ہوتی رہی ہے‘ وہ کبھی اس کارنامے پر اترائے نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی طیارہ میزائل کی رینج میں آیا، بٹن دبایا تو لگا میزائل فائر نہیں ہورہا۔ دراصل فائر کا ڈیلے ٹائم ایک سیکنڈ تھا۔ ایک سیکنڈ بعد میزائل فائر ہوا اور آناً فاناً اسرائیلی میراج پہاڑیوں میں بکھر گیا، پائلٹ خطرہ محسوس کرتے ہوئے بیل آﺅٹ کر گیا جسے شامی فورسز نے ریسکیو کر لیا۔ میری خواہش اس پائلٹ سے ملاقات کی تھی مگر وہ بچ نہ سکا۔ 
ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اُس دورمیں میراج جدید اور مگ 21 ون سے کہیں بہتر تھا مگر۔۔۔ اسلحہ سے زیادہ اس کو چلانے والے کی شجاعت و مہارت پر بھی انحصار ہوتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مگ 21 گرنے اور ونگ کمانڈر ابھی نندن کی گرفتاری پر رافیل طیاروں کی ضرورت کا احساس ہوا۔ بات طیارے یا اسکی جدت اور ماڈل ہی کی نہیں۔ مین بیہائنڈ دی گن کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ابھی نندنوں کو سو سال بعد آنے والی ٹیکنالوجی کے طیارے دے دئیے جائیں تو بھی ایسے پائلٹوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے جن کوحسن صدیقی، نعمان علی، سیف الاعظم، ستار علوی اور ایم ایم عالم جیسے پائلٹ اُڑا رہے ہوں۔ 
اسرائیل اُس وقت سے بدلے کی آگ میں جل رہا ہے، اس نے اپنا بدلہ کبھی ادھار نہیں رکھا۔ 1972ءمیں میونخ میں اسکی اولمپک ٹیم کے 11 کھلاڑیوں کو کیمپ میں گھس کربلیک ستمبر‘پی ایل او گوریلوں نے ہلاک کر دیا، اسرائیل نے فلسطینی ایجنٹوں اور یورپی انٹیلی ایجنسیوں کی مدد سے اس حملے کے پیش منظر اور پس منظر کے ایک ایک کردار کو مختلف ممالک میں تلاش کر کے مار ڈالا، انکی تعداد 35 تک بتائی جاتی ہے۔ یہ شاید دنیا کا طویل ترین آپریشن تھا جو 20 سال مسلسل جاری رہا۔ بلیک ستمبر گوریلے 1976 میں اسرائیل کا مسافر طیارہ اغوا کر کے یوگنڈا لے گئے جو اسرائیلی کمانڈوز آپریشن کر کے مسافروںسمیت واپس لے آئے تھے۔
اسرائیل پاکستان سے ادھار چکانے کیلئے انگاروں پر لوٹ رہا ہے۔ اس نے پہلے مصر پھر عراق کا ایٹمی پروگرام اڑا کے رکھ دیا۔ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کےخلاف بھی وہ ایسی ہی مہم جوئی کرنا چاہتا تھا مگر پاکستانی فورسز ہر وقت جاگتی اور الرٹ رہتی ہیں۔ 1984ءمیں ایسی ہی کارروائی کی پلاننگ کی گئی جس کی خبر پاکستان کو ہو گئی تو اس دور میں ائیر چیف انور شمیم نے وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب سے بھارت کو جواب میں اُڑا کے رکھ دینے کا سخت پیغام پہنچانے کو کہا تھا ۔ہنود و یہود کی سرشت میںپاکستان دشمنی شامل ہے۔ منہ کی کھانے کے باوجودپاکستان کیخلاف اسرائیل بھارت گٹھ بدستور جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ابھی نندن کے ساتھ دوسرا پاکستان میں پکڑا جانےوالا پائلٹ اسرائیلی تھا۔ سوشل میڈیا میں یہ خبر چنگھاڑ اور ریگولر میڈیا میں دبے لفظوں میں آ رہی ہے مگر تردید نہیں ہو رہی۔
اسرائیل کو کسی صورت آسان نہیں لیا جا سکتا‘بھارت کی طرح اسرائیل بھی ہماری شست (نشانے) پر ہے۔ آخر میں ایک واقعہ جو ایٹمی سائنس دان نے سنایا۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے شاہین میزائل کی رینج چار ہزار کلومیٹر تک بڑھانے کی تجویز دی جس پر صدر جنرل مشرف نے خاموشی اختیار کر لی،وہ ملاقات کا بھی وقت نہیں دے رہے تھے۔ ایک مسلم ملک کے سربراہ کے توسط سے اپنے ملک کے صدر سے ملاقات کی سبیل نکالی۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے تجویز دہرائی جو سپارکو کی ڈیمانڈ تھی وہ خلا میں سیارہ چھوڑنا چاہتے تھے۔ اس کیلئے 35 سو کلومیٹر رینج کے راکٹ کی ضرورت تھی۔ احتیاطاً سائنسدان 4 ہزارکلو میٹر رینج کا بنانا چاہتے تھے۔ مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بات سنی اور کہا آپ تو یہ میزائل اسرائیل تک مار کیلئے بنانا چاہتے ہیں، اسکے ساتھ بات ختم ہو گئی لیکن دونوں کے مابین اختلافات کی خلیج مزید وسیع ہو گئی۔الحمدللہ اب اسرائیل جدتوں سے مزین پاکستانی شاہین میزائلوں کی رینج میں ہے!!

متعلقہ خبریں