ماضی کی حکومتوں نے کتنے بیرونِ ملک ملازمتیں‌کرنے والوں کو گورنر اسٹیٹ بینک مقرر کیا؟ سارا کچا چھٹا کھل گیا

2019 ,مئی 8



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان افتخار درانی نے ڈاکٹر رضا باقر کی تعیناتی پر پی پی چیئرمین کی تنقید پر اسٹیٹ بینک کے ماضی کے گورنرز کی فہرست جاری کردی۔بلاول بھٹو کے بیان پر ترجمان وزیراعظم آفس نے ردعمل دیتے ہوئے ماضی کے گورنر اسٹیٹ بینک کی فہرست جاری کی۔ افتخار درانی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے حادثاتی چیئرمین کی یادداشت کمزور ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیمی یافتہ پاکستانی پہلے بھی بیرونِ ملک ملازمت کرتے رہے ہیں، گورنراسٹیٹ بینک،بڑےاداروں میں بیرون ملک سے پاکستانی آتےرہے ہیں۔ترجمان وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والی فہرست میں بتایا گیا کہ 1993 میں آئی ایم ایف کے محمد یعقوب کو گورنر اسٹیٹ بینک تعینات کیا گیا جنہوں نے 6 سال تک اپنی ذمہ داری انجام دی اسی طرح 1999 میں گورنر تعینات ہونے والے عشرت حسین بھی ورلڈ بینک سے آئے تھے انہوں نے بھی 6 سال تک گورنر کے عہدے پر کام کیا۔فہرست میں بتایا گیا کہ 2006میں اےڈی بی کی شمشاد اختر کو گورنر اسٹیٹ بینک بنایا گیا، اسی طرح 2009میں انٹرنیشنل کمرشل بینکرسلیم رضا گورنراسٹیٹ بینک مقررہوئے، اسی طرح یاسین انور ، اشرف وتھرا بھی عالمی بینکوں میں ملازمت کرتے رہے اور انہیں بھی گورنر اسٹیٹ بینک مقررکیا گیا۔ترجمان وزیر ہاؤس کے مطابق ماضی میں ہونے والی تقرریاں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے ادوار میں ہوئیں،بلاول بھٹو کو پڑھی لکھی میڈیا ٹیم کی اشد ضرورت ہے اور تنقید سے پہلے انہیں اپنی حکومت کی کارکردگی کو دیکھنا چاہیے۔ دوسری جانب ایک خبر یہ بھی تھی کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور آئی ایم ایف نے ٹیکس شرائط سے پیچھے ہٹنے سے صاف صاف انکار کر دیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام سے بجٹ میں 700 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ایف بی آر سے 700 ارب روپے کا ٹیکس پلان مانگ لیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا پالیسی اقدامات کے ذریعے اضافی ٹیکسز لگانے کا پلان ہے، نئے اقدامات کے ذریعے ٹیکس آمدن بڑھانے کا پلان پیش کیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف ٹیکسز سے متعلق شرائط نرم کرنے پر تیار نہیں اور عالمی مالیاتی ادارہ ایف بی آر کا ٹارگٹ 5200 ارب روپے سے زائد مقرر کرنا چاہتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے بجلی اور گیس مزید مہنگی کرنے کی آئی ایم ایف کی شرائط مان لی ہیں، بجلی،گیس کی مد میں 340 ارب روپے 3 سال میں صارفین کی جیبوں سے نکالے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے نیپرا اور اوگرا کو بجلی اور گیس کی قیمتوں کے تعین کے لئے خودمختار بنانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ حکومت نے چھوٹے صارفین کے علاوہ سب کے لیے سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، صنعتی صارفین میں صرف ایکسپورٹ انڈسٹری کو محدود سبسڈی دی جائے گی۔ یاد رہے کہ اب خبر یہ ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان افتخار درانی نے ڈاکٹر رضا باقر کی تعیناتی پر پی پی چیئرمین کی تنقید پر اسٹیٹ بینک کے ماضی کے گورنرز کی فہرست جاری کردی۔بلاول بھٹو کے بیان پر ترجمان وزیراعظم آفس نے ردعمل دیتے ہوئے ماضی کے گورنر اسٹیٹ بینک کی فہرست جاری کی۔ افتخار درانی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے حادثاتی چیئرمین کی یادداشت کمزور ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیمی یافتہ پاکستانی پہلے بھی بیرونِ ملک ملازمت کرتے رہے ہیں،

متعلقہ خبریں