’’ مریم نواز نے وزیراعظم بننے کی خواہش میں والد کو جیل بھجوا دیا‘‘

2019 ,مئی 23



اسلام آباد ی (مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی پارلیمانی سیکرٹری ریلوے فرخ حبیب نے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز نے وزیراعظم بننے کی خواہش میں والد کو جیل بھجوا دیا،نواز شریف نے بیٹوں کی خاطر منی لانڈرنگ کی۔شہباز شریف تلاش گمشدہ ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں چوروں کا بازار لگا ہوا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔سابقہ دور میں چوروں نے ملک کو نقصان پہنچایا،اپوزیشن عمران خان کو ترقی کے راستے سے ہٹانا چاہتی ہے۔جب کہ مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ پانامہ رانی نے وزیراعظم بننے کی خواہش میں والد کو جیل بھیج دیا۔انہوں نے پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس کو اردو نہیں آتی وہ پاکستان کی قیادت کیا سنبھالے گا۔جب کہ دوسری جانب اپوزیشن نے گرینڈ الائنس بنانے کا عندیہ دے دیااور عین ممکن ہے کہ عید کے بعد اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک زور پکڑ جائے مگر اس وقت تک جو بات حکومت کے حق میں جا رہی ہے وہ عوام کا حکومت کا ساتھ دینا ہے۔اس وقت تک عوام نےمہنگائی،بیروزگاری،پٹرول کی قیمتیں بڑھنے اور ڈالر کے بے قابو ہونے کے خلاف کسی قسم کا احتجاج کیااور نہ سڑکوں پر ٹائر جلائے۔اپوزیشن سڑکوں پر آئے نہ آئے اس سے حکومت کا نقصان ہو یا نہ ہو جس دن عوام سڑکوں پر نکل آئے اس دن حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجنا شروع ہو جائے گی۔فی الحال اپوزیشن لیڈر اکٹھے ہونے اور حکومت کے خلاف لائحہ عمل تیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔گزشتہ روز آصف زرداری نیبعدالت میں پیش ہوئے واپسی پر صحافیوں نے ان سے سوالات کا تانتا باندھ دیا۔ایک سوال کے جواب میں کہ مستقبل میں حکومت مخالف تحریک کو لیڈ کون کرے گا پر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اب ہمارا آرام کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔اب سیاسی باگ ڈور نئی جنریشن کے ہاتھ میں دے دینی چاہیے اور متوقع حکومت مخالف تحریک کی سربراہی بلاول،مریم اور مولانا فضل الرحمٰن کا بیٹا کریں گے۔ایک اور سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ نواز شریف سے جلد ملاقات کروں گا مگر فی الحال ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔صحافی نے سوال کیا کہ فردوس عاشق اعوان آپ کے خلاف کافی ٹویٹ کرتی رہتی ہیں اس بارے آپ کیا کہیں گے۔تو سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ اس وقت تک بولنے پر کسی قسم کاکوئی ٹیکس نہیں لگا اس لیے وہ بولتی رہیں جو ان کا دل کہتا ہے۔

متعلقہ خبریں