جب زندگی شروع ہو گی

2018 ,فروری 10



دربار کا آغاز ہونے والا تھا۔ اہل جنت کے عوام و خواص، درباری و مقربین، انبیا و صدیقین، شہدا و صالحین سب اپنی اپنی جگہوں پر آکر بیٹھ رہے تھے۔ دربار سے قبل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خصوصی دعوت کا اہتمام تھا۔ یہ دعوت ابھی تک ہونے والی سب سے بڑی دعوت تھی جس میں حضرت آدم سے لے کر قیامت تک کے تمام اہل جنت جمع تھے۔ پانچ جلیل القدر رسولوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دعوت کی میزبانی کی ذمے داری دی گئی تھی۔ نوح، ابراہیم ،موسیٰ، عیسیٰ اور محمد علیھم السلام و صلی اللہ علیہ وسلم اس تقریب کے میزبان تھے۔
یہ دعوت ایک بہت بلند پہاڑ کے دامن میں منعقد ہوئی تھی۔ یہ بہت وسیع اور کشادہ میدان تھا جو ایک باغ کی شکل میں پھیلا ہوا تھا۔ یہاں سے دور دور تک پھیلا ہوا سرسبر و شاداب علاقہ آنکھوں کو ٹھنڈک دے رہا تھا۔ اس میدان کے بیچ بیچ میں دریا بہہ رہے تھے۔ اس دعوت کا پورا انتظام عرب کی روایات اور عجم کی شان و شوکت کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا تھا۔ اسی لیے نشستیں شاہی تخت کی شکل میں تھیں جن پر ہیرے اور موتی جڑے ہوئے تھے۔ زمین پر دور دور تک دبیز قالین اور غالیچے بچھے ہوئے تھے۔ غلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہاتھوں میں شراب کے جگ لیے پھر رہے تھے۔ اہل جنت کو جس قسم کی شراب کی طلب ہوتی وہ نظر اٹھاتے اور یہ غلمان لمحے بھر میں حاضر ہوکر ان کی خواہش کے مطابق جام بھردیتے۔ یہ شراب کیا تھی شفاف مشروب تھا جس میں لذت، سرور اور ذائقہ تو بے پناہ تھا، مگرنشے کی خرابیاں یعنی بدبو، دردسر، عقل کی خرابی وغیرہ کچھ نہیں تھی۔ ساتھ میں مختلف قسم کے پرندوں اور دیگر جانوروں کے گوشت سے تیار کیے گئے لذید کھانے؛ سونے اور چاندی کی رکابیوں میں مسلسل پیش کیے جارہے تھے۔ درختوں کی ڈالیاں پھلوں سے لدی تھیں اور جب کسی پھل کا جی چاہتا وہ ڈالی جھک جاتی اور لوگ اس پھل کو توڑ لیتے۔
زرق برق لباس پہنے حسین و جمیل نوجوان مرد اور عورتیں ہر سمت نظر آرہے تھے۔ ان کے چہرے روشن، آنکھیں چمک دار ،لبوں پر قہقہے اور مسکراہٹیں تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے دنیا کی محفلیں یاد آگئیں جہاں خواتین میک اپ کا تام جھام کیے، خدا کی حدود کو پامال کرتی اور اپنی زینت اور نسوانیت کی نمائش کرتی محفلوں میں شریک ہواکرتی تھیں۔ مرد اپنی نگاہوں کو جھکانے کے بجائے اس نمائش سے اپنا حصہ وصول کرتے تھے۔ اپنی نمائش سے رکنے والی خواتین اور اپنی نگاہوں کو پھیرنے والے مردوں کو کتنی مشقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
مگر اب ساری مشقت ختم؛ میں نے دل میں سوچا۔ یہ محفل حسین ترین خواتین سے بھری ہوئی تھی جن کے لباس اور زیورات اپنی خوبصورتی میں بے مثل اور ہر نظر کو خیرہ کرنے کے لیے بہت تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے قلوب اس طرح پاکیزہ کردیے تھے کہ نگاہوں میں آلودگی اور دلوں میں خیانت کا تصور بھی نہیں رہا تھا۔ ہر مرد اور ہر عورت خوبصورتی مگر پاکیزگی کے احساس میں زندہ تھا۔ اب اپنی زینت کے اخفا کا کوئی حکم تھا اورنہ نگاہوں کو پھیرنے کی کوئی پابندی تھی۔ کتنی تھوڑی تھی وہ مشقت اور کتنا زیادہ ہے یہ بدلہ۔
میرے ساتھ میرے گھر والے اور دور ونزدیک کے احباب کا حلقہ تھا۔ میرے بچے میری دوبارہ شادی کرواکر بہت خوش تھے۔ اسی موقع پر جمشید اورامورہ کی رضامندی سے ان کی شادی کردی گئی اور وہ بھی ہمارے خاندان کا حصہ بن چکی تھی۔ زندگی خوشیوں اور سرشاریوں کی شاہراہ پر ہموار طریقے سے رواں دواں تھی۔ میرے دل میں بس ایک بے نام سا احساس تھا۔ وہ یہ کہ میرے سارے محبت کرنے والے لوگ میرے ساتھ آچکے تھے ،سوائے میرے استاد فرحان احمد صاحب کے۔ ایک موہوم سی امید تھی کہ شاید میں دربار میں ان سے مل سکوں۔
دعوت کے اختتام پر لوگ دربار میں اپنی اپنی متعین نشستوں پر آکر بیٹھنا شروع ہوگئے۔ عرش الٰہی کے بالکل قریب مقربین بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں حضرات انبیا، صدیقین و شہدا اور صالحین کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ جبکہ باقی اہل جنت ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نشست کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ آج پہلی دفعہ لوگوں نے دیدار الٰہی کی اس نعمت سے فیض یاب ہونا تھا جو اہل جنت کا سب سے بڑا اعزاز تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ جس طرح دنیا میں چودہویں کے چاند کا دیدار کیا جاتا ہے، اسی طرح جنت میںدیدار الٰہی ہوگا۔ اس لیے لوگوں میں بے پناہ جوش و خروش تھا۔ اس کے علاوہ آج ہی کے دن لوگوں کو ان کے اعزاز و مناقب رسمی طور پر عطا کیے جانے تھے۔ چنانچہ ہر شخص دربار کے آغاز کا منتظر تھا۔
لوگ اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوچکے تھے۔ ہر زبان پر تسبیح وتمجید، ہر دل میں تکبیر و تہلیل اور ہر نگاہ میں حمد و تشکر کے احساسات تھے۔ لوگ بار بار یہ بات کہہ رہے تھے کہ یہ سب اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ہماری رہنمائی کردی وگرنہ ہم کبھی اس جنت تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔
دربار کے آغاز پر فرشتوں نے اللہ کی تسبیح و تمجید کی۔ اس کے بعد داو¿د علیہ السلام تشریف لائے اور اپنی پرسوز آواز میں ایک حمدیہ گیت اس طرح گایا کہ سماں بندھ گیا۔ اس کے بعد حاملین عرش نے اعلان کیا کہ پروردگار عالم اپنے بندوں سے گفتگو فرمائیں گے۔ کچھ ہی دیر میں اللہ تعالیٰ نے انتہائی محبت اور نرمی کے ساتھ اپنے بندوں سے گفتگو فرمانا شروع کی۔
اس گفتگو میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی بڑی تحسین فرمائی جو اپنی محنت، جدو جہد اور صبر سے اس مقام تک پہنچے تھے۔ بندوں سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس صلے پر راضی ہیں جو ان کی محنت کے عوض انہیں ملا ہے۔ سب نے یک زبان ہوکر جواب دیا کہ ہم نے اپنی توقعات سے بڑھ کر بدلہ پایا ہے اور وہ کچھ پایا ہے جو کسی اور مخلوق کو نہیں ملا۔ ہم کیوں تجھ سے راضی نہ ہوں۔ اس پر ارشاد ہوا اب میں تمھیں وہ دے رہا ہوں جو ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ میں تمھیں اپنی رضا سے نوازتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی فضا اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے نعروں سے گونج اٹھی۔
پھر مناقب و اعزاز کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ ایک بہت طویل عمل تھا۔ لیکن یہاں ان گنت نعمتیں مسلسل مہیا کی جارہی تھیں جن کی بنا پر لوگ اطمینان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ دیگر لوگوں کی طرح میرے گھر والے بھی میرے ساتھ ہی اگلی نشستوں پر بیٹھے تھے۔ میں یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور دل میں سوچ رہا تھا کہ دنیا کی کتنی کم مشقت اٹھا کر آج کتنا بڑا صلہ انسانیت کو مل گیا۔ لیکن مجھے خیال آیا کہ انسانیت کی اکثریت تو اس امتحان میں ناکام ہی ہوگئی۔ پھر مجھے اپنے استاد فرحان صاحب کا خیال آیا۔ وہ آج بھی مجھے نہیں مل سکے تھے حالانکہ میرا خیال یہ تھا کہ وہ آج کے دن تو کہیں نہ کہیں مل ہی جائیں گے۔ میں نے سوچا کہ صالح سے دریافت کروں۔ وہ یہاں میرے ساتھ موجود نہیں تھا۔ لیکن اسی وقت وہ میرے پاس آکھڑا ہوا۔
اسے دیکھ کر میں نے کہا:
”مجھے خیال تھا کہ میں دربار میں کسی موقع پر اپنے استاد کو دیکھ سکوں گا۔ مگر وہ مجھے نہیں مل سکے۔ میرے استاد کا کچھ معلوم ہوا؟“
”نہیں فردوس کی اس بستی میں ابھی تک کسی جگہ میں ان کو تلاش نہیں کرسکا۔ میرا خیال ہے کہ اب تم بھی ان کے بارے میں سوچنا چھوڑدو۔ بظاہر خدا اپنا فیصلہ کرچکا ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت اب اس فیصلے کو نہیں بدل سکتی۔ خدا کا عدل بہرحال نافذ ہوکر رہتا ہے۔“
”اور اس کی رحمت؟“
”تم اچھی طرح جانتے ہو کہ خدا کی رحمت اور عدل ہر چیز اصول پر مبنی ہوتی ہے۔ کسی کی خواہش سے یہاں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوسکتا۔“
”مگر فردوس کی یہ دنیا تو ممکنات کی دنیا ہے۔ یہاں سب کچھ ممکن ہے۔“
صالح جھلاکر بولا:
”یار تم کیوں بحث کررہے ہو۔ فیصلہ ہوگیا ہے۔ ویسے تم خود پروردگار سے بات کیوں نہیں کرتے۔ تمھاری بات تو بہت سنی جاتی ہے۔ میں تو تمھیں عرش تک لے جانے آیا ہوں۔ چلو اور وقت کا پہیہ الٹا گھمانے کی درخواست کرو۔“
خبر نہیں کہ صالح نے غصے میں آکر مجھ پر طنزکیا تھا یا واقعتا مجھے مشورہ دیا تھا۔ تاہم میں اس کی بات پر عمل کرنے کی حماقت کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ البتہ اس کی یہ بات ٹھیک تھی کہ مجھے بلایا جارہا ہے۔ کچھ ہی دیر میں میرا نام پکارا گیا۔ میں جو ابھی تک اطمینان سے بیٹھا تھا لرزتے دل کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ میں دھیرے دھیرے قدموں سے چلتا ہوا اس ہستی کے حضور پیش ہوگیا جس کے احسانوں کے بوجھ تلے میرا رواں رواں دبا ہوا تھا۔ قریب پہنچ کر میں سجدہ میں گرگیا۔ کچھ دیر بعد صدا آئی:
”اٹھو!“
میں دھیرے دھیرے اٹھا اور جھکی نظر کے ساتھ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔
اللہ تعالیٰ نے بہت نرمی اورملائمت کے ساتھ دریافت کیا:
”عبد اللہ! آج کے دن میرے لیے کیا لائے ہو؟“
میں یہاں لینے آیا تھا، کچھ دینے کے لیے نہیں۔ اس لیے یہ سوال قطعاً غیر متوقع تھا۔ تاہم جو میرے پاس تھا وہ میں نے کہہ دیا:
”مالک جو اچھا عمل میں نے کیا وہ درحقیقت تیری ہی توفیق سے تھا۔ اسے تو میں پیش نہیں کرسکتا۔ رہی اپنی ذات تو میرے پاس تیری اعلیٰ ترین ہستی کے حضور پیش کرنے کے لیے۔۔۔ بہت ساری ندامت اور بے انتہاعجز کے سوا کچھ نہیں۔“
جواب ملا:
”اچھا کیا کہ ندامت اور عجزلے آئے۔ یہ چیزیں میرے پاس نہیں ہوتیں۔ میں انھیں تمھارے نام سے اپنے پاس رکھ لوں گا۔ اب بولو کیا مانگتے ہو؟“
عرض کیا:
”عطا اور رضا دونوں مل گئی ہیں۔ میرا ظرف اتنا چھوٹا ہے کہ اس کے بعد مانگنے کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ لیکن آپ جو بھلائی اور بھیک عطا فرمائیں گے میں اس کا محتاج ہوں۔“
قریب موجودحاملین عرش میں سے ایک فرشتے کو اشارہ ہوا۔ اس نے میرے اعزاز و مناقب بیان کرنا شروع کردیے۔ یہ تو مجھے معلوم تھا کہ میں اس نئی دنیا کی حکمران اور ایلیٹ کلاس کا حصہ ہوں، مگر یہاں جو کچھ دیا گیا وہ میری حیثیت، توقعات اور اوقات سے بہت زیادہ تھا۔ فرشتہ بول رہا تھا اور میں شرم سے سر جھکاکر یہ سوچ رہا تھا کہ پروردگارعالم کی کریم ہستی مجھ گنہگار کے ساتھ ایسی ہے تو نیکوکاروں کے ساتھ کیسی ہوگی؟
فرشتہ خاموش ہوا تو مجھے مخاطب کرکے کہا گیا:
”عبد اللہ! گنہگار تو سب ہوتے ہیں۔ مگر رجوع اور توبہ کرنے والوں کو میں گنہگار نہیں لکھتا۔ اور تم نے تو مجھ سے اور میری اس ملاقات سے بندوں کو متعارف کرانے کے لیے زندگی لگادی تھی۔ تمھیں تو میں نے وفادار لکھا ہے۔“
لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد کہا گیا:
”مجھے معلوم ہے جو کچھ ابھی تم صالح سے کہہ رہے تھے۔ میں وہ بھی جانتا ہوں جو تم حشر میں اپنے نامہ اعمال کی پیشی کے وقت سوچ رہے تھے۔ تم یہی سوچ رہے تھے نا کہ کاش ایک موقع اور مل جائے۔ کاش کسی طرح گزرا ہوا وقت پھر لوٹ آئے۔ تاکہ میں ایک ایک شخص کو جھنجھوڑ کر اس دن کے بارے میں خبردار کرسکوں۔
عبد اللہ! میں تمھاری تڑپ سے بھی واقف ہوں اور اپنی ذات سے وابستہ تمھاری امیدوں سے بھی۔ یہ بھی تم نے ٹھیک سمجھا کہ بے شک میں بے نیاز ہوں اور یہ بھی کہ میں صاحب جمال و کمال اور جلال والا ہوں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تمھارا کل اثاثہ یہی ہے کہ تمھاری پہنچ میرے قدموں تک ہے۔ میرے لیے تمھاری بھی اہمیت ہے اور تمھاری اس بات کی بھی، لیکن۔۔۔ “
خاموشی کا پھر ایک وقفہ آیا اور میں لرزتے دل کے ساتھ سوچ رہا تھا کہ میرے رب سے نہ زبان سے نکلنے والے الفاظ پوشیدہ رہتے ہیں اور نہ دل میں آنے والے خیالات اس کے علم سے باہر رہ سکتے ہیں۔ بے اختیار میری زبان سے نکلا:
”میرے رب تو پاک ہے۔“
”مجھے معلوم تھا کہ تم اپنی دلی تمنا کے اظہار کے لیے یہی پیرای? بیان اختیار کروگے۔ دیکھو! لوگوں کو دوبارہ دنیا میں بھیجنا میری اسکیم کا حصہ نہیں۔ اس لیے دنیا میں نہ تم جاسکتے ہو اور نہ دوسرے انسان۔ مگر وقت میرا غلام ہے۔ میں چاہوں تو اس کا پہیہ الٹا گھما سکتا ہوں۔“
پھر ایک فرشتے کو اشارہ ہوا۔ وہ ہاتھوں میں چاندی کے اوراق کا ایک پلندہ لے کر میرے قریب آیا۔ میں نے دیکھا تو پہلے ورق پر سونے کے تاروں سے لکھا ہوا تھا:
”جب زندگی شروع ہوگی“
صدا آئی:
”عبد اللہ! یہ تمھاری روداد ہے۔ اس نئی دنیا میں جو تمھارے ساتھ ہوا، اس کا کچھ حصہ اس میں محفوظ کردیا گیا ہے۔ تمھاری خاطر اب تمھاری اس داستان کو وقت کی کھڑکی سے دوبارہ پچھلی دنیا میں بھیجا جارہا ہے۔ اس بات کا انتظام کیا جائے گا کہ یہ روداد انسانوں تک پہنچادی جائے۔ میں اپنے بندوں اور بندیوں کے دلوں میں ڈال دوں گا۔ وہ تمھاری اس داستان کو اپنے ہر چاہنے والے تک پہنچادیں گے۔۔۔ ہر اس شخص تک جسے وہ آخرت کی رسوائی سے بچاکر جنت کی منزل تک پہنچانے کے خواہشمند ہوں گے۔ عجب نہیں کہ کوئی خوش بخت اس پیغام کو پڑھ کر اپنے عمل کو بدل دے۔ عجب نہیں کہ کسی کی زندگی بدل جائے۔ عجب نہیں کہ کسی کا مستقبل بدل جائے۔ میں لوگوں کو تمھاری درخواست پر ایک موقع اور دینا چاہتا ہوں۔ ابدی خسارے سے پہلے۔ ابدی ہلاکت سے پہلے۔“
میں بے اختیار ’اللہ اکبر ‘کہتا ہوا سجدے میں گرگیا۔

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

متعلقہ خبریں