شریف خاندان کے ملازم کے انکشافات نے حمزہ شہباز کو پھنسا دیا، یہ ملازم کون ہے اور اس کے پاس کیا ثبوت موجود تھے ؟ دنگ کر ڈالنے والا انکشاف

2019 ,اپریل 6



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) شریف خاندان کے دو ملازموں کے انکشافات نے حمزہ شہباز کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق نیب کی زیر حراست 2 ملزمان قاسم قیوم اور فضل داد کے انکشافات کے بعد حمزہ شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔ مذکورہ ملزمان نے شریف خاندان کی آمدن سے زائد اثاثے بنانے میں مدد کی۔ قاسم قیوم منی چینجر کا غیر قانونی کاروبار کرتا تھا، قاسم نے غیر قانونی طور پر اکاؤنٹ میں ڈالرز اور درہم منتقل کیے، رقم شہباز شریف، حمزہ اور سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔دوسرا ملزم فضل داد عباسی شریف گروپ کا پرانا ملازم ہے، ملزم فضل داد سلمان شہباز کے پاس 2005ء سے کام کر رہا تھا۔ فضل داد مختلف لوگوں سے رقوم جمع کر کے قاسم قیوم کو پہنچاتا تھا اور قاسم مشکوک ٹرانزیکشنز سے رقوم شہباز خاندان کو منتقل کرتا تھا۔ملزمان رقوم اپنے ملازمین کے شناختی کارڈ کے ذریعے بھجوایا کرتے تھے، ملازمین کو رقوم بھیجنے سے متعلق کاروباری شخصیت کے طور پر پیش کرتے تھے۔عدالت نے گذشتہ روز دونوں ملزمان کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا تھا، عدالت نے دونوں کو 19 اپریل کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ ملزمان سے تحقیقات میں انکشافات پر چیئرمین نیب نے حمزہ شہباز کے وارنٹ کی منظوری دی تھی۔ جس کے بعد گذشتہ روز نیب ٹیم نے شہباز شریف کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا لیکن حمزہ شہباز کو گرفتاری کیے بغیر ہی روانہ ہو گئی۔جس کے بعد آج صبح پھر نیب کی ٹیم شہباز شریف کے گھر کے باہر موجود ہے، نیب کا موقف ہے کہ آج ہر صورت میں حمزہ شہباز کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ یب ذرائع کے مطابق شریف خاندان نے منی لانڈنگ کے ذریعے 85 ارب کے غیر قانونی اثاثے بنائے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شریف خاندان کے خلاف نیب کے پاس منی لانڈرنگ کے ثبوت موجود ہیں جن کی بنیاد پر حمزہ اور سلمان شہباز کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ شریف خاندان منی لانڈرنگ میں ملوث ہے، شہباز شریف کے دور حکومت میں منی لانڈرنگ کی گئی۔ جس کے ذریعے 85 ارب کے غیر قانونی اثاثے بنائے گئے۔ شہباز شریف کے وزارت اعلیٰ کے دور میں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے اثاثوں میں آٹھ ہزار گنا اضافہ ہوا۔ سلمان شہباز اس وقت تین ارب کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ جبکہ حمزہ شہباز نے 2003ء میں 2 کروڑکےاثاثے ظاہرکیے تھے، جس کے بعد شہباز شریف کے دور میںحمزہ شہباز کے اثاثوں میں 2 ہزار فیصد اضافہ ہوا۔دوسری طرف قومی احتساب بیورو(نیب) کی ٹیم پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف کی گرفتاری کے لیے شہبازشریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹائون 96 ایچ پر موجود ہے اور حمزہ شہبازکے سیکریٹری اور ان کے وکیل عطا تارڑ سے مذاکرات بھی کیے جو ناکام ہوگئے جس کے بعد نیب نے گھر کے اندر داخل ہونے کے لیے سیڑھیاں منگوالی ہیں جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب چودھری اصغر نے کہا کہ حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے آئے ہیں، ساری رات یہاں ہیں ، گرفتار کرکے ہی جائیں گے ، سیڑھیاں منگوالیں۔انہوں نے کہا کہ نیب اپنا کام کرے گا، حمزہ شہبازشریف مت ڈریں، باہر آجائیں، چادر اور چاردیواری کا تحفظ کریں گے ۔ مقامی میڈیا کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب چودھری اصغر نے کہا ہ ے کہ ہمارے پاس حمزہ شہباز کی گرفتاری کے وارنٹ موجود ہیں،ہم حمزہ شہبازکو گرفتار کرنے آئے ہیں،حمزہ شہبازکوآمدن سے زائد اثاثہ جات،منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کرنےآئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نیب ٹیم شہبازشہبازکی رہائش گاہ 96 ایچ ماڈل ٹاؤن پہنچی ہےہمارے پاس حمزہ شہباز کی گرفتاری کے وارنٹ موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں