ڈالر کی مسلسل اونچی اڑان ۔۔ آج اچانک بیٹھے بٹھائے کتنا اضافہ ہوگیا ؟ پاکستان روپیہ بری طرح پٹ گیا

2019 ,مئی 8



کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز مزید اضافہ، اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر 20 پیسے مزید مہنگا ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق کئی روز تک ڈالر کی قدر میں استحکام رہا، تاہم اب پھر سے ڈالر اور روپے کی قیمت میں اتار چڑھاو آنا شروع ہو گیا ہے۔ بدھ کو کاروباری روز کے اختتام پر ڈالر روپے کے مقابلے میں مزید مہنگا ہوگیا۔پاکستانی روپے کے مقابلے ڈالر کا ریٹ اوپن مارکیٹ میں 20 پیسے مہنگا ہو گیا تاہم انٹربینک مارکیٹ میں مستحکم رہا۔آج کاروبار کے آغاز کے موقع پر ڈالر 20 پیسے مہنگا ہو کر اوپن مارکیٹ میں141 روپے 70 پیسے میں فروخت ہوتا رہا جبکہ انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر مستحکم رہا اور 141 روپے 27 پیسے پر ٹریڈ ہوا۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم ایف سے پیکج ملنے کے بعد روپے کی قدر میں کچھ کمی ضرور آئے گی تاہم دوررس اثرات اس سے مختلف ہوں گے، حکومت نے اگر معاشی پالیسیوں پر مستحکم انداز میں عمل کیا تو پاکستانی معیشیت کیلئے مثبت رجحان دیکھنے میں آئے گا اور روپے کی قدر بتدریج بڑھے گی۔دوسری جانب پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کو مندی کا رجحان رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1.67 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ کاروباری سرگرمیوں کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں 596.03 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 35 ہزار 35.03 پوائنٹ پر بند ہوا۔ کاروباری سرگرمیوں کے دوران مجموعی طور پر 11 کروڑ 32 لاکھ 35 ہزار 730 حصص کا کاروبار ہوا جن کی مجموعی مالیت 4.559 بلین روپے تھی۔کاروباری سرگرمیوں کے دوران 38 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 281 کمپنیوںکے حصص میں کمی جبکہ 9 کمپنیوں کے حصص میں استحکام رہا۔ سب سے زیادہ کے الیکٹرک، سوئی ناردرن اور میفل لیف کے حصص میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

جن کمپنیوں کے حصص میں کمی ہوئی ان میں رفحان اور فلپس مورس شامل ہیں۔ دوسری جانب ایک خبر یہ بھی ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور آئی ایم ایف نے ٹیکس شرائط سے پیچھے ہٹنے سے صاف صاف انکار کر دیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام سے بجٹ میں 700 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ایف بی آر سے 700 ارب روپے کا ٹیکس پلان مانگ لیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا پالیسی اقدامات کے ذریعے اضافی ٹیکسز لگانے کا پلان ہے، نئے اقدامات کے ذریعے ٹیکس آمدن بڑھانے کا پلان پیش کیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف ٹیکسز سے متعلق شرائط نرم کرنے پر تیار نہیں اور عالمی مالیاتی ادارہ ایف بی آر کا ٹارگٹ 5200 ارب روپے سے زائد مقرر کرنا چاہتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے بجلی اور گیس مزید مہنگی کرنے کی آئی ایم ایف کی شرائط مان لی ہیں، بجلی،گیس کی مد میں 340 ارب روپے 3 سال میں صارفین کی جیبوں سے نکالے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے نیپرا اور اوگرا کو بجلی اور گیس کی قیمتوں کے تعین کے لئے خودمختار بنانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ حکومت نے چھوٹے صارفین کے علاوہ سب کے لیے سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، صنعتی صارفین میں صرف ایکسپورٹ انڈسٹری کو محدود سبسڈی دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں