جب زندگی شروع ہوگی

2018 ,جنوری 19



زندگی کے ہنگامے جاری تھے۔ بازاروں میں وہی چہل پہل اور گہماگہمی تھی۔ نیویارک، لاس اینجلس، لندن، پیرس، شنگھائی، دہلی، ماسکو، کراچی، لاہور ہر جگہ رونق میلے لگے ہوئے تھے۔ رات کو دن کردینے والی سیلابی روشنیوں میں20,20کرکٹ میچ اور فٹبال ورلڈ کپ کے مقابلے، ان کو دیکھتے اور تالیاں بجاتے تماشائی۔ پب اور بار میں شراب پیتے اور کلبوں میں اسٹرپ ٹیز دیکھتے بدمست لوگ۔ ہالی وڈ اور بالی وڈ کی ایکشن اور تھرل فلموں میں اداکاروں کے جلوے اور ان جلووں کے شوقین تماش بین۔ فلموں، ڈراموں، اسٹیج، ٹی وی، بیلی ڈانس اور فیشن شوز میں تھرکتی، مٹکتی، اپنے جسم کی نمائش کرتی ماڈلز اور اداکارائیں اور اس نمائش سے اپنی تجوریاں بھرتے سرمایہ دار۔ نئے دور کے نئے فاتحین ِعالم۔۔۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان اور ان کو اپنا علم و ہنر بیچ کر اپنے مستبقل کے خواب ب±ننے والے باصلاحیت نوجوان۔ میڈیا کی چمک دمک، صحافت کے مرچ مصالحے اور بازارِ سیاست کے ماند نہ پڑنے والے مکر و فریب کے ہنگامے۔ بازاروں میں گھومتے اور خریداری کرتے مرد و خواتین اور ا±ن کو بلاتی رِجھاتی دکانیں اور دکاندار۔ امرا کے عشرت کدوں میں گونجتے ساز و آواز، غربا کے جھونپڑوں میں فقر و افلاس، شادیوں کی تقریبات میں خوشی کے نغمے، جنازوں اور ہسپتالوں میں غم و الم کے سائے۔ خدا کے نام پر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے اہل مذہب، غریبوں اور ان کے مسائل سے ہمیشہ کی طرح بے نیاز اہل ثروت۔ کرپشن کی ناپاک کمائی سے اپنی جیبیں بھرتے سرکاری ملازم اور ملاوٹ و ذخیرہ اندوزی سے اپنی تجوریاں بھرتے ہوئے حرام خور تاجر۔ عوام کا استحصال کرتے اہل اقتدار اور دنیا پر اپنا غلبہ قائم رکھنے کے منصوبے بناتی سپر پاورز، سب اپنے اپنے مشغلوں اور کاموں میں مگن تھے۔
اہلِ زمین جو ہمیشہ سے کرتے آئے تھے، وہی کررہے تھے۔ ظلم و فساد کی داستانیں، دھوکہ و فریب کی کہانیاں، حرص و ہوس کی دوڑ، غفلت اور سرکشی کے رویے، خدا اور آخرت فراموشی، سیاسی ہنگامے، معاشی جدوجہد، مذہبی جھگڑے، طبقاتی کشمکش۔۔۔ ہر چیز ہمیشہ کی طرح جاری تھی۔ پیغمبر تو صدیوں پہلے آنے بند ہوگئے تھے۔ ایگریکلچرل ایج، انڈسٹریل ایج سے بدلی اور انڈسٹریل ایج، انفارمیشن ایج سے، مگر انسانی رویے نہیں بدلے۔ ان کے غم بھی نہیں بدلے۔ وہی کاروبار اور روزگار کی پریشانیاں، وہی عشق و محبت کی ناکامیاں، وہی موت اور بیماری کے مسائل۔ اس وقت بھی انسانوں کے ہاں ہر غم تھا، سوائے غم آخرت کے۔ ہر خوف تھا، سوائے خوفِ خدا کے۔ آسمان کی آنکھ یہ دیکھ رہی تھی کہ خدا کی زمین کو ظلم و فساد سے بھردینے والا انسان اب دھرتی کا ناقابلِ برداشت بوجھ بن گیا ہے۔ سو انسان کو بار بار ہلایا گیا۔ نبی آخر الزماں کی پیش گوئیاںپوری ہونے لگیں۔ ننگے پاو¿ں بکریاں چرانے والے عربوں نے دنیا کی بلند ترین عمارتیں بنالیں، مگر انسانیت ہوش میں نہیں آئی۔ نوح کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد یعنی یاجوج و ماجوج کی نسل دنیا کے پھاٹکوں کی مالک بن گئی۔ عظمت کی ہر بلندی سے یہی یاجوج و ماجوج ساکنانِ دنیا پر یلغار کرنے لگے۔ برطانیہ، روس، امریکہ اور چین۔۔۔ ایک کے بعد ایک دنیا کے اقتدار کی مسند پر فائز ہوتے گئے، آسمانی صحیفوں کی تمام پیش گوئیاں پوری ہوگئیں، مگر انسانیت پھر بھی ہوش میں نہ آئی۔ سونامی آئے، سیلاب آئے، زلزلے آئے، مگر انسانیت غفلت سے نہ نکلی۔ خدا نے انفارمیشن ایج پیدا کردی۔ اس کے عجمی بندوں نے نبی عربی کے پیغام کو اٹھایا اور انسانیت پر حجت تمام کردی، مگر انسانیت پھر بھی نہ سنبھلی۔ قیامت سے قبل قیامت کی منظر کشی آخری درجے میں کرکے انسانیت کو جھنجھوڑ دیا گیا، مگر لوگوں کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ سو جسے آخرکار آنا تھا، وہ آگئی۔ اسرافیل نے خدا کا حکم سنا اور صور ہاتھ میں اٹھالیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے قیامت آگئی۔
سورج کی بساط لپیٹ دی گئی۔ تارے بے نور ہونے لگے۔ ہمالیہ جیسے پہاڑ ہوا میں روئی کے مانند ا±ڑنے لگے۔۔۔ کہسار ریگزار بن گئے۔ سمندروں نے پہاڑ جتنی اونچی لہریں اٹھانا شروع کردیں۔۔۔ میدان سمندر بن گئے۔ زمین نے اپنے آتش فشاں باہر اگل دئے۔۔۔ وادیوں میں آگ کے دریا بہنے لگے۔ دھرتی نے اپنے سارے زلزلے باہر نکال پھینکے۔۔۔ زمین الٹ پلٹ ہوگئی۔ شہر کھنڈروں میں بدلنے لگے۔ عمارتیں خاک ہونے لگیں۔ آبادیاں قبرستانوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔کمزور انسان کی بھلا حیثیت ہی کیا تھی۔ وہ جو کچھ دیر قبل نئے گھر کی تعمیر کے منصوبے بنارہے تھے، نئی دکان اور نئے کاروبار کی منصوبہ بندی کررہے تھے، شادی اور نکاح کی امیدیں باندھ رہے تھے، نئی کار اور نئے کپڑوں کی خریداری کررہے تھے، اولاد کے مستقبل کی پلاننگ میں مصروف تھے۔۔۔ اپنے تمام ارادے اور سارے عزائم بھول گئے۔ مائیں دودھ پیتے بچے چھوڑ کر بھاگیں۔ حاملہ عورتوں کے حمل گرگئے۔ طاقتور کمزوروں کو کچلتے اور نوجوان بوڑھوں کو چھوڑتے بھاگنے لگے۔ سونا چاندی سر راہ پڑے ہیں، نوٹ ہوا میں ا±ڑ رہے ہیں، قیمتی سامان بکھرا ہوا ہے، مگر کوئی لینے والا، سمیٹنے والا نہیں۔ گھر۔۔۔ کاروبار۔۔۔ رشتے دار۔۔۔ ناطہ و اسباب۔۔۔ سب غیر اہم ہوچکے ہیں۔ ہر نفس صرف اپنی فکر میں ہے۔ آج انسان سب کو بھول گیا ہے، صرف ایک خدا کو پکار رہا ہے، مگرکوئی جواب نہیں آتا۔ دہریے اور ملحد بھی نامِ خدا کی دہائی دے رہے ہیں، مگر کوئی جائے عافیت نظر نہیں آتی۔ بربادی کے سائے پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ موت ہر جگہ تعاقب کررہی ہے۔ مصیبت نے ہر طرف سے گھیر لیا ہے۔ آخر کار زندگی موت سے شکست کھاگئی۔ زندگی ختم ہوگئی۔۔۔ مگر اس لیے کہ زندگی کو اب شروع ہونا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوا کی تیز سرسراہٹ کی آواز میرے کانوں میں آنے لگی۔ بارش کی کچھ بوندیں میرے چہرے پر گریں۔ مجھے ہوش آنے لگا۔ میں بہت دیر تک ا±ٹھنے کی کوشش کرتا رہا، مگر میرے حواس مکمل طور پر بیدار نہ ہوسکے۔ کافی دیر میں اسی حال میں رہا۔ اچانک میرے کانوں میں ایک مانوس آواز آئی:
”عبد اللہ! اٹھو جلدی کرو۔“، یہ میرے ہمدمِ دیرینہ، میرے یارِ غار صالح کی آواز تھی۔ اس کی آواز نے مجھ پر جادو کردیا اور میں ایک دم سے اٹھ کھڑا ہوا۔
”میں کہاں ہوں؟“، یہ میرا پہلا اور بے ساختہ سوال تھا۔
”تم بھول گئے، میں نے تم سے کیا کہا تھا۔ قیامت کا دن شروع ہوگیا ہے۔ اسرافیل دوسرا صور پھونک رہے ہیں۔ اس وقت اس کی صدا بہت ہلکی ہے۔ ابھی اس کی آواز سے صرف وہ لوگ اٹھ رہے ہیں جو پچھلی زندگی میں خدا کے فرمانبرداروں میں سے تھے۔“، اس نے میرا کندھا تھپکتے ہوئے کہا۔
”اور باقی لوگ؟“، میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔
”تھوڑی ہی دیر میں اسرافیل کی آواز بلند ہوتی چلی جائے گی اور اس میں سختی آجائے گی۔ پھر یہ آواز ایک دھماکے میں بدل جائے گی۔ اس وقت باقی سب لوگ بھی ا±ٹھ جائیں گے، مگر وہ ا±ٹھنا بہت مصیبت اور تکلیف کا ا±ٹھنا ہوگا۔ ہمیں اس سے پہلے ہی یہاں سے چلے جانا ہے۔“، اس نے تیزی سے جواب دیا۔
”مگر کہاں؟“، یہ سوال میری آنکھوں سے جھلکا ہی تھا کہ صالح نے اسے پڑھ لیا۔
”تم خوش نصیب ہو عبداللہ! ہم عرش کی طرف جارہے ہیں۔“، وہ تیزی سے قدم اٹھاتا ہوا بولا۔پھر مزید تفصیل بتاتے ہوئے اس نے کہا:
”اس وقت صرف انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین ہی اپنی قبروں سے باہر نکلے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی کامیابی کا فیصلہ دنیا ہی میں ہوگیا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خد اکو بِن دیکھے مان لیا تھا، ا±سے چھوئے بغیر پالیا تھا اور ا±س کی صدا ا±س وقت سن لی جب کان ا±س کی آواز سننے سے قاصر تھے۔ یہ لوگ ا±س کے رسولوں پر ایمان لائے اور ا±ن کی نصرت اور اطاعت کا حق ادا کردیا۔ اِن کی وفاداری اپنی مذہبی شخصیات، اپنے لیڈروں، اپنے فرقے کے اکابرین اور اپنے باپ دادا کے عقائد اور تعصبات سے نہ تھی بلکہ صرف اور صرف خدا اور ا±س کے رسولوں سے تھی۔ انہوں نے خداپرستی کے لیے ہر دکھ جھیلا، ہر طعنہ سنا اور ہر سختی برداشت کی۔ اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار کو اپنی زندگی بنایا۔ خدا سے محبت اور مخلوق پر شفقت کے ساتھ زندگی گزاری۔ عبداللہ! آج ان لوگوں کے بدلے کا وقت ہے۔ اور یہ ہے ان کے بدلے کا آغاز۔“
صالح کی باتیں سنتے ہوئے میرے چہرے سے حیرت اور اس کے چہرے سے خوشی ٹپک رہی تھی۔
”مگر میں تو جنت میں تھا اور۔۔۔ “، صالح نے ہنستے ہوئے میری بات کاٹ کر کہا:
”شہزادے وہ برزخ کا زمانہ تھا۔ خواب کی زندگی تھی۔ اصل زندگی تو اب شروع ہوئی ہے۔ جنت تو اب ملے گی۔ ویسے وہ بھی حقیقت ہی تھی۔ دیکھ لو تمھاری اور میری دوستی وہیں پر ہی ہوئی تھی۔“
میں اپنا سر جھٹک کر اسے دیکھنے لگا۔ کچھ کچھ میری سمجھ میں آرہا تھا اور بہت کچھ سمجھنا ابھی باقی تھا۔ مگر اس لمحے میں نے اپنے آپ کو صالح کے حوالے کرنا زیادہ بہتر محسوس کیا۔

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

متعلقہ خبریں