نیوزیلینڈ میں شہید ہونے والے لڑکے کی والدہ جب دس دن بعد مسجد کے احاطے سے اس کی گاڑی لینے پہنچی اور اسے اسٹارٹ کیا تو گاڑی میں سب سے پہلے کیا آواز آئی؟ والدہ پھوٹ پھوٹ کررونے لگی

2019 ,اپریل 1



نیوزی لینڈ (مانیٹرنگ ڈیسک) نیوزیلینڈ میں شہید ہونے والے ایک لڑکے کی والدہ جب دس دن بعد مسجد کے احاطے سے اس کی گاڑی لینے پہنچی اور اسے اسٹارٹ کیا تو گاڑی میں سب سے پہلے آواز جو سنائی دی وہ سورہ یس کی تلاوت کی تھی جسے سن کر ماں اپنے جذبات قابو میں نہ رکھ سکیں اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں اور کہتی رہیں ” میرا بچہ میرا بچہ سورہ یس سن رہا تھا ۔ آئے پاک روح جنت کی طرف جا ” نا رو مائے نا رو وہ اچھی جگہ چلا گیا ہے ۔ اللہ آپ کو صبر دے اللہ آپکی کھوئی ہوئی متاع کے بدلے بہترین صلہ دے آمین۔ واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں گزشتہ جمعہ کے دن (15 مارچ 2019) کو مسلح شخص نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود افراد پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی۔اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 50 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تاحال نازک بتائی جاتی ہے۔ نیوزی لینڈ کی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ سانحہ کرائسٹ چرچ کے شہدا کی میتیں ان کے لواحقین جہاں بھی لے جانا چاہیں گے اس پر آنے والے تمام اخراجات کی ادائیگی حکومت خود کرے گی۔وزیراعظم نیوزی لینڈ جسینڈا آرڈرن نے گزشتہ روز پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہونے سے روکنے کے اقدامات اٹھانے ہیں۔

متعلقہ خبریں