کتے کا گوشت

2019 ,اپریل 8



ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا...

جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟

معذرت کے ساتھ ایک کڑوا سچ .

فیسبک پیج سے شیر کی ہوئی یہ تحریر، کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے "ڈی سی او" ، "ڈی ایس پی" ایس ایچ او "اور اُن جیسے اور بھی بڑے لوگ آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت میں ایک دو کِلو وہ لے جاتے تھے تو مُجھے فائدے کے بجائے اُلٹا نُقصان ہوجاتا تھا. اِس لئے میں کُتا ذبح کرکے رکھتا تھا، جب وہ لوگ مُجھ سے مُفت کا گوشت لینے آتے، تو میں اُن کو وہ گوشت دیتا ہوں.

متعلقہ خبریں