’’ فوجی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فوجی ہی ہوتا ہے ‘‘ ایکشن کنگ جنرل (ر) پرویز مشرف نے بھارت پر قیامت ڈھا دی

2019 ,فروری 23



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا دبئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل سے تعلقات بنانے کا مشورہ دے دیاہے بھارت پاکستان پر 20 ایٹم بم گرا سکتا ہے تو ہمیں بھارت کی مکمل تباہی کے لیے 50 ایٹم بم گرانا ہوں گے. سابق سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا دبئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل سے تعلقات بنانے کا مشورہ دے دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان پر 20 ایٹم بم گرا سکتا ہے تو ہمیں بھارت کی مکمل تباہی کے لیے 50 ایٹم بم گرانا ہوں گے ، پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی پر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر سرجیل اسٹرائیک کر سکتا ہے ، جب کہ انہیں وہاں کئی جگہوں پر فائدہ ہے۔لیکن پاکستان کو اس طرح کے حملوں کے لیے تیار رہنا چاہئیے ، بھارت کو کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیکس کے لیےا ضافی آرمی کی ضرورت پڑے گی ، جب کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری جنگ پر بات کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ جوہری جنگ سے گریز کرنا چاہئیے ، کیونکہ یہ سادہ نہیں ہے ، پاکستان واپسی کے سوال پر پرویز مشرف نے کہا کہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پاکستان نہ جاؤں۔ میری نظر میں اس وقت پاکستان میں سیاسی ماحول اچھا ہے اور حالات میرے جانے کو سپورٹ کرتے ہیں ، سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان میرا ملک ہے لیکن میں بے وقوفوں کی طرح چھلانگیں مار کر نہیں جاؤں گا ، اس قسم کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ مجھے کوئی سنگین بیماری ہے اور میں ہل بھی نہیں سکتا لیکن ایسا کچھ نہیں ہے، موجودہ حکومت کی آدھی کابینہ تو وہی ہے جو میرے دور حکومت میں تھی ہماری پارٹی ختم نہیں ہوئی بلکہ ری آرگنائز ہو رہی ہے اور ہدایت خیشگی اب پارٹی کے نئے چیئرمین ہوں گے۔ ہماری جماعت کی موجودہ حکومت کے خاتمے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ، ہماری دلچسپی زرداری اور نواز شریف کو سیاست سے باہر کرنا ہے۔ خیال رہے انڈیا میں حزب اختلاف فکر مند ہے کہ 18 شہروں میں فوجیوں کی لاشیں واپس جانے کے نتیجے میں پاکستان مخالف جذبات کا سیاسی فائدہ کسے ہو گا ، مودی حکومت کا پاکستان کے بارے میں فیصلہ آئندہ آنے والے انتخابات کے پس منظر میں ملک کی سیاست کا رخ طے کرے گا ، کوئی بھی عسکری فیصلہ مودی حکومت کے لیے خطرے سے بھرا ہوا ہوگا۔ اس لیے حکومت نے یہ ذمہ داری فوجی قیادت پر ڈال دی ہے جنہیں پتہ ہے ایسے وقت میں جب وہ اسلحے کی شدید کمی کے بحران سے گزر رہے ہیں پاکستان سے لڑائی مول لینے کی کیا قیمت ہو سکتی ہے ،پاکستان کی موجودہ حالت بھی ایسی نہیں ہے کہ وہ انڈیا سے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرے۔

متعلقہ خبریں