"پس پردہ دنیا کا نظام کیسے چل رہا ہے"

2018 ,اپریل 25

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



آج بابا جی جب سے مدینہ شریف سے واپس آئے تهے کچھ چپ چپ سے تهے.
میں تسبیح کرتے ہوئے بابا جی کی طرف دیکھ رہا تها. 
ایسی کیفیت بابا جی کی تب ہوتی جب کوئی خاص پیغام ملتا ان کو اور پهر امت کے لئے توبہ،استغفار کرتے ہوئے راتیں گزرتی ان کی اور امت کے لیے روتے رہتے. 
منگول بابا جی کے پیر دبا رہا تها.

ہم تینوں میں خاموشی سی چهائی ہوئی تھی کہ اچانک میں نے خاموشی کو توڑتے ہوئے بابا جی سے پوچھا

بابا جی !
اس دنیا کا نظام کیسے چل رہا ہے اور نبی کریم ﷺ کا اس میں کتنا اختیار ہے ؟

بابا جی زرا سوچ کر بولے "پتر" جی اوپر آسمانوں میں ایک درخت ہے سدرتہ المنتہی جس کے اوپر بہت سے خاص فرشتے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سمیت تشریف فرما ہیں.

لوح محفوظ سے پیغام اس درخت تک آتا ہے اس کے بعد ایک فرشتہ وہ پیغام لے کر مسجد نبوی میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے

نبی کریم ﷺ اس کے اس پیغام کو حکم کی صورت میں متعلقہ رجال الغیب کو دے دیا جاتا ہے.

اس کے بعد اس حکم پر عمل درآمد کیا جاتا ہے. رجال الغیب انسانوں میں سے ہی ہوتے ہیں مگر پس پردہ اس دنیا میں نظام کو چلا رہے ہوتے ہیں. 
یہ لوگ اہل تکوین ہوتے ہیں.
(Administration of ALLAH)
یہ اولیاءکرام کی خاص لائن میں سے ہوتے ہیں یہاں بابا جی نے رجال الغیب کو پہچاننے کی ایک نشانی بهی بتائی تهی.

ان کو اللہ نے فرشتوں سے بهی زیادہ طاقت عطاء کی ہوتی ہے .
طاقت زیادہ اس لئیے زیادہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ نفس کے ہوتے ہوئے بھی عشق میں ڈوب کر وہ عبادت کرتے ہیں جو فرشتے بھی نہیں کر سکتے.
جب ان لوگوں کی روحانی ڈیوٹی کسی علاقے میں لگتی ہے تو ان کو زیادہ کهانے پینے سے نبی کریم ﷺ منع فرما دیتے ہیں. 
زیادہ سے زیادہ چائے یا قہوہ پی سکتے ہیں تاکہ غنودگی طاری نا ہو اور روحانی ڈیوٹی میں کوتاہی سرزد نا ہو.

پهر بابا جی نے پاکستان میں موجودہ رجال الغیب اور ابدال کے بارے میں بتایا اور چہرے بهی دکهائے ان ہستیوں کے اور نام بھی بتائے.

پهر بابا جی نے ایک کاغذ کے ٹکڑے کو نکال کر میرے ہاتھ میں تهما دیا کہ یہ پڑھ لینا اللہ سوہنا تیرا نام غوثوں،قطبوں،ابدالوں میں لکھ دے گا اس کاغذ کو کهول کر میں نے دیکها اور دیکهتے ہی میں نے سوچے سمجھے بغیر وہ کاغذ بابا جی کو واپس کر دیا اور بولا بابا جی میں یہ ولایت کے درجے پانے کےلئے نہیں پڑھ سکتا مجهے نبی کریم ﷺ سے شرم آتی ہے کہ اب بهی سودا ہی کروں ان سے.
ہاں مگر نبی کریم ﷺ کے احسانوں کو سامنے رکھ کر یہ پڑھ سکتا ہوں. 
بابا جی یہ سن کر مسکرا پڑے اور بولے سودا تو بہت بڑا کیا ہے تم نے آج اپنے نبی ﷺ سے.

بابا جی اگر میں پوچهوں کہ میں اللہ کا محبوب بننا چاہتا ہوں تو کیا کرنا ہو گا مجهے ؟
بابا جی نے ایک اور کاغذ نکال کر مجهے دیا جس پر لکھا تھا

" اگر توں چاہتا ہے کہ اللہ تجهے اپنا محبوب بنا لے اور توں اللہ کا محبوب بن جائے تو اللہ کی مخلوق کو اللہ کے قریب کر دے

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں