حضرت لعل شہباز قلندر

2018 ,مئی 4



آن شاہ ہر دو عالم عربی محمدؐ است
مقصود بود آدم عربی محمدؐ است
مؤرخین حضرت سید عثمان مروندی المعروف سخی لعل شہباز قلندر کو ایک بلند پایہ شاعر سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ کے کلام میں معرفت الٰہی اور سرکارِ مدینہ حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی ؐ کی مدح سرائی، عشق خداوندی کا والہانہ انداز جا بجا نظر آتا ہے۔ انہوں نے محبت اخلاص ہمدردی ، بھائی چارے، اتحاد و اتفاق اور امن کا پیغام دیا ہے۔
قلندر کے نزدیک خداوند کریم نے انسان کو ایک شاہکار تخلیق کیا آپ فرماتے ہیں کہ انسانوں میں بہترین میرا محبوب میرے آقا محسن انسانیتؐ ہیں۔ آپؐ کی ذات اقدس تمام انسانوں کیلئے بہترین نمونہ ہے۔ سخی شہباز قلندر فرماتے ہیں کہ میں اپنے آقا ؐ کے پوشیدہ راز بھید اور اسراروں سے آشنائی پر دھمال ڈالتا ہوں۔ ؎
زلطف آں ایزد کہ از قدرت نمود انسان
صنم بہتر براز روشن براں اسرار می رقصم
خداوند تعالیٰ نے انسان کو اپنے لطف و کرم سے تخلیق کیا۔ ان میں بہترین میرا محبوبؐ ہے میں ان اسراروں سے شناسائی پر رقص کرتا ہوں۔ یہ ایک الگ دنیا ہے یہی وہ عظیم اور صاحب علم و بصیرت لوگ ہیں جو دکھی انسانیت کی نہ صرف رہنمائی کرتے ہیں بلکہ بھٹکے ہوئوں کو صحیح راستے پر بھی لاتے ہیں جنہیں بابا جی سائیں، بوریہ نشیں، اللہ والے، بوری والی سرکار، پیالے والی سرکار، پیرٹل، ملنگ، مست اور قلندر کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ ان کی مال و متاع سب کچھ ذات خدا اور عشق رسول ؐ ہے یہی کچھ تو ان کا سب کچھ ہے، آج ان کے تکیہ خانقاہ، حجرے، آستانے، دربار اور کافیاں زندہ آباد ہیں۔
ایک دفعہ اشفاق احمد خاں میرے غریب خانے 35جی سنٹرل کالونی وحدت روڈ لاہور میں تشریف لائے تو حاجی چودھری شیراز نے سوال کیا کہ یہ پہنچے ہوئے بابے لوگ کیا ہر زمانے میں ہوتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ بغیر بابوں کے زمین و آسمان قائم نہیں رہ سکتے۔ یہ ہر دور میں ہوتے ہیں، یہ ایک روحانی نظام ہے۔
یہ اولیاء دنیا کے ہر خطے میں پھیلے ہوئے ہیں اور دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے دوست ہیں اور اللہ ان کا دوست ہے۔ انہوں نے اللہ کی بات مانی اس لئے اللہ ان کی بات تسلیم کر لیتا ہے، جس طرح وہ چاہتے ہیں ویسے ہو جاتا ہے۔ لوگ ان کے پاس آکر فیض یاب ہوتے ہیں۔ نگاہ مرد مومن رکھنے والے سچے لوگوں کو حکیم الامت ڈاکٹر سرمحمد اقبال نے یوں خراج تحسین پیش کیا ہے: ؎
نگاہِ فقر میں شان سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے
تاریخ اولیائے پاک وہند میں ہے کہ حضرت لال شہباز قلندر کو اللہ تعالیٰ نے رسول مقبول ؐ سے پیدائشی عشق عطا فرمایا تھا وہ سچے عاشق رسول ؐ تھے یہی وجہ ہے انہوں نے اپنی پوری زندگی دین محمدی ؐ کیلئے وقف کردی۔ نہیں تو اقتدار، مال و دولت اور آل و اولاد کی خواہش کسے نہیں ہوتی۔ انہوں نے ان میں سے کسی شے کی طلب نہیں کی۔ اگر عشق بھی کیا تو وہ صرف اللہ کے رسول ؐ سے، درویش بابا جی حضرت واصف علی واصف فرمایا کرتے تھے کہ بادشاہوں نے بادشاہی چھوڑ کر فقیری تو اختیار کی ہے مگر کبھی کسی فقیر نے فقیری چھوڑ کر بادشاہی نہیں لی۔
شہباز قلندر کے پاس مال و دولت کی قطعاً فراخ دستی و زیادتی نہ تھی، زیادہ تر وقت عبادت و ریاضت اور مجاہدہ میں گزارتے اکثر بیشتر بھوکے پیاسے ہی سوجاتے یہ صرف حب محمدیؐ کی وجہ سے تھا۔ قلندر پاک لوگوں کو فرمایا کرتے تھے کہ دین محمدیؐ ہی وہ سچا مذہب (صراط مستقیم) ہے جو تمہاری اندھیر نگری میں نور پھیلا سکتا ہے۔
تبلیغ اسلام کے سلسلے میں ان کی پوری زندگی اسوۂ رسول ؐ کا نمونہ تھی۔ وہ جب بھی تبلیغ کے ارادے سے اپنی خانقاہ سے باہر قدم رکھتے تھے تو پہلے اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتے اور اس کے بعد زبان سے تبلیغ کے جملے ادا کرتے۔ تبلیغ کے دوران نہایت میٹھے محبت بھرے انداز میں رب العزت کی رحمت کا ذکر کرتے اور رسول اکرم ؐ کے اخلاق مبارکہ اور پاکیزہ زندگی کے واقعات کا ذکر کرتے۔ سخی قلندر کا یہ مخصوص اور پیارا طریقہ تھا۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی، جس کی وجہ سے لوگ ان سے بہت متاثر ہوئے اور آپ کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی جس کی بنا پر ان کو سیون میں عظیم کامیابی ہوئی۔
ہزار ہا لوگ گناہوں سے توبہ کرکے نیکی کے رستے پر آ گئے۔
روحانیت کا سلسلہ شریعت سے شروع ہوتا ہے، طریقت سے ہوتا ہوا معرفت تک پہنچتا ہے، معرفت کا مطلب حضورؐ کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ معرفت(وسیلہ) کے بغیر اللہ تعالیٰ تک رسائی ناممکن ہے۔ آپ کا کلام عشق رسول ؐ سے بھرپور ہے جس کا ترجمہ قارئین کیلئے پیش خدمت ہے فرماتے ہیں:
کہ حضرت محمد ؐ دونوں جہانوں کے بادشاہ و شہنشاہ ہیں اور محسن انسانیت ہی محمد عربی ہیں جو مقصود اول ہیں، آپ ؐ نے پیدا ہوتے ہی دونوں ہاتھ زمین (تراب) پر ٹیک کر تکبیر کہی اور حمد خدا بجا لائے۔ محمد ؐ عربی ظہور کے وقت ایک ایسا نور آپ سے ساطع ہوا کہ ساری کائنات روشن ہو گئی۔ درویش اکثر شکر کی حالت میں رہتے ہیں۔ اس لئے قلندر فرماتے ہیں کہ خداوند کریم کا بے حد شکر کرتا ہوں کہ اس دنیا کے پشت و پناہ میں محمد عربی کا ہاتھ ہے۔ قلندر فرماتے ہیں کہ میں اپنے گناہوں سے کیوں پریشان ہو گیا ہوں۔ مجھے کیا غم ہے؟ جبکہ میرے نبی ؐ دو جہانوں کے بادشاہ حضرت محمد عربیؐ ہیں۔ مجھے کوئی فکر نہیں نہ کوئی غم ہے کیونکہ میرے سر پر تاجدار مدینہ سرور کائنات کا سایہ مبارک ہے۔ وہی میرے ہمدرد ہیں۔ یہی میرے مدد گار ہیں جو وہ رسول برحق شافع روز جزا ہیں۔ وہ ختم رسل دونوں جہانوں کیلئے رحمت آپ محمد عربیؐ ہیں۔
اس بے حد عقیدت کی وجہ سے وہ کئی بار روضۂ رسول ؐ کی زیارت کیلئے گئے۔ اکثر مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ تک کا پورا سفر وہ بڑے شوق دیدار سے پیدل طے کیا کرتے جب گنبد حضرا آنکھوں کے سامنے آتا تب جا کر آنکھوں کو نور اور دل کو سکون و سرور حاصل ہوتا تو آنسو جاری ہو جاتے۔ سرکار مدینہ کے ساتھ والہانہ عشق کا یہ حال تھا کہ اگر یہ تھمتا نہ تھا تو زارو قطار روتے، روایت ہے کہ ایک بار آپ نے مدینے میں تقریباً ایک سال قیام فرمایا۔ اس دوران دیار رسول ؐ سے روحانی فیض سے مستفیض ہوتے رہے پھر بار گاہ رسالت مآب ؐ سے قلندر کو اشارہ ہوا کہ برصغیر پاک وہند(سندھ) میں مخلوق خدا تمہاری ملاقات کی منتظر ہے اور وہ ہدایت کے پیاسے ہیں۔ ان کی ہدایت کیلئے خداوند تعالیٰ نے تمہیں مقرر فرمایا ہے اب وہیں چلے جائو اور ان کو دین اسلام کی دولت سے مالا مال کرو۔
بہر حال قلندر حکم آقا بجا لاتے ہوئے سیہون تشریف آئے اور وہی مستقل قیام فرمایا۔
سیہون شریف شہر کے جنوب میں ریلوے لائن پار لعل باغ ہے، یہاں ایک پہاڑ ہے اس کی چوٹی پر ایک غار ہے جس کو آپ نے اپنا ٹھکانہ بنایا، یہاں چلہ کشی کی۔ اس غار میں ایک محراب ہے جو زیارت گاہ ہے اس جگہ وہ عبادت کیا کرتے تھے۔ اس غار کو ایک ستون والی (یک ستونی) غار بھی کہتے ہیں۔ میں اس غار میں کئی مرتبہ گیا ہوں۔ اس کے اندر اوپر چھت کی جانب دوشگاف روزن ہیں۔ ان میں سے قلندر پاک مدینہ منورہ اور کربلائے معلیٰ پر واز کرکے زیارت کیلئے جاتے آتے تھے بلکہ کئی بار گئے اور آئے:؎
میں سجدہ کروں یا کہ دل کو سنبھالوں
محمد ؐ کی چوکھٹ نظر آ رہی ہے

متعلقہ خبریں