افکار اقبال کے تمام در خودی پر جا کھلتے ہیں

2018 ,نومبر 9



لاہور(ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم):مفسرِ اسلام ، مفکرِ حقیقت ، شاعر ِ مشرق، مصورِ پاکستان، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (۱۸۷۷ئ۔۱۹۳۸ء )حرکی نظریۂ حیات کے حوالہ سے اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ وہ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ فلسفیانہ فکر کے حامل ہیں۔ اُنھوںنے زندگی اور اُس کے مخفی پہلوئوں کا عمیق نظری سے مطالعہ کیا ۔ اُن کے افکار نے مسلمانوں کی عروقِ مردہ میں خون ِ زندگی دوڑانے کا کام کیا۔ اقبال ایک مفکر کی طرح سوچتے تھے اور مجاہد کی طرح اُس پر عمل پیرا ہوجاتے تھے۔ افکارِ اقبال کے تمام در خودی پر جا کھلتے ہیں۔ اقبال سمجھتے ہیں کہ خودی کا استحکام حرکت و عمل سے ممکن ہے ۔ اسی حرکت و عمل کا نام انقلاب ہے ۔ تبدیلی کا عمل عین فطرت ہے ۔ تغیر و تبدل زمانے کی روش ہے ۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتاہے کہ کائناتِ ارضی پر انسان ،اللہ تعالیٰ کا نائب ہے۔اس کا خلیفہ اور اس کا نمائندہ ہے۔ انسان اس کائنات کی اٹل حقیقت ہے۔مسلمان کی زندگی ایک خاص مقصد حیات کے گرد گھومتی ہے۔مسلمان جب اپنے پختہ ایمان و ایقان سے سرشار ہو جاتا ہے تو وہ اللہ پاک کی زبان ‘ اللہ رب العزت کا ہاتھ اور اللہ تعالیٰ کا بازو بن جاتا ہے۔بقولِ اقبال:

ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ

غالب و کار آفریں‘ کارکشا و کارساز

زندگی ایک نقطہ پر مرکوز نہیں ہے ۔ تسخیر کائنات انسان کی زندگی کا مقصدِ عین ہے ۔ اقبال اس کی تکمیل کے لیے یہ پیغام دیتے ہیں کہ

خدائے لم یزل کا دست قدرت توزباں تو ہے

یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے

قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ کائنات کو تسخیر کرو اور اس میں ڈھونڈنے والوں کے لیے بے شمار نشانیاں موجود ہیں۔حقیقی مسلمان وہ ہے جس کا آنے والا کل اس کے آج سے بہتر ہو۔گویا زندگی مسلسل ایک عمل ہے ‘ بہتر سے بہتر کی خواہش کا۔ذرا غور کریں تو سورج ‘ چاند ‘ ستارے‘ ہوائیں ‘ فضائیں اور مناظر قدرت سبھی انسانی عظمت کو سلام کرتے ہیں۔مسلمان کی عظمت کے ادراک کے ساتھ ہمیں اس بات کا یقین کر لینا چاہیے کہ حقیقی مسلمان وہ ہے ‘ جو قرآن پاک کا قاری نظر آتا ہے لیکن قرآن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ وہ سانس بھی لیتا ہے تو قرآنی اوراق سے اور جو بھی قدم اٹھاتا ہے ‘ احکامات الہٰی کے مطابق اٹھاتا ہے۔مسلمان کی زندگی انقلاب سے عبارت ہے۔جس مسلمان کی زندگی میں خوئے انقلاب نہیں اس کی زندگی موت سے بدتر ہے۔مسلمان وہ ہے جو ہمیشہ اپنے ماحول کی چیرہ دستیوں کے خلاف نبرد آزما رہے۔اس کے نزدیک زندگی مر مر کے جئے جانے کا نام ہو۔وہ بحر کی بپھری ہوئی موجوں سے لڑنے کا فن جانتا ہو‘ وہ شیر کے جبڑوں میں ہاتھ ڈالنے سے نہ گھبراتا ہو۔وہ گرجتے ہوئے بادلوں کے سامنے مسکرانے کا سلیقہ سمجھتا ہو‘ اس کے نزدیک زندگی جہاد کی شکل میں چلتی پھرتی تصویر کی مانند ہو۔

نبی پاکؐ کی پوری زندگی ’’روح اُمم کی حیات‘کشمکش انقلاب‘‘ کے گرد گھومتی رہی۔آپؐ نے علم و فضل کے ذریعے مسلمانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا۔حرا سے حرم تک ‘ پوری حیات طیبہ انقلاب اور کشمکش انقلاب کی آئینہ دار ہے۔یہی انقلابی روش آپؐ کی ذات میں بحیثیت تاجر‘ بحیثیت باپ ‘ بحیثیت سپہ سالار ‘ بحیثیت مبلغ ‘ بحیثیت مفسر اور بحیثیت ایک اعلیٰ منصف کے بدرجہ اتم موجود ہے۔فخر دو جہاں جو انقلاب لائے وہ تاریخ انسانی کا ایک اہم ترین باب ہے۔مولانا الطاف حسین حالی نے کیا خوب کہا ہے ؎

اُتر کر حرا سے سوئے قوم آیا

وہ اک نسخہء کیمیا ساتھ لایا

یہ نسخہ ء کیمیا روز آخرت تک ہمارے لیے پیغام انقلاب ہے۔انقلاب کا لفظی مفہوم توڑ پھوڑ ‘ آتش زنی یا ہڑتالیں، دھرنے یا جلاؤ گھیراؤ نہیں بلکہ کسی کام کی رفتار میں اضافہ ہے۔ایک ایسا اضافہ جس سے زندگی میں حرارت ‘ جہد مسلسل اور سبک رفتاری نظر آتی ہو۔جنگ بدر ‘ جنگ اُحد ‘جنگ خندق‘ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے روح پرور مناظر نبی معظمؐ کے انقلابی معرکے ہیں۔انقلاب لبوں کی دہلیز سے نہیں بلکہ دل کے غار حرا سے جنم لیتے ہیں۔انقلابی نعرے لبوں کے بجائے من سے محو پرواز ہوتے ہیں۔جب تک مسلمان ایک اللہ پاک ‘ایک قرآن اور ایک آخری رسولؐ پر غیر متزلزل ایمان رکھتے ہوئے میدان عمل میں کودتے رہے ‘ فتح و نصرت نے ان کا استقبال کیا۔مسلمان آگے بڑھے تو راہیں تراشتے ہوئے منزل تک پہنچ گئے۔جب وہ فضائوں میں محو پرواز ہوئے تو فضائیں نغمہ خواں ہونے لگیں۔جب انھوں نے سمندروں کا رخ کیا تو وہ طوفانی موجوں سے ٹکراتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچے اور جب انھوں نے جام شہادت نوش کیاتو ان کی پیشانی چومنے کے لیے زمین سے پھول اگ آئے۔

جب تک مسلمان ’’جس میں نہ ہو انقلاب ‘ موت ہے وہ زندگی‘‘ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آگے بڑھتے رہے تو ان کی تلواروں میں بجلیوں نے اپنے آشیانے بنائے ۔اللہ کریم کے شیروں کے نعرے یوں بلند ہوتے رہے کہ باطل کے محلات لرزنے لگ گئے اور فلک نے دیکھا کہ صلاح الدین ایوبی ‘محمد بن قاسم ‘ طارق بن زیاد ‘ محمود غزنوی ‘سلطان حیدر علی اور ٹیپو سلطان ایسے مجاہدین نے تاریخ کے اوراق اپنی بہادری ‘ جواں مردی اورخوئے انقلاب سے سنہری کر دیئے۔رسم شبیری ادا کرنے کی یہ روایت بڑی پرانی ہے۔مسلمانوں نے ہمیشہ سروں سے کفن باندھ کر اپنی انقلابی سرشت کا مظاہر ہ کیا ؎

اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے

کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

مسلمان جس انقلاب کے لیے کام کرتا ہے ‘ اس میں اس کا جذبہ مادہ پرستی ، خودغرضی ، لالچ ، ہوس اقتدار نہیں ہوتا بل کہ وہ رضائے الہٰی کے لیے میدان میں کود پڑتا ہے ۔اسے اللہ تعالیٰ کی فتح و نصرت پر کامل یقین ہوتا ہے ۔ میدان عشق میں قوت ہار جاتی ہے اور جذبے جیت جاتے ہیں۔ یہی جذبوں کی صداقت اصل ایمان ہے اور یقین عبادت ہے۔فتح و نصرت کا دارومدار ساز و سامان کی کثرت پر نہیںبل کہ ایمان کی حرارت میں ہے۔جذبہ شوق شہادت میں ہے اور حب رسولؐ میں مضمرہے ؎

مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے

وہ کیا تھا ‘ زور حیدؓر ‘ فکر بوذرؓ ‘ صدق سلمانی ؓ

مسلمان کا سب سے بڑا ہتھیار جہاد ہے۔وہ موت سے اتنا ہی پیار کرتا ہے جتنا غیر مسلم زندگی سے۔مسلمان کی زندگی کا چارٹر فتح و نصرت ہے۔وہ میدان عمل میں جیت گیا تو فتح یا ب ‘ اور اگر مقصد حیات میں کام آیا تو شہادت کا جام پی کر ‘زندہ و جاوید ہو گیا ۔ مسلمان اپنے اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتا۔اس کے نزدیک سپر طاقت صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہوتی ہے۔وہ ایمان کے پروں پر بیٹھ کر تسخیر کائنات کرتا ہے۔دور کی بات نہیں ۔تحریک پاکستان ہی کو لیجئے ۔۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلم اقتدار کا چراغ گل ہو گیا ‘ لیکن نوے سالہ مسلم جدوجہد کے بعد ازسرنو یہ چراغ منور ہو گیا اور تاریخ نے دیکھا کہ۲۶اور۲۷رمضان المبارک کی درمیانی شب یہ نعمتِ الہٰی ہمیں حاصل ہو گئی۔۱۹۶۵ء کی جنگ میں ہمارے مجاہدین نے اپنے جسم سے بم باندھ کر ایثار و قربانی کا جو مظاہرہ کیا ‘ تاریخ اس عمل پر آج بھی حیران ہے۔مقام افسوس ہے کہ آج جذبہ جہاد سے سرشار قوم مادیت کا شکارہو کر اپنی انقلابی روش سے بہت دور پہنچ چکی ہے۔امت مسلمہ پر آج کڑا وقت ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تبدیلی اور نئے پاکستان کے نعرے بلند ہو رہے ہیں۔ علامہ محمد اقبال اس ضمن میں ہماری رہنمائی کرتے ہیںکہ تبدیلی کا عمل مَیں سے شروع ہونا چاہیے۔ اقبال اسی تبدیلی کو انقلاب کے سانچے میں دیکھنے کے متمنی ہیں۔ مقامِ افسوس ہے کہ ہم فکرِ اقبال کو عملی زندگی سے ہم آہنگ نہیں کر سکے۔

تلاش ا س کی فضائوں میں کر نصیب اپنا

جہانِ تازہ میری آہِ صبح گاہ میں ہے

متعلقہ خبریں