استغفراللہ : قومی اسمبلی بھی جنسی درندوں سے پاک نہ رہی ۔۔۔۔ ایک خاتون افسر کے ساتھ کل کیا واقعہ پیش آیا ؟ اسلام آباد سے شرمناک خبر

2019 ,فروری 13



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی کی ایک اور خاتون افسر کو ہراساں کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ خاتون اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریسرچ نے تعلقات عامہ وسیم اقبال کے خلاف محتسب انسداد ہراسیت کو درخواست دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی پروٹوکول نے تعلقات قائم نہ کرنے پر میرے اے سی ارز خراب کر دیں۔  قومی اسمبلی میں ایک اور خاتون افسر کو ہراساں کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے (ر) نامی خاتون اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریسرچ نے ڈی جی پروٹوکول و تعلقات عامہ وسیم اقبال کے خلاف محتسب انسداد ہراسیت کو درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی جی پروٹوکول نے تعلقات قائم نہ کرنے پر میرے آے سی آرز خراب کردیں درخواست میں کہاگیا ہے کہ پہلے بھی میری اے سی ارز دبائی رکھی تھی اور مسلسل خصوص تعلقات قائم کرنے زور دیتا رہامیرے انکار پر مجھے دھمکیاں دیں اور آے سی آرز خراب کردی جس سے میری ترقی کا عمل متاثر ہوا ہے انہوں نے محتسب برائے انسداد حراسیت کو انصاف دلانے کی درخواست کی ہے اس سلسلے میں جب خاتون سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایاکہ اس حوالے سے اعلی سطحی فورم سے رجوع کرچکی ہوں انھیں اس بارے میں فیصلہ کرنے دیں اس حوالے سے جب وفاقی محتسب برائے ہراسیت سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایاکہ ماتحت افسر کی درخواست پر ڈی جی پروٹوکول و تعلقات عامہ وسیم اقبال سے بیس فروری تک جواب مانگ لیا ہے جبکہ گذشتہ روز ڈی جی پروٹوکول کی جگہ ان کے وکیل محتسب برائے ہراسیت کے دفتر میں پیش ہوا او رجواب دینے کیلئے وقت مانگ لیا ہے جبکہ سیکرٹری قومی اسمبلی کو بھی اگاہ کردیا گیا ہے اس حوالے سے ترجمان قومی اسمبلی نے بتایاکہ یہ فریقین کا انفرادی معاملہ ہے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں