ایسے پانچ کام جو سعودی خواتین ابھی تک نہیں کر سکتیں ۔۔۔۔سعودی معاشرے کا پوشیدہ چہرہ سامنے رکھ دینے والی تحریر

2018 ,نومبر 17



ریاض (ویب ڈیسک) سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خواتین کے حقوق اور اختیارات پر پہلے سے موجود عائد پابندیوں کو کم کرنے کا آغاز گذشتہ برس سے کیا جس کے تحت گاڑی چلانے کی اجازت، بغیر محرم کے سعودی عرب میں داخلے کی اجازت، تفریح کے لیے گھر کی بجائے کھیل کے میدان میں جانے اور

 سینیما گھروں میں جانے کی اجازت شامل ہے۔ مگر سعودی عرب میں خواتین اب بھی کئی معاملات میں مردوں کی محتاج ہیں اور یہ معاشرہ ایک ہی دن میں آزاد خیال نہیں بن گیا۔ یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو آج بھی سعودی خواتین نہیں کر سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔ بینک اکاؤنٹ کھولنا آج بھی سعودی خواتین نہیں خؤل سکتی ہیں آج بھی وہ ان کے مردوں کے نام سے بن سکتا ہے۔ اجازت کے بغیر کوئی سعودی خاتون کسی قسم کا بینک اکاؤنٹ نہیں کھول سکتی۔۔۔۔۔۔ پاسپورٹ بنوانا یا بیرونِ ملک سفر کرنا بھی سعودی خواتین کیلیے نہیں موجود ہے۔ اگرچہ ہر سال سعودی عوام اربوں ڈالر کی سیاحت کرتے ہیں اور کئی یورپی ممالک میں جا کر چھٹیاں مناتے ہیں تاہم سعودی خواتین یہ کام اکیلے نہیں کر سکتیں۔۔۔۔۔۔  کسی بھی سعودی خاتون کی شادی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک اس کا کفیل اجازی نہ دے۔ والدین کی مرضی کے خلاف شادی کرنے کا تو کوئی امکان ہی نہیں بچتا اور ایسے میں کسی بھی مرد کے لیے یہ بہت آسان ہے کہ اپنی کفالت میں موجود لڑکیوں کی جہاں مرضی ہو شادی کرے اور اگر آپ کی شادی ناکام ہو جائے تو طلاق حاصل کرنے کے لیے  بھی آپ کو اپنے شوہر کی اجازت چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی مرد دوست کے ساتھ چائے پینا بھی سعودی خاتون پر جائز نہیں۔ مملکتِ سعودیہ میں کسی بھی ریستوران یا کافی ہاؤس میں مردوں اور فیملیوں کو علحیدہ بیٹھنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی لڑکا یا لڑکی مل کر بیٹھ کر چائے پیتے پائے جائیں تو انھیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی مرضی کا لباس پہننا عوامی مقامات پر سعودی خواتین کے لیے لباس کے سخت قوائد و ضوابط موجود ہیں۔ آپ پر اپنا چہرہ ڈھکنا لازم تو نہیں مگر آپ کو سر سے لے کر پاؤں تک خود کو چھپانا ہوتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں درجہ حرارت عام طور پر 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاتا ہے، ایسے موسم میں خواتین کے لیے کپڑوں کی متعدد طہہ پہننا کچھ آسان نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں