بیس لاکھ ہزار سال پرانی برف میں چھپی جگہ دریافت، صدیوں سےدفن راز بے نقاب ہو گیا

2018 ,فروری 17



کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا میں ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں ایک لاکھ 20؍ ہزار سال سے سورج کی روشنی نہیں پہنچ پائی اور ماہرین کا خیال ہے کہ اب اس جگہ تک سورج کی روشنی پہنچنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور کئی ایسے راز ہیں جو عوام کے سامنے آنے کو تیار ہیں۔تو آخر ایسی کون سے جگہ ہے جو اب تک دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے؟ تو جناب یہ ہے قطب شمالی کا ایک ایسا علاقہ جہاں برف کی موٹی اور کئی کلومیٹر تک پھیلی تہہ کی وجہ سے سورج کی روشنی پہنچنا ممکن نہیں تھا لیکن گزشتہ سال جولائی میں انٹارکٹیکا میں امریکی ریاست ڈیلاویئر کے رقبے جتنا برفانی تودہ سمندر میں گرنے کے بعد سے اس علاقے تک سورج کی روشنی پہنچنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ زمین کے دیگر حصوں سے بالکل کٹ کر رہ جانے اور اندھیروں میں ڈوبے ہوئے اس علاقے کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق ہی بتا سکتی ہے کہ یہاں کیا کچھ موجود ہے۔ برٹش انٹارکٹک سروے (بی اے ایس) کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم رواں ہفتے انٹکارکٹ کے اس علاقے کا دورہ کرنے کیلئے روانہ ہو رہی ہے جہاں پراسرار ایکو سسٹم کی موجودگی کے اشارے ملے ہیں۔ جولائی 2017ء میں اس علاقے سے ٹوٹ کر سمندر میں گرنے والا برفانی تودے نے 5800؍ مربع کلومیٹر طویل ایک پراسرار علاقے سے پردہ اٹھایا جسے اب سے پہلے کبھی دریافت نہیں کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں