چکرا گئے یا چکر آ گئے ۔۔۔۔ شہباز شریف کا وکیل آج کمرہ عدالت میں واقعی بے ہوش ہو گیا ، مگر کس وجہ سے ؟

2019 ,مئی 15



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران شہباز شریف کے وکیل بے ہوش ہو گئے۔ سپریم کورٹ پاکستان میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران اشتر اوصاف ایڈووکیٹ کمرہ عدالت میں گر گئے جنہیں فوری طور پر اسپتال گر گئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ اشتر اوصاف قومی احتساب بیورو (نیب) ضمانت کیس میں شہباز شریف کی پیروی کر رہے ہیں جبکہ اشتر اوصاف سابق اٹارنی جنرل بھی رہ چکے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز شیخ رشید کے خلاف سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی توہین عدالت درخواست پر سماعت ہوئی تھی۔ جس میں سپریم کورٹ نے راولپنڈی کے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو آج طلب کیا تھا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ شیخ رشید نے عدالتی حکم کے باوجود گرلز گائیڈ کی دیوار گرا دی تھی جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ گزشتہ سماعت میں جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا تھا کہ کیا پنجاب حکومت قبضہ گروپ بن گئی ہے ؟ عدالت کا واضح حکم ہے کہ گرلز گائیڈ کی زمین پر کوئی قبضہ نہیں ہو گا لیکن عدالتی حکم کے باوجود دیوار کیوں گرائی گئی ؟ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے تھے کہ پنجاب حکومت گرلز گائیڈ کو تحفظ نہیں دے گی تو کسی اور کو کہیں گے تا ہم بہتر ہوگا بات وہاں تک نہ لے کر جائیں۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایسا نہیں ہو گا کہ بات کہیں اور تک جائے ہم آج ہی دیوار کی تعمیر شروع کر دیں گے۔ جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ عدالت کو اپنے حکم پر عمل کروانا آتا ہے جبکہ کمشنر، ڈی سی اور وہ سب ملزم ہیں جن کے حکم پر دیوار گرائی گئی۔ گرلز گائیڈ کی وکیل عائشہ حامد نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ لڑکیوں اور ان کی ٹرینرز کو دھمکیاں مل رہی ہیں جس کی وجہ سے گرلز گائیڈ اپنی تمام سرگرمیاں روک چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کو عدالتی حکم سے آگاہ کیا گیا تھا تاہم شیخ رشید نے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کو فون پر کہا کہ عدالتی حکم کی پرواہ نہیں کرو جبکہ راشد شفیق نے خود موقع پر جا کر دیوار گروائی۔دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے وکیل اشتر اوصاف کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں بے ہوش ہوکر گر پڑے۔ سپریم کورٹ میں سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کی ضمانت منسوخی کے کیس کی سماعت جاری تھی کہ اس دوران دلائل دیتے ہوئے ان کے وکیل اشتر اوصاف بے ہوش ہوکر گر پڑے۔ اشتر اوصاف کی طبیعت بگڑنے پر بینچ اٹھ گیا اور انہیں فوری طبی امداد دینے کے لیے ڈاکٹر کو طلب کیا گیا، سپریم کورٹ کے ڈاکٹر یاسر نے اشتر اوصاف کا معائنہ کیا جس کے بعد انہیں ایمبولینس کے ذریعے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ اشتر اوصاف کی طبیعت بگڑے پر کیس کی سماعت کرنے والے جسٹس عظمت سعید نے ان کی طبیعت کے بارے میں معلوم کیا اور کورٹ نمبر 2 کے تمام کیسز ملتوی کردیے۔ کورٹ نمبر 2 میں کیسز ملتوی ہونے کے بعد وزیر ریلوے شیخ رشید کے خلاف توہین عدالت کیس بھی ملتوی کردیا گیا۔ واضح رہےکہ اشتر اوصاف سابق وزیراعظم نوازشریف کے دورِ حکومت میں اٹارنی جنرل پاکستانتھے اور انہوں نے گزشتہ سال اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔

متعلقہ خبریں