مولا معاف کریں : اپنے ہی بچوں سے جسم فروشی کروانے والے والدین گرفتار ۔۔۔۔ شرمناک انکشافات

2019 ,فروری 8



جرمنی (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا میں ہر جگہ پیسہ کمانے کیلیے کچھ نا کچھ غلط کیا جا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے کیس پہلے بھی سامنے آئے ہیں۔ جرمن دارالحکومت برلن میں پولیس نے بچوں سے جسم فروشی کرانے والے ایک منظم گروہ کے چار ارکان کو گرفتار کر لیاہے۔ چاروں افراد کا تعلق رومانیہ سے ہے اور وہ مبینہ طور پر اپنے اور دیگر بچوں سے جسم فروشی کراتے تھے۔وفاقی دارالحکومت برلن کی پولیس نے بدھ کے روز یہ بتایا ہے کہ نابالغ بچوں سے جبری طور پر جسم فروشی کروانے والے ایک منظم گروہ کے چار  ارکان گرفتار کر لیے گئے ہیں جو دیگر بچوں کے علاوہ اپنے بچوں سے بھی جسم فروشی کرا رہے تھے۔ برلن کا ’ٹیئر گارٹن پارک‘ ایسے جرائم کا مرکز بن چکا ہے جہاں کئی مرد اپنی جنسی خواہشات کی تسکین کے لیے کم عمر بچوں کی تلاش میں آتے ہیں۔ گرفتار کیے گئے چاروں ملزمان کا تعلق یورپی ملک رومانیہ سے ہے۔ پولیس کی معلومات کے مطابق ان افراد کی عمریں چھبیس اور پچپن برس کے درمیان ہیں اور ان پر الزام ہے کہ وہ نابالغ بچوں سے جبری طور پر جسم فروشی کرانے کے لیے انہیں برلن کے ’ٹیئر گارٹن پارک‘ میں لے کر آتے تھے۔ پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ افراد پیسوں کی ہوس میں اپنے بچوں سے بھی جبری طور پر جسم فروشی کراتے تھے۔ برلن کے دفتر استغاثہ اور منظم جرائم سے متعلق تحقیقات کرنے والے ادارے کی مشترکہ تفتیش کے نتیجے میں اس منظم گروہ کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان ملزموں کو رومانیہ کی پولیس کے تعاون سے گزشتہ برس دسمبر میں رومانیہ کے شہر کرائیووا سے حراست میں لیا گیا تھا۔ حکام کی معلومات کے مطابق نابالغ بچوں کو ان کے خاندانوں سے الگ کر کے چائلڈ ویلفیئر اداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ برلن کے ٹیئر گارٹن کو نابالغوں سے جسم فروشی اور منشیات فروشی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ برلن کی ایک سماجی تنظیم سب وے کے مطابق اس پارک میں بے گھر جرمن شہریوں، غریب ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرین اور مشرقی یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے نابالغ اور کم عمر بچوں سے جسم فروشی کرائی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں