بشارتیں

2019 ,فروری 15



 

معروف صحافی و کالم نگار اور اینکرپرسن اوریا مقبول جان نے اپنے کالم” ایک گواہی جس کی بہت ضرورت تھی“ میں لکھا ہے کہ مجھے ایک گواہی کے لیے ایک ایسے خواب کا ذکر کرنا ہے جو ایک نیک آدمی نے پانچ سال پہلے دیکھا تھا اور وہ خواب پورا ہو گیا۔بیس سے اکیس گریڈ میں جانے کے لیے ہمیں سٹاف کالج لاہور میں چھ ماہ کا کورس کرنا پڑتا ہے۔اس کورس میں میرے ساتھ ایک بریگیڈیئر بھی تھے جو جرنیل پروموٹ ہونے کے لیے یہ کورس کر رہے تھے۔یہ اس دور کی بات ہے جب جنرل راحیل شریف کو فوج کا سربراہ مقرر ہوئے ایک سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا تھا۔بلوچ رجمنٹل سنٹر کے بریگیڈیئر ان لوگوں میں سے ہیں جن سے اہل نظر کا بھی رابطہ رہتا ہے۔ایک دن میرے دوست بریگیڈیئر ان سے ملنے کے لیے ایبٹ آباد گئے تو وہاں کراچی کے ایک مشہور استاد بھی موجود تھے۔ انہوں نے وہاں اپنا ایک خواب سنایا کہ میں نے خواب میں رسول اکرم کی محفل دیکھی۔جس میں حضرت عمرؓ فوج کے کسی‘باجوہ جرنیل کو ساتھ لےکرآئے اور بیٹھ گئے۔رسول اکرم نے اسے کچھ عطا کرنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تو جرنیل نے اسے بائیں ہاتھ سے لینا چاہا۔جس پر حضرت عمرؓ نے بایاں ہاتھ پیچھے کر کے دایاں ہاتھ آگے کروایا۔اوررسول اسے جو عطا کرنا چاہتے تھے کر دیا گیا اس کے بارے میں خواب دیکھنے والے کو علم نہیں۔
اس بات پر وہاں موجود فوجیوں کے کان ایک دم کھڑے ہو گئے۔دونوں بریگیڈئیر نے حساب لگایا تو اس وقت چار جرنیل جاٹ تھے۔تصاویر دکھائی گئیں تو پروفیسر صاحب نے تصویر میں خواب میں نظر
آنے والے جرنیل کو پہچان لیا۔ایک بار مذکورہ پروفیسر صاحب نے جرنیل سے اپنا خواب بیان کیا تو جنرل صاحب نے پوچھا کہ اس خواب کی تعبیر کیا ہو سکتی ہے۔تو پروفیسر نے جواب دیا کہ ہو سکتا ہے کہ آپ اگلے آرمی چیف ہوں۔
جس پر جنرل صاحب نے زوردار قہقہہ لگایا اور کہا میں اپنے گروپ میں پانچویں نمبر پر ہوں اور مجھ سے سینئیر تمام لوگ مجھ سے زیادہ قابل ہیں اور اثرو رسوخ بھی رکھتے ہیں۔اوریا مقبول جان مزید لکھتے ہیں کہ ان پروفیسر موصوف کو بعد میں سخت تفتیش اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور پھر وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے تاہم ان کا خواب سچ ثابت ہو گیا۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں بھارت کے ایک عالم دین کا کہنا ہے کہ میں دعا کرتا تھا کہ عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بن جائیں ۔ عمران خان میں اتنا ٹیلنٹ ہے تو اللہ کرے یہ وزیراعظم بن جائے۔مجھے لگتا تھا کہ عمران خان میں اتنی صلاحیت ہے کہ یہ اس بکھرے ہوئے ملک کو جوڑ دیں گے۔وزیراعظم عمران خان کے ہمارے ملک کے کھلاڑیوں سے بہت اچھے تعلقات تھے۔ہم دیکھتے تھے کہ وہ ہمارے کھلاڑیوں کو گلے ملتے تھے اور خوب باتیں کرتے تھے۔ ہم یہ بھی سوچتے تھے کہ اگر عمران خان وزیراعظم بن جائیں تو پاکستان کے ہندوستان سے تعلقات بہت اچھے ہو جائیں گے۔کیونکہ ہمارے بھی خاندان کے کئی لوگ اورعزیز و اقارب پاکستان میں ہیں لیکن اب تو وہ جیسے دشمن ملک بن گیا ہے،ایسا لگتا تھا کہ یہ لوگ اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے ترس گئے ہیں۔جب دو ممالک کے اچھے تعلقات ہوں تو نہ صرف ان دو ممالک اور لوگوں کا بلکہ پوری دنیا کا فائدہ ہوتا ہے۔کئی بار مجھے عمران خان کے وزیراعظم بننے کے لیے دعا کرنے کی توفیق ہوئی کیونکہ یہ دونوں ملکوں کے لیے بہت خیر کی بات ہونی تھی۔لیکن یہ بات بہت پرانی ہو گئی تھی۔ عالم دین کا مزید کہنا تھا کہ جب میں اس بار حج ادا کرنے آیا تو منیٰ میں جانے سے پہلے میں نے دو تین رات لگاتار عمران خان کو خواب میں دیکھا۔پہلے دن یہ خواب دیکھا کہ الیکشن ہو گئے ہیں نتیجہ آنے والا ہے اور کچھ لوگ انہیں میرے پاس دعا کے لیے لائے ہیں میں نے دیکھا عمران خان بہت تواضع کے ساتھ پٹھانی سوٹ پہنے میرے ساتھ برابر میں بیٹھے ہوئے ہیں اور مجھے کہتے ہیں کہ میری پاکستان بننے کی حق ادا کرنے کی نیت ہے۔عالم دین کا کہنا تھا کہ مجھے دو تین راتیں یہی خواب آتا رہا۔اور پھر جب ہم منیٰ گئے تو میرے خواب میں حضرت محمد تشریف لائے اور کہا کہ اب تو خوش ہو تم دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ کرے عمران خان وزیراعظم پاکستان بن جائے۔
آصف زرداری کے روحانی استاد گوجرانوالہ کے پیر اعجاز شاہ تھے۔ پانچ سال ایوانِ صدر میں بوریا نشین رہے۔ سوئس اکاو¿نٹس کیس کے دوران پیر صاحب نے ایک برس مدینہ میں چلہ کشی کی ۔پیر اعجاز شاہ کے ہی حکم پر ایوانِ صدر میں روزانہ ایک بکرے کی قربانی ہوتی تھی۔ بہت سے ملکی و غیر ملکی دوروں میں بھی پیر صاحب صدر کے ساتھ ہوتے تھے۔ یہ فیصلہ بھی پیر صاحب ہی کرتے تھے کہ زرداری صاحب کو کب پانی کے کنارے اور کب پہاڑی علاقے میں رہنا ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کا اگرچہ کوئی مستقل پیر تو نہیں تھا مگر انہیں بہت سے بزرگوں سے عقیدت تھی۔ ایک بزرگ رحمت اللہ عرف دیوانہ بابا عرف چھڑی بابا آف دھنکہ شریف آف مانسہرہ تو بی بی کو نواز شریف صاحب سے ترکے میں ملے۔ دیوانہ بابا کے پاس بہت سی سیاسی ہستیاں جاتی تھیں۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ جس کو وہ غضب ناک ہو کر اپنی چھڑی مارتے اس کی مراد بر آتی۔گائے یا بیل کو چھڑی ماری جائے تو وہ دُم ہلاتے ہوئے چھڑی لگنے کی جگہ کو سہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر بی بی اور میاں کی دُم نہیں تھی یا چھڑی کھانے کی بے پایاں خواہش تھی۔

میاں صاحب نے چھڑی بابا کے گاؤں کو ترجیحاً بجلی پہنچائی اور بے نظیر بھٹو نے ان کے آستانے تک سڑک بنوائی اور ہیلی کاپٹر میں بھی بابا جی کی فرمائش پر جھولا دیا۔وزیر اعظم بننے سے پہلے میاں نواز شریف کی صوفی برکت علی لدھیانوی سے بڑی نیاز مندی تھی۔ غلام مصطفی جتوئی بھی چھڑی بابا کے مرید تھے۔ آخری عمر میں نگراں وزارتِ عظمیٰ مل گئی۔پیر صاحب دھنکہ شریف کا 2008 میں وصال ہو گیا۔ اسلام آباد کے نواحی علاقے چک شہزاد میں ملتانی بابا کے آستانے پر بھی بی بی بہ عقیدت جایا کرتی تھیں۔

18 اکتوبر 2007 کے بعد بی بی نے جب سندھ کا انتخابی دورہ کیا تو ایک تصویر بہت مشہور ہوئی جس میں بی بی قنبر کے حسین شاہ کے سامنے فرش پر بیٹھی تھیں اور حسین شاہ کرسی پر تشریف فرما تھے۔ یہ تصویر بی بی کے تو کام نہ آئی البتہ حسین شاہ کا روحانی سکہ چل نکلا۔ 1980 کی دہائی میں شریف خاندان پر سب سے زیادہ روحانی اثر علامہ طاہر القادری کا تھا۔ میاں محمد شریف بھی جواں سال طاہر القادری کے معتقد تھے اور نواز و شہباز شریف بھی حلقہِ اثر میں تھے۔ ایبٹ آباد کے ایک بزرگ بابا غلام النصیر چلاسی کے پاس ضیا الحق بہ عقیدت حاضری دیتے تھے۔ دیگر عقیدت مندوں میں اعجاز الحق، حمید گل، سردار مہتاب خان عباسی اور سردار فاروق لغاری بھی شامل تھے۔ مولانا فضل الرحمان کو بھی ان سے خاصی عقیدت ہے۔ذوالفقار علی بھٹو کا کوئی مرشد تھا، اس کا کسی کو علم نہیں۔ البتہ بھٹو صاحب شہباز قلندر کے معتقد تھے اور اکثر سیہون شریف حاضری دیتے تھے۔ انھوں نے ہی قلندر اور داتا صاحب کے مزار پر سونے کے پانی والے دروازے لگوائے۔ جب بھٹو صاحب کال کوٹھڑی میں تھے تو ان کی پہلی اہلیہ امیر بیگم ٹرین کی بوگی بھر کے خواتین کے ساتھ سیہون شریف پہنچیں مگر۔۔۔

ہم اعتقاد اور عقیدے کے جس عروج پر ہیں‘ اس کے مظاہر جعلی پیروں کے انسانیت کو شرما دینے والے کرتوتوں سے عیاں ہوتے رہتے ہیں۔بزرگوں ولیوں کی دعائوں میں اثرِ اور کرامات بھی یقیناً منسوب ہیں جو اللہ والوں کی نظرِ عنایت سے اعلیٰ عہدوں تک پہنچتے ہیں۔ بزرگوں کی آشیر باد ان کے ساتھ رہتی ہے۔ خود اندازہ کر لیں ہمارے سیاسی زعما کے انجام کا جو بخیر نہیں ہوا۔ لاہورمیں سنا ہے ایک لاڑا پیر ہے۔ اس کے سامنے دو تین کلو چرس کا ڈھیلا پڑا ہوتا ہے۔ بیک وقت تین سگریٹ بھرے ہوئے سلگا کر کش لگاتا ہے۔ مخبری پر پولیس نے اسے چرس سمیت اٹھا کر ڈالے میں پھینک دیا مگر خلق خدا نے ایک عجیب تماشا دیکھا۔ پولیس کی گاڑی سٹارٹ ہونے میں نہ آئی۔ ایس ایچ او کو اس ’’کرشمے‘‘ کی اطلاع دی گئی۔ وہ آیا لاڑے پیر کو گاڑی سے اتارا تو گاڑی سٹارٹ ہو گئی۔ پھر بٹھایا تو گاڑی کا پھرسلف جواب دے گیا۔ ایس ایچ او لاڑے پیر کے پائوں پڑ گیا۔ اب کسی کی جرأت نہیں لاڑے پیر کی کوئی روک ٹوک کرے۔ لاڑے پیر کو ایل سی ڈی پر نورجہاں کے گانے دیکھنے کا بہت شوق ہے۔ ایک خاتون اولاد سے محروم تھی۔ پیر صاحب نے اس کے ہاتھ پر سگریٹ کا گل جھاڑتے ہوئے کہا اسے کھا لے دو ماہ بعد خاتون کے ہاں بچے کی ولادت ہو گئی؟!ایسی باتیں اور قصے عموماً زیب داستاں بھی ہوتے ہیں۔ کل کی خبر تھی: کراچی میں خزانے کی تلاش میں محسن کی کھدائی کرنے والا پیرنی سمیت گرفتار! پیرنی پہنچی ہوئی ہوگی؟ گرفتار کرنے والے بھسم ہو گئے ہونگے؟؟ آج کی خبر ہے۔ شجاع آباد میں جعلی پیرکے آستانے سے تین خواتین بازیاب۔ غیرت مندوںکی عبرت کیلئے ! نیک لوگوں کے پاس جانا اور ان کی مجالس میں شرکت خیروبرکت کے باعث ہونے میں کوئی شائبہ نہیں مگر ڈھونگیوں کا وجود بھی موجود ہے۔ میجر نذیر کسی چادر پیر کا قصہ بتا رہے تھے، ان کی یونٹ کاجوان دو ماہ کی رخصت گزارنے کے بعد مزید ایک ماہ کی چھٹی کا خواستگار ہوا تھوڑی سی تحقیق سے پتہ چلا کہ وہ چادر والی سرکار کے پاس گیا ، بُکل پوش سرکار کے سامنے 5 کرسیاں رکھی ہوتیں جن کے بارے بتایا جاتا کہ پنجتن پاک آ کے بیٹھتے ہیں۔ فوجی جوان بھی اتفاقاً وہاں گیا تو عقیدت مندوں کے دائرے میں شامل ہو گیا۔ ’’سرکار‘‘ نے اس کی کرسی بھی وہیں رکھوا لی وہ وردی میں وہاں بیٹھتا۔ اس کی تنخواہ سے زیادہ خدمت اورنذرانے بھی گھر پہنچائے جاتے تھے۔ جنرل ضیاء الحق ان دنوں طاقتور فوجی حکمران تھے، مشہور کیا گیا کہ جنرل ضیاء چادر پیر کے مرید ا ور یہ فوجی جنرل ضیاء سے تحفتاً عقیدتاً ا حفاظتاً تعینات کیا ہے۔ دو کزنوں نے بڑی خوشی اور فخر سے آ کر بتایا ’’بھائی جان ہماری شوگر نِل ہو گئی ہے۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے پوچھا کہاں سے ا ور کونسی میڈیسن لی ہے۔ میڈیسن نہیں لی تعویز لیے ہیں، بابا جی نے کہا تھا جو مرضی کھائواور ہم نے کھایا ہے۔ میں نے کہا چلو چیک کراتے ہیں تو انہوں نے کہا بابا جی نے چیک کرانے سے منع کیاتھا البتہ میں انہیں چیک کرانے لے گیا۔ دونوں کی تین سو سے زیادہ شوگر تھی۔ اللہ کی کلام میں اثر ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ نگاہِ مردِ مومن سے تقدیریں بھی بدل جاتی ہیں مگر مردِ مومن دو نمبر نہ ہو تب۔ دو نمبر بابوں کے بارے میں شاعر نے کہا

کچھ لوگ جھاڑ پھونک سے کرنے لگے علاج

اپنا جہل بھی شامل ہے ان کے کمال میں

سب ڈاکٹروں کو کہو چھٹی کریں قتیل

اک پیر ہم بٹھائیں گے ہر اسپتال میں

متعلقہ خبریں