این آر او ہوگا یا نہیں ۔۔۔۔؟ عبد العلیم خان کی گرفتاری کے بعد عمران خان کا بڑا فیصلہ ۔۔۔۔ پہلی بار لب کشائی کر دی

2019 ,فروری 8



لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ، کہ علیم خان کی گرفتاری کے بعد پنجاب میں سیاسی اور حکومتی معاملات پر بھی غور کیا گیا ، ن لیگ یا پیپلزپارٹی کسی سے بھی ڈیل نہیں ہورہی ، ڈیل کی خبروں سمیت تمام معاملات پر حکومتی مئوقف عوام تک مثبت انداز میں پیش کیا جائے تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے زیرصدارت اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں ندیم افضل چن ، افتخار درانی ، یوسف بیگ مرزا ، شفقت محمود ، مراد راس سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی ، اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور حکومتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ، علیم خان کی گرفتاری کے بعد پنجاب میں سیاسی اور حکومتی معاملات پر بھی غور کیا گیا ، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ن لیگ یا پیپلزپارٹی کسی سے بھی ڈیل نہیں ہورہی ، ڈیل کی خبروں سمیت تمام معاملات پر حکومتی مئوقف عوام تک مثبت انداز میں پیش کیا جائے ، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ریاست مدینہ کے اصول آج بھی اسی طرح مسلم ہیں ، ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل پیرا ہوکر مسلمانوں نے دنیا کی امامت کی۔ہم آج بھی اپنا وہی مقام حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسلامی تاریخ اور حقائق سے ناواقفیت سے مفاد پرست فائدہ اٹھاتے ہیں۔اسلامی تاریخ اور حقائق کومسخ کرکے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پیش آنے والے مسائل کو بھی مفاد کیلئے استعمال کیا گیا ،وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ بعض سیاستدانوں نے اسلام کو اپنی سیاسی دکان چمکانے کیلئے استعمال کیا۔معاشی اور سماجی تنزلی سے پہلے اخلاقی تباہیہوتی ہے۔ کرپشن اخلاقی تباہی کا مظہر ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سول سروس ریفارمز ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا ، وزیراعظم نے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 70 کی دہائی میں پاکستان کی سول سروس اس خطے کی سب سے بہترین سروس تھی اور خطے کے دیگر ممالک ہم سے سیکھنے تھے ،بد قسمتی سے سیاسی مداخلت سے سول سروس کا زوال شروع ہوا ، ہماری حکومت نیک نیتی کے ساتھ ریفارمز کا ایجنڈا لے کر آئی ہے اور عوامی فلاح و بہود کی خاطر نظام میں بہتری لانے کی خواہش مند ہے ، احتساب اور میرٹ ہی نظام میں بہتری لانے کے اصول ہیں ، ہماری حکومت کا مشن ہے کہ بیوروکریسی کو سیاسی مداخلت سے بچایا جائے اور ہر تقرری صرف میرٹ کی بنیاد پر کی جائے ، وزیر اعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہماری حکومت نے سروس کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں کیں ، سول سرونٹس کو بےجا تنگ کرنے سے کام رک جاتا ہے ، پوسٹ پر مدت ملازمت کو تحفظ فراہم کیا جائے گا ، تاکہ ڈیلیوری میں تسلسل قائم رہے ، سرکار کے زیر انتظام کمپنیوں اور اداروں کے بورڈزمیں اچھی شہرت اور اہل افراد کو شامل کیا جارہا ہے ، تاکہ عوام کو بہتر سہولیات اور سروسز مہیا کی جاسکیں ،

متعلقہ خبریں