انصاف ہو تو ایسا۔۔۔۔ غلط فیصلہ دینے پر جنوبی کوریا کے سابق چیف جسٹس کے ساتھ کیا سلوک کر دیا گیا؟ خبر پڑ کر آپ بھی یقین نہیں کریں گے

2019 ,جنوری 24



جنوبی کوریا ( مانیٹرنگ ڈیسک ) جنوبی کوریا کے سپریم کورٹ کی جانب سے ایک گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا ،، جس میں سابق چیف جسٹس یانگ سونگ ٹائی کو سابق صدر کیساتھ مل کرجاپان کے متعلق ایک فیصلے کو بگاڑنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے ،، جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کی عدالت کی جانب سے ان کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گیا ، جس میں 71 سالہ سابق چیف جسٹس یانگ سونگ ٹائی جو کہ جنوبی کوریا کے پہلے جج رہے ہیں ان کو کرمنل چارجز میں گرفتار کیا جائے ، دوسری جانب سابق چیف جسٹس یانگ سونگ ٹائی نے خود پر لگے الزامات کو مسترد کردیا ہے کہ 2011 سے 2017 سے تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہنے والے یانگ سونگ ٹائی پر ججز کے خلاف امتیازی سلوک کے بھی الزامات عائد ہیں ،ان کے کیس میں بین الاقوامی اثرات بھی شامل ہیں کیونکہ ان کے فیصلے سے جنوبی کوریا اور جاپان میں سفارتی اختلافات سامنے آئے تھے۔ جنوبی کوریا اور جاپان کے تعلقات میں تب سے کھچاؤ کی صورتحال ہے جب جنوبی کوریا کے سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ سال فیصلہ دیا گیا تھا کہ عالمی جنگ دوئم میں جبری مزدوری کرنے والے کوریا کے متاثرین کو اپنے نقصانات کا ازالہ اس وقت کے اپنے آجر سے لینے کا حق ہے جس میں جاپان کے سب سے بڑے صنعت کار نپون اسٹیل اینڈ سومیٹومو میٹل اور مٹسوبیشی ہیوی انڈسٹریز شامل ہیں۔عدالت نے جاپانی کمپنی کو ہر متاثرہ مزدور کو 88 ہزار سے ایک لاکھ 33 ہزار ڈالر تک معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔دوسری جانب ٹوکیو کا کہنا تھا کہ 1910 سے 1945 تک کولونیل راج کے دوران تمام دعووں کی سیٹلمنٹ 1965 میں کردی گئی تھی جہاں سیول سے سفارتی تعلقات بڑھانے کے لیے معاشی امداد کے طور پر اسے 30 کروڑ ڈالر ادا کردیے گئے تھے۔

متعلقہ خبریں