کہاتھا نا یہ کپتان کا نیا پاکستان ہے ، پاکستان کو امریکہ کو کمر توڑ جھٹکا ، ایسا اعلان کردیا کہ ٹرمپ کی نیندیں اڑ گئیں

2019 ,اپریل 30



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے ایک بار پھر امریکا سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کیے گئے اخراجات کی مد میں 6 ارب ڈالر کے بقایاجات مانگ لیے،اس حوالے سے ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے پیر کو وزارت خزانہ میں امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ایلس ویلز نے ملاقات کی۔ اجلاس میں شریک ایک ذرائع نے بتایا کہ دیگر امور کے ساتھ ساتھ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا تخمینیہ 6ارب ڈالر کے قریب ہے،تاہم امریکا کے نزدیک یہ بقایاجات کم ہیں۔جب ان سے استفسار کیا گیا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کولیشن فنڈ کے باقایاجات کو بھی مجموعی غیر ملکی آمدن میں شمار کیا جائے تو ان کا کہنا تھا کہ جب تک امریکا کی جانب سے پاکستانی اخراجات کے بقایاجات کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کر لیا جاتا۔ ان کی ادائیگی کا ٹائم فریم نہیں طے پا جاتا۔اس وقت تک رقم کو بجٹ میں غیر ملکی آمدن نہیں دکھایا جا سکتا۔اس کے ساتھ ساتھ دونوں مملاک میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی معیشت کو 123 ارب ڈالر کے نقصانات پہنچے ہیں جو اب تک جاری ہیں اور 76 ہزار شہریوں اور فوجی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔ جب کہ دوسری جانب میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے خبردارکیاہے کہ آئندہ دو برسوں میں پاکستان کے 27ارب ڈالر کی قرضے میچور ہوجائیں ، معاشی سست روی اورمہنگائی میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا رہے گا۔عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان، افغانستان اورخلیجی ممالک کی معیشت پر اکنامک آئوٹ لک اپ ڈیٹ جاری کردیا ہے ، رپورٹ میں پاکستان اور افغانستان کی معاشی شرح نمو میں نمایاں کمی کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ خلیجی ممالک کی معاشی ترقی کی شرح سست روی کا شکار رہے گی، پورے خطے میں افراط زر کی شرح 11فیصد سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں