بڑی خبر : ترکی ناقابل شکست اسلامی ملک بن گیا ، اہم ترین دوست ملک سے ایسی جدید ترین اور خوفناک ٹیکنالوجی حاصل کر لی کہ اسلام کے دشمن دیواروں سے سر ٹکرانے لگے

2019 ,مئی 29



ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک) روس نے تمام تر امریکی دباﺅ کے باوجود ترکی کو میزائل ڈیفنس سسٹم ایس 400 وقت سے پہلے فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔روسی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی ایوان صدر کے ترجمان دمتری بیسکوف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ترکی کی درخواست پر مقررہ وقت سے پہلے میزائل ڈیفنس سسٹم ایس 400 فراہم کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیفنس سسٹم کی فراہمی کے حوالے سے کوئی تاخیر نہیں پائی جاتی اور تمام چیزیں منصوبہ بندی کے مطابق درست سمت میں چل رہی ہیں۔روس کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن سنجیدگی کے ساتھ ترک پائلٹوں کی ایف 35طیاروں کی تربیت کے پروگرام کو معطل کرنے پر غور کر رہا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے امریکہ ، روس اور ترکی کے مابین میزائل ڈیفنس سسٹم ایس 400 اور ایف 35 طیاروں کی فراہمی کے معاملے پر تنازعہ چلا آرہا تھا۔ امریکہ نے واضح کیا تھا کہ اگر ترکی روس سے میزائل ڈیفنس سسٹم خریدتا ہے تو اسے ایف 35 طیارے فراہم نہیں کیے جائیں گے۔ امریکہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ ایس 400 میزائل ڈیفنس سسٹم اور ایف 35 فائٹر طیارے کمپیوٹر کی طرح ہیں ، امریکہ اپنے دشمن ملک کے کمپیوٹر کے ساتھ اپنے کمپیوٹر کو اٹیچ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ دوسری جانب امریکی فضائیہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وائٹ ہاؤس نے ایرانی حملے کے خطرے کے پیش نظر بی 52 بمبار طیارے خلیجی ممالک کے اڈوں پرپہنچا دیئے ہیں۔ یہ طیارے قطر میں قائم امریکی فوجی اڈے پر پہنچائے گئے ہیں۔امریکی فضائیہ کی جانب سے قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے پر بی 52 ایچ طیاروں کی موجودگی کی تصاویر جاری کی گئی تھیں۔امریکی فضائیہ کا کہنا ہے کہ بمبار طیارے جنوب مغربی ایشیائی ملکوں میں بھی پہنچ گئے ہیں تاہم ان کے ٹھکانوں کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدرڈنلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک لے جانے کے اعلان کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات پرحملوں کی دھمکی دی ہے جس کے بعد امریکا نے فوری کارروائی کی تیاری کرتے ہوئے اپنا ایک جنگی بیڑا مشرق وسطیٰ میں پہنچا دیا ہے۔یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کرچکا ہے، دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے جارہے ہیں، جبکہ دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر امریکی مفادات کو ٹھیس پہنچی تو ایران کو سنگین تنائج بھگتنا ہوں گے۔کچھ روز قبل متحدہ عرب امارات کی سمندری حدود میں سعودی تیل بردار جہازوں پر حملے پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ ان حملوں کا الزام بھی ایران پر عائد کیا جارہا ہے، گزشتہ روز فجیرہ کی بندرگاہ کے قریب سعودی عرب سے امریکا جانے والے دو آئل ویسلز پر حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں وہ تبا ہ ہوگئے تھے۔

متعلقہ خبریں