اہم ترین کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس سنتے ہی کمرہ عدالت میں سناٹا چھا گیا

2019 ,جون 28



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ اگر انصاف چاہئیے تو سچ بولا کریں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم احمد کی بریت کے خلاف مقتول طارق محمود کے بھائی کی نظر ثانی اپیل خارج کردی۔سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے aچیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مقتول کے بھائی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ آپ کی نظر ثانی اپیل کیوں خارج ہوئی ہے؟ کیا آپ نے عدالتی فیصلہ پڑھا؟ جس پر مقتول کے بھائی صفدر صدیق نے کہا کہ میرے بھائی کو احمد نے قتل کیا۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ احمد نے قتل کیا ہو گا مگرسوال یہ ہے احمد بری کیسے ہوا؟ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ غلط شہادت پر ملزم بری ہو جاتے ہیں۔جھوٹی شہادت پر ملزمان کے بری ہونے کا الزام عدلیہ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اگر انصاف چاہئیے تو سچ بولیں، اگر آپ میں سچ بولنے کی ہمت نہیں تو انصاف بھی نہ مانگیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے مقتول کے بھائی سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ نے بھائی کے قتل کی جھوٹی گواہی دی۔جس ڈیرہ پر قتل کا واقعہ ہوا وہاں آپ موجود ہی نہیں تھے، کیوں نہ جھوٹی گواہی پر آپ کے خلاف کارروائی کرکے عمر قید سزا دیں؟ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ جھوٹی گواہی پر پہلے ہی پانچ جھوٹے گواہوں کو کاروائی کا سامنا ہے، سچ کے بغیر انصاف نہیں ہو سکتا۔ گواہ اللہ کی خاطر بنا جاتا ہے، اللہ کا حکم ہے کہ اپنے والدین، بھائی، عزیز کے خلاف سچی گواہی دو۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جھوٹے گواہوں کے خلاف کارروائیاں شروع ہو چکی ہیں، کوشش کر رہے ہیں کہ عدلیہ میں سچ کو واپس لائیں۔ جس کے بعد مقتول کے بھائی کی ملزم کی بریت پر نظر ثانی کی اپیل خارج کر دی گئی۔

متعلقہ خبریں