نورانی شکل والے شا ہدخاقان عباسی کی شکل۔۔۔۔۔۔ وزیر مملکت زرتاج گل کے بیان نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا

2019 ,جولائی 20



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرمملکت زرتاج گل نے کہا ہے کہ اگرچہ شا ہدخاقان عباسی کی شکل بڑی اچھی لگتی ہواور لیکن ایک ایسی کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا جسے 2لاکھ ستر ہزارڈالر روز کا جاتا رہا ، یہ نہیں کہاجا سکتا کہ ایک شخص کی شکل نورانی ہے لیکن اس کو بے گناہی کو ثابت تو عدالت میں ہی کرناہے ۔نجی نیوز کے پروگرام ”سوال عوام کا“زرتاج گل نے کہاہے کہ ان کو صفائی کا ہر موقع دیا گیا اور پوچھا گیاکہ آپ کے پاس یہ پیسے کہاں سے آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہوسکتاہے کہ شاہدخاقان عباسی کی شکل بڑی اچھی لگتی ہواور لیکن ایک ایسی کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا جسے 2لاکھ ستر ہزارڈالر روز کا جاتا رہا ۔زرتاج گل کا کہنا تھا کہ یہ نہیں کہاجا سکتا کہ ایک شخص کی شکل نورانی ہے لیکن اس کو بے گناہی کو ثابت تو عدالت میں ہی کرناہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ لوگ خود کشیاں کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ،میں بتاناچاہتی ہوں کہ پچھلے پانچ سالوں میں سب سے زیادہ خودکشیاں پنجاب میں ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا ن لیگ کے ساتھ کوئی ذاتی جھگڑا تونہیں ہے ، بات یہ ہے کہ پاکستان کامال آپ لوٹ کر کھاگئے ہواور اس کاجواب عدالت میں دو ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق ) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا ہے کہ آئین میں چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے۔اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ سینیٹ کی، ملک اور بیرون ملک حرمت کے لیے کھڑا ہوں۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپوزیشن کے خط پر اپوزیشن کے 7 پارلیمانی رہنماؤں کو جوابی خط لکھا ہے جو تین صفحات پر مشتمل ہے۔صادق سنجرانی کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا گیا ہے کہ آئین میں چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین کو ہٹانے کے لیے عدم اعتماد کی تحریک کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔انہوں نے لکھا کہ بطور نگران چیئرمین سینیٹ کی رولنگ کے تحفظ کے لیے لڑ رہا ہوں اور اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔سینیٹ کے کسٹوڈین نے اپوزیشن رہنماؤں کو لکھا کہ ہم یقینی بنائیں اس سارے عمل کے دوران ہمارا رویہ چیئر کی رولنگ کی حرمت کو کمزور نہ کرے، اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ سینیٹ کی، ملک اور بیرون ملک حرمت کے لیے کھڑا ہوں۔صادق سنجرانی نے اپوزیشن رہنماؤں کو خط میں یہ بھی لکھا کہ افراد آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ادارے، روایات اور پارلیمانی طریقہ کار باقی رہتا ہے۔انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی بالادستی کو تباہ نہ کیا جائے۔خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی گئی تھی جسے اعتراض لگا کر واپس کر دیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں