میڈیکل یونیورسٹی نے بے حیائی کی انتہا کر دی

2019 ,فروری 7



 

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) بے حیائی کی انتہا ہو گئی۔پاکستان کی میڈیکل یونیورسٹیز کو فحش پر مبنی مواد پڑھنے کو دے دیا گیا۔میڈیکل یونیورسٹی کی کتاب میں لڑکیوں کے کنوارے پن کو جانچنے کا طریقہ شامل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر پاکستان کی ایک میڈیکل یونیورسٹی میں پڑھائے جانے والی ایک کتاب میں شامل مضمون نے خاصا ہنگامہ کھڑا کر رکھا ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر کے مطابق پاکستانی یونیورسٹی نے لڑکیوں کے کنوارے پن کو جانچنے سے متعلق مضمون درسی کتاب میں شامل کر دیا ہے۔لڑکیوں کے کنوارے پن کو جانچنے کا طریقہ،پاکستانی میڈیکل یونیورسٹی کا متنازعہ مضمون زیر بحث ہے۔سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے ایسے شرمناک مضمون درسی کتاب میں شامل کرنے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور حکام سے معاملے کا نوٹس لینے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔یونیورسٹی کتاب میں شامل مضمون میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جاننا چاہتا ہے کہ کوئی لڑکی حقیقت میں کنواری ہے یا نہیں۔تو اس کے لیے کچھ ہدایات پر عمل کرنے کا کہا گیا ہے۔مضمون کا متن اس قدر شرمناک ہے کہ ادارہ اپنی اس تحریر میں اس مضمون کی تصویر شامل کرنے سے قاصر ہے۔پاکستان ایک مشرقی روایات کا حامل ملک ہے۔ایسے میں کسی یونیورسٹی کی جانب سے خواتین سے متعلق ایسے شرمناک مضمون کو درسی کتاب کا حصہ بنانے کے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کی جانی چاہیئے۔سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس تمام صورتحال پر شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ پہلے ہی پاکستان میں بہت برے واقعات ہو رہے ہیں جن کی روک تھام میں کوئی خاص پیش رفت سامنے نہیں آئی تاہم ایسے واقعے سے تو یونیورسٹیاں بے حیائی پھیلائی جانے کا سبب بن رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں