رمضان المبارک کے آغاز پر ہی فلسطینیوں کے لیے شاندار اعلان، پوری دنیا میں دھوم مچ گئی

2019 ,مئی 7



دوحہ( مانیٹرنگ ڈیسک) قطر کی جانب سے فلسطینیوں کے لیے 480 ملین ڈالرز کی امدادی رقم کا اعلان کیا گیا ہے۔  قطر نے شدید مالی مشکلات کی شکار فلسطینی انتظامیہ کی معاونت کے لیے 480 ملین ڈالرز کی امدادی رقم مختص کی ہے، یہ رقم تعلیم، صحت اور فوری انسانی ضروریات کی فراہمی کی مد میں استعمال کی جائیں گی۔ فلسطین میں پناہ گزین کیمپوں میں تعلیم، صحت اور دیگر ضروریات زندگی کے فقدان کا سامنا ہے۔ قطر نے فلسطین کو فوری مالی امداد کا اعلان امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فلسطین کو رقم کی فراہمی کی بندش کے بعد کیا ہے، امریکا نے فلسطینی پناہ گزینوں کو دی جانے والی تمام تر امداد ختم کردی تھی جب کہ اسرائیل نے فلسطینی علاقے سے حاصل ہونے والے محصولات دینا بند کردی تھیں۔ قطر نے امید ظاہر کی ہے کہ اس امداد سے فلسطینی اتھارٹی کی مالی مشکلات میں کمی واقع ہوگی اور فلسطینی پناہ گزینوں کی حالت زار بہتر ہو جائے گی۔ فلسطین اتھارٹی نے امدادی رقم کے اعلان پر قطر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ برادر اسلامی ملک کا اقدام قابل ستائش ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس امریکی صدر نے بیت المقدس میں کام کرنے والے 6 اسپتالوں کو دی جانے والی امداد میں ڈھائی کروڑ ڈالر کی کٹوتی کر دی تھی جب کہ اس سے قبل اکنامک فنڈز سپورٹ کے 200 ملین ڈالر اور اونرا کو دی جانے والی امداد کو بھی روک دیا گیا تھا۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت قطر کو کم قیمت پر ایل این جی فروخت کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب، قطر نے پاکستان کو 5 سال کیلئے پہلے سے طے شدہ قیمت سے 2 فیصد کم قیمت پر ایل این جی فروخت کرنے کی پیش کش کر دی، معاہدہ ہو جانے کی صورت میں پاکستان کو اربوں ڈالرز کا فائدہ ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قطر کے ساتھ ایل این جی ڈیل میں رد و بدل کے حوالے سے بڑی کامیابی حاصل کر گئی ہے۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت قطر کو کم قیمت پر ایل این جی فروخت کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات سے ایل این جی کی خریداری کیلئے معاہدہ کرنے پر غور کر رہی تھی۔ایسے میں قطر نے مجبور ہو کر کم قیمت پر پاکستان کو ایل این جی فروخت کرنے کی پیش کش کی ہے۔ قطر نے پاکستان کو 5 سال کیلئے پہلے سے طے شدہ قیمت سے 2 فیصد کم قیمت پر ایل این جی فروخت کرنے کی پیش کش کر دی ہے۔معاہدہ ہو جانے کی صورت میں پاکستان کو اربوں ڈالرز کا فائدہ ہوگا۔ واضح رہے کہ پاکستان کی مسلم لیگ ن کی گزشتہ حکومت نے قطر سے 15 سال کیلئے ایل این جی خریداری کا معاہدہ کیا تھا۔ مسلم لیگ ن نے 25 ارب ڈالر کے عوض قطر سے ایل این جی کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اعتراض کیا گیا تھا کہ مسلم لیگ ن نے قطر کے ساتھ مارکیٹ سے زیادہ قیمت پر ایل این جی کی خریداری کا معاہدہ کیاہے۔ اس حوالے سے نیب کی جانب سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ جبکہ آڈٹ رپورٹ میں بھی اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ گزشتہ دور حکومت میں قطر سے طے کیے جانے والے ایل این جی معاہدے سے سرکاری خزانے کو 75 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔

متعلقہ خبریں