’’پارلیمنٹ پر لعنت‘‘ … خانِ اعظم، مدبرِ اعظم

2018 ,جنوری 21



ڈاکٹر نے پورا دن پاگل خانے میں پاگلوں کے روئیے کا جائزہ لیتے ہوئے گزارا، ایک سے جب بھی سوال کیا تو جواب نہایت دانشمندانہ اور فلسفیانہ ملا۔ ڈاکٹر صاحب اس سے بڑے متاثر ہوئے، شام کوآخری سوال کیا ’’تم پاگل کیسے ہو گئے؟‘‘

جواب تھا۔ ’’میں نے ایک بیوہ سے شادی کی۔ اس کی جوان بیٹی سے والدِ محترم نے بیاہ رچا لیا۔ یوں میرا باپ میرا داماد اور اس کی بیوی جو میری بیٹی بھی تھی میری ماں بھی بن گئی۔ میری بیوی جو پہلے میرے باپ کی بہو تھی اب ساس بھی تھی۔ ان کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی وہ میری بہن تھی۔ اس کے ساتھ میں اس کی نانی کے شوہر ہونے کے ناتے اس کا نانا بھی تھا۔ خدا نے مجھے فرزندِ ارجمند عطا فرمایا جو اپنی دادی کا بھائی تھا اور سگے دادا کا سالا بھی۔‘‘ڈاکٹر نے پوچھا ’’پھر پریشانی کیا ہے؟‘‘۔وہ گویا ہوا ’’میرے دادا نے جائیداد بیٹوں میں تقسیم نہیں کی۔ وہ ابھی صحتمند ہے ایک سال قبل میری بیوی نے مجھ سے طلاق لے لی اور چند روز قبل میرے دادا کی دلہن بن گئی۔ ان کے ہاں جو اولاد ہو گی وہ میری کیا لگے گی۔ میری اولاد کی کیا لگے گی۔ میرے باپ اور سوتیلی ماں اور میری بہن کی کیا لگے گی؟ بس یہی سوچ رہا ہوں۔‘‘ابھی اس نے دادا کی جائیداد کی تقسیم کیلئے کسی رہنما کے پاس جانا تھا۔ ڈاکٹر بہت سے سوالات لے کر گھر چلا گیا۔ گھر پہنچ کر رشتے بناتا اور جوڑتا رہا وہ ان رشتوں کے جوڑ توڑ میں ایسا کھویا کہ ہفتے بعد اس کے گھر والے اسے پاگل خانے چھوڑ گئے۔

ایسی کئی الجھنیں، گنجلکیں ہماری سیاسی اشرافیہ کے دماغ کو بھی الجھائے ہوئے ہیں۔ ان کے حواریوں درباریوں کی ذہنی پسماندگی کے اسباب نہ سلجھنے والے ایسے الجھائو بھی ہیں۔ بڑے گرو عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چیلے گرو کے دل میں مقام بلند تر کرنے کے لئے رات بھر ایسے منصوبے بناتے بناتے سو جاتے ہیں جیسے وہ دانشور اور ڈاکٹربناتے بناتے فائونٹین ہائوس چلے گئے۔ دانش کا وہم اُن کو تھا اور زعم اِن کو بھی ہے۔ خود کو عقل کل سمجھنے میں حق بجانب بھی ہیں۔ پاگل خانے میں معائنے کے لئے بڑا افسر آیا ایک نوجوان کو خاموش اور سنجیدہ بیٹھے ہوئے دیکھا۔ اس سے گفتگو کی تو اپنی دانست میں صاحبِ فراست پایا۔ اس نے بتایاوہ پاگل نہیں، جائیداد کے باعث رشتے دارانتقاماً یہاں چھوڑ گئے۔ افسر نے کہا میں کل متعلقہ افسر سے بات کرکے تمہیں گھر بھجوا دوں گا۔ اس پر وہ شخص کھڑا ہو گیا، ایک ہاتھ گھٹنے تک لا کر ایکشن سے اوپر ایسے کھینچا جیسے رکشہ سٹارٹ کرنے کے لئے لیورکھینچا جاتا ہے۔ ساتھ ہی رکشہ سٹارٹ کرنے کی آواز نکالی اور کہا۔ ’’پیچھے بیٹھیں ابھی افسر کے پاس چلتے ہیں‘‘

آج عمران خان اور میاں نواز شریف کو ہمالہ کی چوٹی تک پہنچی ہوئی عوامی مقبولیت کا وہم ہے۔ ایک کو وزیراعظم ہائوس سے نکالے جانے کا غم کھا رہا ہے دوسرے کو وزیراعظم نہ بننے کا صدمہ گھلا رہا ہے۔ ہمارے فاضل سیاستدان اور ان کے ساتھی رات بھر سوچتے ہیں۔ گتھیاں سلجھانے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں صبح رات کی الجھن عوام کے سامنے رکھتے ہیں تو خود کو تماشہ بنا لیتے ہیں۔ اپنے آپ کومدبر اور دانشور باور کراتے ہیں۔ ہمارے ہاں ویسے بھی معاشرتی طور پر دانشوری کی ارزانی اور فراوانی ہے۔ غلط وقت پر غلط بات کرنا کوئی ہم سے سیکھے۔

خان اعظم کا دھرنا بڑی کامیابی سے جا رہا تھا۔ خورشید شاہ کہتے ہیں نواز شریف استعفیٰ دینے اور اسمبلیاں توڑنے پر تیار تھے اس کی میاں نواز شریف نے تردید نہیں کی مگر لوگ جس نواز شریف کو جانتے ہیں اس نے بندوق کی نوک پر بھی استعفیٰ نہیں دیا تھا۔ ایمپائر کی انگلی اٹھنے کی وعید پر کیسے تیار ہو سکتے تھے۔ عمران خان کا دھرنا ان کے ’’ایمپائر کی انگلی اٹھنے کے بیان سے ایکسپوز ہو گیا اور پھر ریحام خان سے شادی تب کی جب سانحہ اے پی ایس پر پورے ملک میں ماتم ہو رہا تھا۔ طلاق کا فیصلہ بھی بے موقع کر دیا۔ اب ایک نئی شادی پر تلے ہوئے ہیں۔ اس کو بھی ریحام سے شادی کی طرح معمہ بناد یا۔شادی کی ہے تو کہہ دیں، کی ہے۔ کرنی ہے تو کر لیں۔ ذاتی معاملہ ضرور ہے مگراپنے پبلک فگر ہونے کے ناطے لوگوں کو بات کرنے سے نہیں روک سکتے۔ بشارتوں، بجھارتوں اور خوابوں کے تذکرے نے عام آدمی کے لئے معاملے کو پراسرار بنا دیا ۔ کچھ لوگوں کو میاں نواز شریف کے دل میں اپنی محبت کے چراغوں کی لَو تیز کرنے کے لئے عمران کے خلاف الزامات لگانے اور انکے ساتھ نفرت کے اظہار کا ہتھیار ہاتھ آ گیا۔ جہاں تک ممکن ہے اپنا ہنر آزما رہے ہیں۔

خان کے کئی کارناموں کو ان کی حماقتیں گہنا دیتی اورزبان کی بے احتیاطی دھندلا دیتی ہے۔ پارلیمنٹ پر لعنت بھیج دی جس کا خود حصہ ہیں۔ پارلیمنٹ کو ایک عمارت کہہ رہے ہیں مسجد و مندر اور چرچ بھی تو عمارتیں ہی ہیں۔ ان کا ایک تقدس ہے۔ ویسے تو مسجد ضرار بھی مسجد تھی عمارت کے تقدس کا دارومدار اس کے استعمال اور استعمال کرنے والوں کے کردار و نیت پر بھی ہے۔ فرماتے ہیں۔’’ ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجرم کو اپنا سربراہ بنائے‘‘۔مجرم کو پوری پارلیمان نے سربراہ بنانے کا قانون منظور نہیں کیا۔ جن لوگوں نے کیا ان کی گرفت کریں۔ مسجد میں جرگہ ہوتاہے جس نے قتل اور ریپ کے مجرموں کو چھوڑ کر انصاف کا منہ کالا کر دیا۔ آپ کس پر برسیں گے؟ مسجد یا جرگے پر؟ پھر جرگے میں فیصلے کی مخالفت کرنے والے بھی ہوں گے جیسے پارلیمنٹ میں مذکورہ قانون کی مخالفت کی گئی۔ لعنت پر نہ صرف خان صاحب ڈٹ گئے بلکہ کہتے ہیں میں نے چھوٹا لفظ استعمال کیا۔ ان پر ڈٹ جانا خود ان کے لئے بھاری اور بے موقع ثابت ہوا۔خان صاحب نے سیٹ بیلٹس باندھنے کا مشورہ دیتے ہوئے پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کیا،واقعی یہ پریس کانفرنس بڑی زبردست ہو سکتی تھی۔ انہوں نے شریف خاندان کی پولیس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے ثبوت لہرائے۔ مگر پارلیمنٹ پر لعنت کی کہانی پاکستان کی سیاست کے منظر نامے پر چھائی رہی ۔…ع

شہنائیوں کی گونج میں دب کے رہ گئی آہ دیوانے کی

عمران خان کے لعنت کے بیان پر پارلیمنٹیرین نے شیخ پا ہونا ہی تھا چنانچہ خان اور شیخ رشید کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کر لی۔یہ محض قرارداد ہے کوئی قانون نہیں۔ ڈرون گرانے اور کالاباغ ڈیم بنانے جیسی بے شمار قراردادیں منظور ہو چکی ہیں۔

عمران خان پاناما لیکس کی دوسری قسط کے دعوے کے ساتھ سامنے آئے۔ محبان نواز شریف کے سامنے سپریم کورٹ کے فیصلے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، خان کی پریس کانفرنس کی حیثیت؟ ورکرز کا اپنے لیڈر کے بارے میں کوّا سفید ہی رہتاہیْ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کوئی اپنے لیڈر کو بے ایمان قرار دینے کو مان کر نہیں دے رہا۔ ان کا لیڈر، سرے محل میں رہے،بنی گالا میں رہے یامے فیئر فلیٹس ملکیت کی ہاں اور ناں کے درمیان معلق ہو،وہ حواریان اور حمایتیان کیلئے خود سے بڑھ کر صادق اور امین ہے۔

وابستگان درگاہ اقتدارِ حالیہ و امراجاتیہ، میاں صاحب کو مدبراعظم قرار دیتے ہیں۔میاں صاحب کی سوئی ایک ہی فقرے پر جو مصرعہ بن چکا ہے‘ اٹکی ہوئی ہے۔ امریکہ جارحیت کی دھمکی، وہ پاکستان کی امداد بند کرے، ایل او سی ہاٹ ہو، ورکنگ بائونڈری پر بھارت گولہ باری کرکے خواتین او ربچوں کو بھی خاک اور خون میں نہلا دے۔ عمران پارلیمان پر تبریٰ کریں بلوچستان میں ن لیگ لیٹ اور اقتدار لپٹ جائے، ان کی زبان پر مجھے کیوں نکالا ہی ہوتا ہے جواب ’’مصرع طَرح‘‘ بن گیا ہے۔

کہتے ہیں سو روپے کی بھی کرپشن نہیں کی۔ مخالفین تین ارب کی بات کرتے ہیں۔ کیس نیب میں ہیِ جہاں بھی کاریگری نظر آتی ہے۔ استغاثے کا گواہ،گواہی دے کر کورنش بجا لاتا ہے۔ حدیبیہ پیپر مل کیس میں باریک بینی کی باتیں ہورہی ہیں نیب عدالت کا فیصلہ کیا ہو سکتا ہے؟ اس کا انحصار فیصلے کی ٹائمنگ پر بھی ہے۔ اگر یہ لیگی حکومت کے دوران آیا تو کچھ، نگران حکومت ہوئی تو ’’دینے‘‘ پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں