جنسی ہراسانی کے باعث نوبل انعام برائے ادب ملتوی کردیا گیا

2018 ,مئی 4



اسٹاک ہوم(مانیٹڑنگ ڈیسک): جنسی ہراسانی کے الزامات کے باعث سات دہائیوں میں پہلی مرتبہ ادب کا نوبل انعام تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق نوبل انعام دینے والی سوئیڈش اکیڈمی کی جانب سے اس سال ادب کے نوبل انعام کے لیے ناموں کا اعلان میں تعطل آگیا ہے۔ ایسا اکیڈمی میں ستر سال بعد ہونے جا رہا ہے جبکہ اس سے قبل 1935 میں تاخیر ہوئی تھی۔ اس سال تاخیر کی وجہ جنسی ہراسانی کے الزامات اور مالی بے ضابطگیاں ہیں۔ اکیڈمی اب نوبل انعام برائے ادب 2018 کےلیے ناموں کا اعلان اگلے سال 2019 کےلیے ناموں کے ساتھ کرے گی۔

نوبل انعام میں تاخیر کا معاملہ اکیڈمی کی ایک خاتون ممبر کے شوہر پر جنسی ہراسانی کے الزام کے بعد سامنے آیا جب کمیٹی کی ممبر نے اپنے شوہر پر لگنے والے الزمات کے بعد کمیٹی سے علیحدگی اختیار کرلی۔ خاتون ممبر کے شوہر ایک فوٹو گرافر ہیں جو سوئیڈش اکیڈمی کےلیے ایک کلچرل پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے۔ اس دوران 18 خواتین نے ان پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔

سوئیڈش اکیڈمی کے ممبران نے خاتون ممبر کترینا فورسٹینسن کو بے قصور قرار دیتے ہوئے ان کی برطرفی کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ تاہم خاتون ممبر نے کمیٹی سے علیحدگی اختیار کرلی جب کہ کمیٹی کے ایک رکن کرسٹن اکمان 1989 سے غیر فعال ہیں، اس طرح ممبرز کی تعداد 10 رہ گئی ہے جب کہ نئے ممبر کے چناؤ کےلیے 12 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔واضح رہے کہ نوبل انعام برائے ادب سویڈن کے ایک ادارے ’’دی سوئیڈش اکیڈمی‘‘ کی جانب سے ہر سال کسی بھی زبان میں ادب کے شعبے میں اہم کارکردگی دکھانے والے ادیب کو دیا جاتا ہے اور اس کمیٹی کے اراکین تاحیات ممبر ہوتے ہیں جو تکنیکی طور پر اپنی ذمہ داری سے استعفیٰ نہیں دے سکتے۔

متعلقہ خبریں