بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی ؟؟ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو فوری گرفتار کرنے کا فیصلہ، عید سے قبل ہی ن لیگ کی خوشیاں مدھم پڑ گئیں

2019 ,مئی 22



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نیب حکام نے قطر سے 20 ارب ڈالر ایل این جی سکینڈل کی تحقیقات مکمل کرلی ہیں تحقیقات میں اربوں ڈالر کی کرپشن کے ناقابل تردید ثبوت مل گئے ہیں جن کی روشنی میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی‘ اوگرا کی چیئرمین عظمیٰ عادل‘ ممبر اوگرا عامر نسیم سابق سیکرٹری پیٹرولیم ارشد مرزا اور پی ایس او کے ایم ڈی شیخ عمران الحق کو فوری گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے’ان ملزمان کے خلاف کرپشن کے ثبوت ملنے کے بعد متعلقہ حکام نے گرفتاری کیلئے چیئرمین نیب سے اجازت طلب کرلی ہے۔ نیب کی تحقیقات میں یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ نواز شریف حکومت نے ایل این جی درآمد میں رولز 2007 ء کے تحت تمام قوانین کو نظر انداز کرکے معائدے کئے تھے جبکہ ایل این جی کی قیمت کے تعین کیلئے برینٹ کو ریفرنس کے طور پر استعمال کیا گیا جو کہ غیر قانونی اقدام ہے۔ نواز شریف حکومت نے واویلا کیا تھا کہ یہ معائدہ حکومت پاکستان اور حکومت قطر کے مابین ہے لیکن درحقیقت یہ معاہدہ پبلک کمپنیوں کے مابین ہے۔ نیب تحقیقات میں یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ معائدہ میں غیر قانونی شقیں ڈالی گئیں جس کا غیر ضروری مالی بوجھ پاکستانی عوام پر ڈالا گیا تھا جس میں ایل پی جی کی شپ انسپکشن کے اخراجات بھی حکومت پاکستان ہی ادا کرے گی۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایل این جی کو درآمد کرنے کے لئے ملک میں گیس کی قیمت اضافہ کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری اوگرا پر عائد کی گئی ہے اوگرا کے غلط فیصلوں کی بدولت گیس چوری کے 12 ارب روپے کا عوام پر بوجھ ڈالا گیا ہے جبکہ حکومت نے مالی بوجھ کو ملک کے اندر گیس کی پیداوار کو کم کیا تھا۔ ایل این جی معائدے پیپرا رولز کی خلاف ورزی ہے۔

متعلقہ خبریں