ملکی معیشت کے لیے اچھی خبر ،اربوں ڈالر کا ادھار تیل اور آسان شرائط پر قرضہ۔۔۔ عمران خان کے لیے ایک اور بڑا سر پرائز آگیا

2019 ,مئی 22



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کی جانب سے فراہم کردہ ادھار تیل کی ادائیگی جلد کرنے کی کوئی پابندی نہیں، 3 سال کے دوران پاکستان کو ادھار تیل کی فراہمی سے 9 ارب 60 کروڑ ڈالرز کا فائدہ ہوگا، معیشت کی صورتحال بہتر ہونے پر ہی ادھار تیل کی رقم کی ادائیگی کی جائے گی۔  پاکستان کے مشکل معاشی حالات میں سعودی عرب ایک مرتبہ پھر سے پاکستان کی مدد کرنے کو تیار ہو گیا ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب کی ادھار تیل کی رقم کی فوری ادائیگی نہیں کرنا ہوگی۔ سعودی عرب کی جانب سے فراہم کردہ ادھار تیل کی ادائیگی جلد کرنے کی کوئی پابندی نہیں۔ 3 سال کے دوران پاکستان کو ادھار تیل کی فراہمی سے 9 ارب 60 کروڑ ڈالرز کا فائدہ ہوگا۔معیشت کی صورتحال بہتر ہونے پر ہی سعودی عرب کو ادھار تیل کی رقم کی ادائیگی کی جائے گی۔واضح رہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو تین ارب ڈالرز کا سالانہ اور تین سال کیلئے 9 ارب ڈالرز سے زائد کا ادھار تیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اعلیٰ سطح کے رابطے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت مشکل حالات میں پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کی خواہاں ہے۔ اسی لیے سعودی حکومت جلد سے جلد پاکستان کو ادھار تیل کی فراہمی کا آغاز کرنا چاہتی ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان طے پائے معاہدے کے تحت برادر دوست اسلامی ملک سے پاکستان کو ادھار تیل فراہمی کا آغاز یکم جولائی سے کیا جائے گا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کو اس حوالے سے اہم پیش رفت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث درآمدی بل میں اضافہ ہوا۔ رواں مالی سال میں پاکستان 10 ارب ڈالر کا تیل برآمد کر چکا ہے۔دونوں ممالک کے حکام تیل کی اُدھار ادائیگی کا طریقہ کار طے کر چکے ہیں۔خیال رہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ سے ہی مشکل حالات میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی اپنے دورہ پاکستان کے دوران بھی پہلے مرحلے میں پاکستان میں بیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط ہوگئے ہیں۔ان شعبوں میں توانائی، بجلی ،صحت، کھیل ، سیاحت، معدنیات، زراعت سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب گوادر میں10ارب ڈالر کی آئل ریفائنری لگائے گا۔گوادر تیل سپلائی کرنے کا مرکز بنے گا۔آئل ریفائنری کے قیام سے پاکستان کو 7ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔ سعودی ولی عہد نے پاکستان کے مختلف شعبوں میں بھی مزید سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اب پاکستان کی ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ایک مرتبہ پھر سے سعودی عرب پاکستان کی مدد کرنے کو تیار ہے۔

متعلقہ خبریں